رسائی کے لنکس

logo-print

قطر ایک لاکھ پاکستانیوں کو روزگار فراہم کرے گا: قونصل جنرل


قطر میں پاکستانیوں سمیت غیر ملکی کارکن سٹیڈیم کی تعمیر میں مصروف ہیں۔ فائل فوٹو

قونصل جنرل نے کہا ہے کہ قطر اور پاکستان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کیلئے کوشاں ہیں اور اس سلسلے میں اُن کا ملک پاکستان کی طرف سے کی جانے والی پیشکش سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کا خواہشمند ہے

کراچی میں قطر کے قونصل جنرل مشال ایم الانصاری نے کہا ہے کہ قطر ایک لاکھ پاکستانیوں کو قطر کی مختلف صنعتوں اور شعبوں میں ملازمت کی غرض سے ویزے جاری کرے گا۔

وہ بدھ کے روز سندھ کے شہر مٹیاری میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ قطر نے ایک ماہ قبل کراچی اور اسلام آباد میں ویزا سنٹر کھول دئے تھے جہاں ویزے جاری کرنے سے متعلق تمام سہولتیں فراہم کر دی گئی ہیں، جن میں فنگر پرنٹنگ اور بائیومیٹرک ڈیٹا ریکارڈ کرنے کے علاوہ طبی معائنے اور آجروں کے ساتھ کنٹریکٹ مکمل کرنے کی سہولتیں شامل ہیں۔

مشال الانصاری کا کہنا تھا کہ 150,000 پاکستانی پہلے ہی مختلف صنعتوں اور شعبوں میں قطر میں ملازمت کر رہے ہیں اور اُن کا ملک مزید ایک لاکھ پاکستانیوں کو ملازمت کیلئے ویزے جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

قونصل جنرل نے کہا ہے کہ قطر اور پاکستان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کیلئے کوشاں ہیں اور اس سلسلے میں اُن کا ملک پاکستان کی طرف سے کی جانے والی پیشکش سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کا خواہشمند ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنی کابینہ کے ارکان کے ہمراہ 21 جنوری کو قطر کا دو روزہ سرکاری دورہ کیا تھا اور قطر کے رہنماؤں سے ملاقاتوں کے دوران اُنہوں نے دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے اور پاکستان میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے حوالے سے بھی بات چیت کی تھی۔

اُس وقت عمران خان نے قطر کی قیادت سے کہا تھا کہ وہ ایک لاکھ پاکستانیوں کو قطر میں روزگار فراہم کرنے کے سلسلے میں اقدامات کریں۔ قطر کی حکومت نے مثبت جواب دیتے ہوئے اس سلسلے میں عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔

’مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ‘ سے وابستہ ماہر معاشیات، ڈاکٹر زبیر اقبال نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب قطر کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے اختلاف پیدا ہوئے تھے تو قطر نے ایسے ممالک سے قطر آ کر کام کرنے والوں کے معاہدوں کی تجدید روک دی تھی جو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حمایت کرتے رہے ہیں جن میں خاص طور پر مصر جیسے ممالک شامل ہیں۔ یوں، قطر میں مختلف شعبوں میں ہنرمند اور نیم ہنر مند کارکنوں کی قلت پیدا ہونا شروع ہو گئی تھی۔

ڈاکٹر زبیر اقبال کا کہنا تھا کہ ’فیفا ساکر ورلڈ کپ 2022‘ کی میزبانی قطر کو دے دی گئی ہے۔ لہٰذا، اس بڑے عالمی ٹورنمنٹ کے انعقاد کے سلسلے میں قطر میں انفراسٹرکچر تیار کیا جا رہا ہے، جس کیلئے اسے متعلقہ شعبوں میں ہنر مندوں کی ضرورت ہے اور اس کیلئے پاکستانی کارکن مطلوبہ انسانی وسائل کے حصول کیلئے ایک پرکشش منڈی ہے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ قطر انسانی وسائل کیلئے اُن ممالک پر انحصار کم کرتا جا رہا ہے جو قطر میں آکر اُن کیلئے پریشانی کا باعث بنتے تھے۔ لہذا، اُنہوں نے اس سلسلے میں مغربی ممالک کے بجائے پاکستان اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک پر انحصار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ڈاکٹر زبیر اقبال کا کہنا تھا کہ ایک لاکھ پاکستانیوں کو قطر میں روزگار کی فراہمی سے ایسے وقت میں ترسیلات زر میں اضافہ کرنے کے مواقع فراہم ہوں گے جب پاکستان کی برآمدات میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے اور زرمبادلہ کیلئے پاکستان کو ترسیلات زر پر زیادہ انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔

تاہم، اُنہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں گر گئیں تو قطر اور دیگر خلیجی ممالک میں ترقیاتی اقدامات سست روی کا شکار ہو سکتے ہیں اور یوں، ’لیبر‘ کی مانگ بھی کم ہو سکتی ہے۔

وائس آف امریکہ اردو کی سمارٹ فون ایپ ڈاون لوڈ کریں اور حاصل کریں تازہ تریں خبریں، ان پر تبصرے اور رپورٹیں اپنے موبائل فون پر۔ ڈاون لوڈ کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

اینڈرایڈ فون کے لیے: https://play.google.com/store/apps/details?id=com.voanews.voaur&hl=en

آئی فون اور آئی پیڈ کے لیے: https://itunes.apple.com/us/app/%D9%88%DB%8C-%D8%A7%D9%88-%D8%A7%DB%92-%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88/id1405181675

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG