رسائی کے لنکس

logo-print

جج کی مبینہ ویڈیو کا نوٹس عدلیہ کو لینا چاہیے: وفاقی حکومت


اطلاعات کی وفاقی مشیر، فردوس عاشق اعوان

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی طرف سے جاری کردہ ویڈیو اسکینڈل میں، ان ویڈیوز کا فرانزک آڈٹ کروانے کا اعلان واپس لیتے ہوئے، وفاقی حکومت نے اعلیٰ عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ اس کا نوٹس لے کر ویڈیو معاملے کی خود تفتیش کرے۔

وزیر اعظم عمران خان کا بھی کہنا ہے کہ عدلیہ کو جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کا نوٹس لینا چاہیے، چونکہ ن لیگ ماضی میں بھی عدلیہ پر دباؤ ڈالتی رہی ہے۔

اسلام آباد میں وزیر اعظم کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس ہوا، جس میں عمران خان نے کہا کہ ’’اداروں کو متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ن لیگ ماضی میں بھی عدلیہ پر دباوٴ ڈالتی رہی ہے۔ لیکن، یہ نیا پاکستان ہے اور اب ایسا نہیں چلے گا‘‘۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ’’اپوزیشن کا کوئی حربہ کارگر ثابت نہیں ہو سکے گا اور احتساب کا عمل جاری رہے گا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’ن لیگ کے ہتھکنڈوں اور اداروں پر حملوں کا منہ توڑ جواب دیا جائے‘‘۔ جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ’’اس معاملے میں حکومت کو فریق نہیں بننا چاہیے، عدلیہ آزاد اور خود مختار ہے، عدلیہ کو مبینہ ویڈیو کا نوٹس لینا چاہیے‘‘۔

حکومت کی جانب سے مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے فرانزک آڈٹ کروانے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم، اب ان کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اس معاملے کا نوٹس لے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’احتساب عدالت کے جج کی مبینہ وڈیو کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ جج کے خلاف ویڈیو اس نے پیش کی جو جعلسازی میں سزا یافتہ ہے‘‘۔

شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ ’’اسلام آباد کی احتساب عدالت اسلام آباد ہائی کورٹ کے ماتحت ہے۔ اس لیے وہ عدالت ہی اس حوالے سے تحقیقات کا متعلقہ فورم ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے تحقیقات کروانے پر جانبداری کا الزام لگ سکتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس ویڈیو کو ’’جعلی اور مفروضوں پر مبنی‘‘ جج ارشد ملک کی پریس ریلیز آنے کے بعد کہا تھا۔

موجودہ صورتحال میں تین روز گزرنے کے بعد بھی ان ویڈیوز پر سیاسی بحث اور مباحثہ تو جاری ہے، لیکن عملی طور پر ان کے لیے اب تک کوئی اقدام نہیں ہوا۔

حکومت فرانزک آڈٹ کروانے کے اعلان سے پیچھے ہٹ چکی ہے، جبکہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ عدالتی تعطیلات کے بعد بیرون ملک روانہ ہوگئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے بھی اب تک اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

پاکستان میں آڈیو ویڈیو اسکینڈلز

پاکستان میں عدالتوں سے متعلق اور دیگر معاملات پر ویڈیو اور آڈیو اسکینڈل پہلی مرتبہ سامنے نہیں آئے۔ اس سے قبل سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں آڈیو ٹیپس کا اسکینڈل سامنے آیا جس میں جسٹس قیوم کو شہباز شریف اور سیف الرحمان کالز کرکے بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف فیصلوں کا کہتے رہے۔ ایک ویڈیو اسکینڈل بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کا سامنے آیا جس میں ایک ٹی وی پروگرام کی ویڈیو لیک کی گئی جس میں وہ اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کے صاحبزادے ارسلان افتخار کے خلاف پروگرام کر رہے تھے۔

اس ویڈیو کے بعد تحقیقات کے لیے کمیشن بنا۔ لیکن کچھ بھی حاصل نہ ہو سکا۔ موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی دھرنوں کے دوران ایک آڈیو ٹیپ بھی سامنے آئی جس میں عمران خان موجودہ صدر عارف علوی کو پی ٹی وی کی عمارت پر قبضے پر مبارکباد دے رہے تھے۔ ان تمام ویڈیو یا آڈیو اسکینڈلز کے بعد تحقیقات کے اعلان تو بہت کیے گئے، لیکن کوئی مسئلہ حل نہ ہوسکا۔

اب کی بار بھی، فرانزک آڈٹ کا اعلان حکومت کی جانب سے واپس لیا گیا ہے۔

فردوس عاشق اعوان کہتی ہیں کہ اگر حکومت فرانزک آڈٹ کروائے گی، تو اپوزیشن حکومتی اداروں کی نگرانی میں آڈٹ ہونے پر اعتراض کرے گی۔ لہٰذا، یہ معاملہ عدلیہ پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG