رسائی کے لنکس

logo-print

مہندا راجہ پکسے ایک بار پھر سری لنکا کے وزیرِ اعظم بن گئے


مہندا راجہ پکسے سے وزارت عظمی کا حلف ان کے چھوٹے بھائی اور سری لنکا کے صدر گوتابایا راجہ پکسے نے لی۔

سری لنکا کے سابق صدر مہندا راجہ پکسے نے ایک بار پھر سری لنکا کے وزیرِ اعظم کا حلف اٹھا لیا ہے۔

مہندا راجہ پکسے سے حلف ان کے چھوٹے بھائی اور سری لنکا کے صدر گوتابایا راجہ پکسے نے لیا۔

حلف برداری کی تقریب اتوار کو دارالحکومت کولمبو کے قریب بدھ مت کی عبادت گاہ کھلانیا راجہ مہا میں ہوئی۔

حالیہ انتخابات میں 'سری لنکا پیپلز فرنٹ' پارلیمان میں دو تہائی اکثریت حاصل کی ہے۔ اس سیاسی جماعت کی قیادت راجہ پکسے برادران کر رہے ہیں۔

بدھ کو ہونے والے انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے بعد 'سری لنکا پیپلز فرنٹ' کو آئین میں واضح تبدیلی کا اختیار حاصل ہو گیا ہے۔

مبصرین کے مطابق انتخابی کامیابی سے اس جماعت کو پکسے خاندان کی ملک پر حکمرانی کو مزید مضبوط کرنے کا بھی موقع مل گیا ہے۔

سری لنکا میں نقاب پہننے پر پابندی
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:25 0:00

مہندا راجہ پکسے 2005 سے 2015 تک سری لنکا کے صدر رہے ہیں۔ ان کی صدارت میں ہی 2009 میں تامل باغیوں کے خلاف 25 سال سے جاری جنگ کا خاتمہ ہوا تھا جس کی وجہ سے انہیں سری لنکا کی اکثریتی 'سنہالیز' نسل کی بھر حمایت حاصل رہی ہے۔

مہندا راجہ پکسے 2004 میں کچھ وقت کے لیے وزیرِ اعظم رہے تھے جب کہ 2018 اور 2019 میں بھی کچھ وقت انہوں نے وزیرِ اعظم کے عہدے پر گزارا۔

حالیہ انتخابات میں سری لنکا پیپلز فرنٹ نے 225 رکنی ایوان کی 145 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔

دوسری بڑی جماعت 'سماگی جنا بالاویگیا' نے 54 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جب کہ تامل علاقوں کی نمائندہ جماعت کو 10 نشستیں مل سکیں اسی طرح دیر 12 چھوٹی جماعتوں نے مجموعی طور پر 16 نشستیں اپنے نام کیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG