رسائی کے لنکس

logo-print

سالسبری حملے کے ملزمان عام شہری ہیں: پوٹن کا دعویٰ


فائل فوٹو

برطانیہ میں حکام نے گزشتہ ہفتے ان دونوں افراد پر ان کی غیر موجوگی میں سابق روسی جاسوس سرگئی اسکریپال اور ان کی بیٹی یولیا کو زہر دینے کی فردِ جرم عائد کی تھی۔

روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے تسلیم کیا ہے کہ وہ دونوں مشتبہ افراد روسی شہری ہیں جنہیں برطانوی حکام نے ایک سابق روسی جاسوس کو زہر دینے کا ملزم قرار دیا ہے۔

لیکن روسی صدر نے کہا ہے کہ دونوں مشتبہ افراد عام شہری ہیں اور ان کے کسی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہونے کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا ہے۔

بدھ کو معیشت کے موضوع پر ہونے والی ایک کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے صدر پوٹن نے اس تاثر کی تردید کی کہ مذکورہ دونوں افراد روسی فوج کے ملازم ہیں۔

برطانیہ میں حکام نے گزشتہ ہفتے ان دونوں افراد پر ان کی غیر موجوگی میں سابق روسی جاسوس سرگئی اسکریپال اور ان کی بیٹی یولیا کو زہر دینے کی فردِ جرم عائد کی تھی۔

برطانوی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ دونوں مشتبہ افراد مبینہ طور پر روسی انٹیلی جنس کے ایجنٹ ہیں۔

اسکری پال اور ان کی صاحبزادی پر رواں سال مارچ میں برطانیہ کے قصبے سالسبری میں نووی چوک نامی اعصابی گیس سے قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا جس کے باعث دونوں افراد کئی ماہ تک زیرِ علاج رہے تھے۔

بعد ازاں اس حملے میں استعمال کی جانے والی گیس کا کنٹینر چھونے والی ایک اور خاتون انتقال کرگئی تھیں۔

برطانوی حکومت کی جانب سے جاری کی جانے والے مشتبہ ملزمان کی تصاویر
برطانوی حکومت کی جانب سے جاری کی جانے والے مشتبہ ملزمان کی تصاویر

برطانیہ نے اس حملے کا الزام روس پر عائد کیا تھا جس کی روس نے تردید کی تھی۔ لیکن برطانیہ، امریکہ اور ان کے دو درجن اتحادی ملکوں نے اس واقعے کے ردِ عمل میں لگ بھگ 150 روسی سفارت کاروں کو اپنے ہاں سے بے دخل کردیا تھا۔

اس اقدام کے جواب میں روس نے بھی اپنے ہاں تعینات ان ملکوں کے لگ بھگ اتنے ہی سفارت کار ملک بدر کردیے تھے۔

اس واقعے کے بعد سے برطانیہ اور روس کے تعلقات سخت کشیدہ ہیں۔اس واقعے کے بعد برطانوی وزیرِ اعظم تھریسا مے نے دعویٰ کیا تھا کہ حملے میں روس کی خفیہ ایجنسی 'جی آر یو' کے اہلکار ملوث تھے اور حملے کا حکم روسی ریاست کے کسی اعلیٰ عہدیدار نے دیا تھا۔

بدھ کو ایک پینل انٹرویو کے دوران صدر پوٹن نے میزبان کے سوال پر حاضرین کو بتایا کہ روسی حکام نے ان دونوں افراد کا پتا چلا لیا ہے جن پر برطانیہ نے اس حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

صدر پوٹن نے کہا کہ وہ یقین دلاتے ہیں کہ ان افراد میں کوئی خاص بات نہیں اور نہ ہی وہ کسی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ دونوں افراد برطانوی دعوے کے برعکس روسی فوج کے ملازم نہیں بلکہ عام شہری ہیں۔

صدر پوٹن نے کہا کہ وہ ان دونوں افراد سے کہیں گے کہ وہ منظرِ عام پر آکر ذرائع ابلاغ سے بات کریں اور انہیں اپنے بارے میں حقیقت بتائیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG