رسائی کے لنکس

logo-print

شام پر سہ فریقی اجلاس میں روس، ترکی کے ایک دوسرے پہ الزامات


بحیرہٴ اسود میں واقع سوچی کے صحت افزا مقام پر منعقد ہونے والا شام کے تنازع پر سہ فریقی سربراہ اجلاس چند ہی گھنٹے بعد روس اور ترکی کے مابین تناؤ کی نذر ہوگیا۔

کریملن کی خاتون ترجمان، ماریا زخارووا کے مطابق، روس نے ترکی کو بتا دیا ہے کہ شام کے اندر ’’محفوظ علاقے‘‘ کے قیام کے معاملے کا اُسے اختیار حاصل نہیں ہے، جب تک کہ اس میں شام کے صدر بشار الاسد کی باضابطہ توثیق شامل نہ ہو۔

ایک اخباری کانفرنس کے دوران، اُنھوں نے نمائندوں کو بتایا کہ ’’اقتدار اعلیٰ کے مالک کسی ملک کے علاقے پر تیسرے فریق کے کہنے پر فوجی دستے کی تعیناتی کا سوال، خاص طور پر شام کے معاملے میں، براہ راست شام کا فیصلہ لازم ہوگا۔ بنیادی طور پر یہی ہمارا مؤقف ہے‘‘۔

جہاں تک روس اور ایران کا تعلق ہے، جس کے صدور بھی سربراہ اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں، دونوں شام کے صدر بشار الاسد کے قریبی اتحادی ہیں۔ امریکہ کی طرح، ترکی پہلے ہی شام سے فوجی آلات ہٹانے کا آغاز کر چکا ہے، جو فوج کے انخلا کے حالیہ اعلان کا ایک حصہ ہے۔ ترکی شام کے مختلف باغی دھڑوں کی حمایت کرتا ہے۔

ترک صدر طیب ایردوان کافی عرصے سے کہتے رہے ہیں کہ جب تک امریکی حمایت یافتہ کرد ’آئی پی جی‘ کے شدت پسند علاقے میں موجود ہیں، جنھیں ترکی دہشت گرد قرار دیتا ہے، تب تک شامی علاقے کے حق حاکمیت کو خطرہ لاحق رہے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG