رسائی کے لنکس

logo-print

قندیل قتل کیس میں ملزم کی درخواست ضمانت خارج


قندیل بلوچ ، فائل فوٹو

ایم جے گوپانگ

ملتان کی ایک عدالت نے معروف ماڈل قندیل بلوچ کے قتل کے مرکزی ملزم اور اس کے بھائی محمد وسیم کی ضمانت کی درخواست خارج کر دی ہے ۔جب کہ اس کیس کے مدعی اور قندیل بلوچ کے والد نے عدالت میں یہ حلفی بیان دیا کہ اگر عدالت اس کے بیٹے وسیم کو ضمانت دینا چاہے تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ۔ مدعی کے وکیل کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ کیس مدعی کے بیٹے کی حد تک صلح کی طرف بڑھ رہاُہے ۔

ملتان کے ایڈیشنل سیشن جج سردار اقبال ڈوگر کی عدالت میں ملزم محمد وسیم کے وکیل سردار محبوب عالم نےدرخواست دائر کی تھی کہ ملزم کو ضمانت دی جائے کیونکہ دو سال گزرنے کے باوجود استغاثہ اب تک اسے مجرم ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔

درخواست کی سماعت کے دوران ایک اہم بات یہ ہوئی کہ اس کیس کے مدعی عظیم بخش ماہڑا کی طرف سے ،جو قندیل بلوچ کے والد ہیں ، عدالت میں ایک بیان حلفی داخل کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ انہیں وسیم کی ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں ۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد اور مدعی کے بیان حلفی کو بھی نظر انداز کرتے ہو ملزم کی ضمانت کی درخواست خارج کردی۔

اس کیس میں مدعی کی طرف سے بیٹے کے حق میں بیان حلفی پر مدعی کے وکیل صفدر شاہ کا کہنا ہے کہ بیان حلفی میں یہ نہیں لکھا کہ ہم نے اسے معاف کر دیا ۔ یا وہ بے گناہ ہے۔ اسے بے گناہ قرار نہیں دیا۔ یہ بھی نہیں کہا کہ ہم نے اسے معاف کر دیا ہے۔ صرف یہ لکھا ہے کہ اس کی ضمانت کی حد تک اعتراض نہیں ہے۔ اگر اس کی ضمانت ہو جائے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ماں نے بھی لکھ کر دیا ہے باپ نے بھی لکھ کر دیا ہے اور انہوں نے عدالت میں یہی بیان بھی دیے ہیں۔معاملہ صلح کی طرف جا رہا ہے۔ اگر ملزمان کوئی کوشش کریں تو میرے خیال میں یہ صلح کی طرف جا سکتا ہے۔ اگر چھ ملزم ہیں پانچ ہیں سات ہیں قتل میں ہمیشہ یہ ہوتا ہے کے اگر مدعی کسی کو معاف کردے تو وہ معاف ۔ اگر نہ کرے تو پھر اس کو سزا ہو جاتی ہے۔

عدالت کی طرف سے اہم ملزم کی ضمانت خارج ہو گئی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ مقدمے کے مدعی کی طرف سے، جو ملزم کا والد ہے، اپنے بیٹے کے لیے نرمی ظاہر ہو رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG