رسائی کے لنکس

logo-print

کیا غم کی کیفیت میں مذہب سہارا بنتا ہے؟


پوپ فرینسس اور جامعہ الاظہر کے شیخ احمد الطیب (فائل)

دنیا کے اکثر مذاہب کا راستہ انسانوں نے سکون کی تلاش میں اختیار کیا۔ اکثر مذاہب انسانوں کو انسانیت سے جوڑنے کا پیغام دیتے ہیں۔

کیا مذہب غم کی کیفیت میں واحد سہارا ہے ؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:07:22 0:00

انسانی المیوں، قدرتی آفات اور حادثات میں قیمتی رشتوں سے محروم ہونے والے اکثر تکلیف کی شدت کو کم کرنے اور غم کی مسلسل کیفیت سے نجات پانے کے لئے مذہب اور خدا سے تعلق میں پناہ تلاش کرتے ہیں۔ خصوصاً اس صورت میں جب دکھ اتنا بڑا ہو کہ برداشت کا چارہ نہ رہے۔

غم ہے کیا؟ اس کیفیت کے بارے میں امریکی ریاست ایریزونا میں ماہرِ نفسیات اور امریکن بورڈ آف سائیکیٹرسٹ اینڈ نیو رولو جسٹس سے سند یافتہ کریکشنل سائیکیٹرسٹ ڈاکٹر اختر حامدی کہتے ہیں کہ انسان غم کا شکار ہوتا ہے تو اس پر پانچ طرح کی کیفیتیں طاری ہو سکتی ہیں۔

ایک تو یہ نفی کہ ایسا میرے ساتھ نہیں ہو سکتا، دوسرے برہمی کہ ایسا میرے ہی ساتھ کیوں ہوا، تیسرے بچنے کی کوشش کہ اگر ایسا نہ ہوا تو میں یہ نذر دوں گا، چوتھے مرحلے میں اس پر انتہائی مایوسی کی کیفیت اور پانچواں مرحلہ وہ ہے جب انسان اس سانحے کو قبول کر لیتا ہے۔

ڈاکٹر حامدی کہتے ہیں کہ یہ وہ مرحلہ ہے جب انسان کسی ایسی ہستی کے سامنے سپرد ہوجاتا ہے جسے وہ کائنات کا مالک تصور کرتا ہے۔ گویا مذہب میں پناہ تلاش کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں اس آخری مرحلے میں انسان جتنا جلد داخل ہوتا ہے اتنا ہی تیزی سے اس کی بحالی کا سلسلہ بھی شروع ہوتا ہے۔

ڈاکٹر زاہد بخاری ورجینیا میں سنٹر فار اسلام اینڈ پبلک پالیسی کے ایگزیکٹیو ڈئیریکٹر ہیں۔ بقول ان کے، انسانی فطرت ہے کہ مصیبت کے وقت وہ میں کسی کو ضرور پکارتا ہے، مذہبی سہارا تلاش کرتا ہے، حتیٰ کہ وہ لوگ جو کسی مذہب کو نہیں مانتے وہ بھی غم کی صورت میں اپنے کسی خدا کی جانب ضرور رجوع کرتے ہیں۔

ایسے لوگوں کے بارے میں ڈاکٹر حامدی کہتے ہیں گو کہ بعض لوگ کسی مذہب کو نہیں مانتے مگر ان کے پاس بھی ایک چیز ہے، جسے وہ کوسموس کہتے ہیں۔ وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ ایک حد تک وہ اپنی کوششوں سے پہنچتے ہیں اور پھر کوئی غیر مرئی قوت ہے خواہ وہ توانائی کی صورت میں ہو یا کسی مادے کی صورت میں۔

وہ سمجھتے ہیں کہ مرنے والا ایک کاربن کی صورت میں ختم ہو گیا اور وہ بھی ایسے ہی ختم ہو جائیں گے۔ ڈاکٹر حامدی کے نزدیک ایسے لوگوں کا غم دور ہونے میں شاید زیادہ وقت لگے مگر سہارا انہیں بھی چاہئے۔

ڈاکٹر بخاری نے کہا کہ دعا کا تصور ہر مذہب میں موجود ہے اور یہ کتنا بڑا سہارا ہے اس کا احساس کرونا وائرس کی وبا کے دوران ہو چکا ہے، جب ہر مذہب کے رہنماؤں نے مشترکہ دعا کا طریقہ اپنایا۔

اس سلسلے میں پوپ فرانسس نے دو مئی کو ایک خطاب میں تمام مذاہب کے ماننے والوں پر زور دیا کہ وہ 14 مئی کو دعا کا دن منائیں اور خدا سے دعا کریں کہ وہ انسانوں کو اس وبا سے نجات دے۔

ابتدا میں یہ تجویز ہائی کمیٹی فار ہیومین فرٹرنیٹی کی جانب سے آئی تھی جو ستمبر 2019ء میں قائم کی گئی تھی۔ جس پر پوپ فرانسس اور جامعہ الا ظہر کے امامِ اعظم شیخ احمد الطیب نے دستخط کئے تھے۔

اجتماعی دعا کا تصور ہر مذہب میں موجود ہے۔ اسی لئے امریکہ میں نیشنل کونسل آف چرچز نے بھی اس وبا کے حوالے سے ایک خط میں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کو مخاطب کر کے کہا کہ این سی سی نے قومی سطح پر بودھ۔، ہندو، یہودی، مسلمان اور سکھ کمیونیٹیز کے ساتھ بات کی ہے۔ اور آج جبکہ پورا ملک بلکہ پوری دنیا کو کرونا وائرس کی وبا کا سامنا ہے ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔

ڈاکٹر حامدی نے کہا کہ انتہائی غم کی ابتدا میں تو انسان حواس باختہ سا رہتا ہے مگر جب لوگ اس کی دلجوئی کیلئے پہنچتے ہیں تو اس کی نفسیاتی حالت بہتر ہو نا شروع ہوتی ہے۔ مگر اس کے پوری طرح سنبھلنے میں دخل اس بات کا ہے کہ اس میں غم سے نمٹنے کی اہلیت کتنی ہے۔

ڈاکٹر زاہد بخاری کہتے ہیں کہ مصیبت کے وقت انسان اگر شکوہ کرے تو وہ ذاتی سطح پر ہوتا ہے۔ اجتماعی دکھ اس میں برداشت کی قوت بڑھا دیتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ غم سے نجات ملتے ہی انسان سہاروں سے بے نیاز ہو جاتا ہے خواہ یہ سہارا مذہب ہی کا کیوں نہ ہو۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG