رسائی کے لنکس

logo-print

آپ کی زندگی میں رشتہ آنٹی کا کتنا کردار رہا؟


بوسٹن میں ہاروڈ کی طالبہ نشرہ بلگم والا نے پاکستان میں رشتہ والی آنٹی کے ساتھ اپنے ذاتی تجربہ کے بعد ایک ایسی بورڈ گیم تیار کی ہے جو جنوبی ایشیا میں والدین کی مرضی سے ہونے والی شادیوں میں چند مسائل کو اجاگر کرتی ہے۔

“Arranged “ نامی اس گیم میں بورڈ پر ایک رشتہ آنٹی ہیں جس سے تین غیر شادی شدہ لڑکیاں دور بھاگتی ہیں کیونکہ ان کا معیار غیر انسانی ہے۔

ایسا کرنے کے لیے کبھی وہ لڑکوں کے ساتھ مالز جاتی ہیں تو کبھی اپنے ٹیٹوز رشتہ آنٹی کو دکھانے کی کوشش کرتی ہیں تا کہ انہیں ایسا رشتہ نہ کرنا پڑے۔

ویڈیو گیم کا ایک منظر
ویڈیو گیم کا ایک منظر

27 برس کی گیم ڈیزائنر نشرہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا “میرا مقصد مجھ جیسی لڑکیوں تک رسائی حاصل کرنا ہے جو رشتہ کرانے والی آنٹی کی خواہشات سے بھاگتی ہیں۔ رنگ گورا ہو، لڑکی لمبی اور دبلی ہو، روٹی گول بناتی ہو جیسے مطالبات۔۔۔ لڑکیوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ لڑکی کو پرکھنے کا یہ معیار نہیں۔ اور گیم میں بھی اس کو مختلف کارڈز کے ذریعے اجاگر کیا جاتا ہے۔”

کراچی سے تعلق رکھنے والی نشرہ 18 برس کی تھیں جب ان کی بہن کی شادی ہوئی۔ شادی کے دن رشتہ کرانے والی خواتین نے نشرہ کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ ہر کسی کا یہی اصرار تھا کہ اب اگلا نمبر نشرہ کا ہے۔

اس کے بعد جب نشرہ 21 سال کی تھیں تو ان کے والدین نے ان کے لیے لڑکا چنا۔ بس وہ چٹ منگنی پٹ بیاہ چاہتے تھے مگر نشرہ پہلے اعلی تعلیم کے لیے امریکہ آنا چاہتی تھیں۔ جس کی انہیں بالآخر اجازت مل گئی۔ وہ گزشتہ آٹھ سال سے امریکہ میں مقیم ہیں۔

انہوں نے بتایا “ میرے والدین کہتے تھے کہ اس طرح اچھے رشتے نہیں ٹھکراتے۔ یہ خدا کی مرضی ہے۔ ابھی شادی نہیں کی تو عمر نکل جائے گی اور پھر کوئی پوچھے گا بھی نہیں ۔۔۔”

نشرہ اور اس کی گیم کے کردار
نشرہ اور اس کی گیم کے کردار

وہ شادی کے خلاف نہیں، مگر رشتے آنٹی کو دور بھگانے کے لیے کبھی نشرہ نے بال چھوٹے کٹوا لیے، تو کبھی جعلی منگنی کی انگوٹھی پہن کر انہیں جھانسا دینے کی کوشش کی۔۔۔انہیں اپنی سبز آنکھیں چھپانے کے لیے لینز کا بھی استعمال کرنا پڑا تو کبھی اپنی گوری رنگت کو چھپانے کے لیے گندمی میک آپ ۔۔۔

اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے نشرہ نے جب یہ گیم بنائی تو ان کے چند رشتہ دار ناراض ہو گئے کہ وہ شادی کا مذاق اڑا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا “ شادی کے لیے جن مرحلوں سے بعض لڑکیوں کو گزرنا پڑتا ہے میں صرف ہلکے پھلکے انداز میں اس کی عکاسی کرنا چاہتی تھی۔”

نشرہ کو بعض لڑکیوں نے شکریہ کے پیغامات بھیجے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس گیم سے انہیں مدد ملی کہ وہ والدین کے ساتھ بیٹھ کو ان مسائل پر بات کریں۔ خاص طور پر وہ لڑکیاں جو اپنے کریئر پر توجہ دینا چاہتی ہیں اور اپنی مرضی کی شادی چاہتی ہیں۔ اس گیم کے سب سے زیادہ صارف امریکہ میں ہیں اور بیشتر کا تعلق جنوبی ایشیائی برادری ہے۔ جبکہ نشرہ کے مطابق برطانیہ میں بھی ان کی گیم کو پزیرائی ملی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG