رسائی کے لنکس

logo-print

مطیع اللہ جان اغوا کیس: سپریم کورٹ نے پولیس رپورٹ مسترد کر دی


فائل فوٹو

سپریم کورٹ میں صحافی مطیع اللہ جان کے توہینِ عدالت کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے مطیع اللہ جان کے اغوا سے متعلق پولیس کی تفتیشی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا اور حکم دیا کہ آئی جی اسلام آباد تفتیشی ٹیم تبدیل کر دیں۔

سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس گلزار احمد نے پولیس کی پیش کردہ تفتیشی رپورٹ مسترد کر دی۔

کمرۂ عدالت میں آئی جی اسلام آباد موجود نہ تھے جس پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آئی جی اسلام آباد کہاں ہیں؟

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آئی جی اسلام آباد چھٹی پر ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیس مقرر ہونے کا علم ہوتے ہی آئی جی چھٹی پر چلے گئے۔ قائم مقام آئی جی سے عدالت کیا سوال کرے۔ جنہوں نے رپورٹ بنائی ہی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس رپورٹ سے لگتا ہے آئی جی گول گول گھوم رہے ہیں۔

عدالت نے ہدایت کی کہ آئی جی اسلام آباد کسی قابل افسر یا ٹیم کو تفتیش سونپ دیں اور ایک ماہ میں تحقیقات مکمل کر کے عدالت میں رپورٹ جمع کرائی جائے۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا کہ پولیس رپورٹ سے میں بھی مطمئن نہیں ہوں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ڈی آئی جی کو معلوم ہی نہیں کہ تفتیش کیسے کرنی ہے۔

مطیع اللہ جان کے وکیل نے پولیس رپورٹ پر اعتراض کیا تو جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالت فوجداری اپیل نہیں سن رہی جو آپ کے اعتراضات کا جائزہ لے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مبینہ اغوا کا نوٹس عدالت نے اپنے اطمینان کے لیے لیا تھا۔ عدالت چاہتی ہے کہ حقائق سامنے آئیں اور تفتیش جلد مکمل ہو۔ مبینہ اغوا کا معاملہ متعلقہ فورم پر چل رہا ہے وہی فیصلہ کرے گا۔

انہوں نے سوال کیا کہ جہاں مطیع اللہ جان کو چھوڑا گیا وہاں کی سی ڈی آر کیوں نہیں کی گئی؟

مطیع اللہ جان کے اغوا کار کون تھے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:04:01 0:00

چیف جسٹس نے مطیع اللہ جان کے خلاف توہینِ عدالت کیس کے حوالے سے سوال کیا کہ اس کیس میں کیا پوزیشن ہے؟

جس پر مطیع اللہ جان کے وکیل نے بتایا کہ توہینِ عدالت کیس میں جواب جمع کرا دیا ہے۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا آج فردِ جرم عائد کرنی ہے؟

اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ فرد جرم عائد کرنے سے پہلے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ جس پر چیف جسٹس نے سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا موقف بھی آئندہ سماعت پر سنیں گے۔

پولیس رپورٹ میں ہے کیا؟

سپریم کورٹ میں 26 اکتوبر کو اسلام آباد پولیس کے آئی جی نے مطیع اللہ جان کے اغوا کے بارے میں رپورٹ جمع کرائی تھی جس میں پولیس کا کہنا تھا کہ صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کاروں کی شناخت ممکن نہیں ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ نادرا نے ویڈیو میں نظر آنے والوں کی شناخت سے معذوری ظاہر کی ہے۔ نادرا کا کہنا ہے کہ ویڈیو فوٹیج غیر معیاری کیمرے سے بنی ہے۔ اغوا کاروں کی گاڑیوں کے نمبرز بھی معلوم نہیں ہو سکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نادرا اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے تفتیشی ٹیم کے اگست میں لکھے گئے خط پر تاحال جواب نہیں دیا۔ این ایچ اے سے تین ٹول پلازوں کی فوٹیج مانگی گئی تھی۔ لیکن وہاں سے کوئی جواب نہیں آیا۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ نادرا کو پانچ افراد کی تصاویر دے کر ان کے پتے طلب کیے گئے تھے جو فراہم نہیں کیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس بیورو کے جیو فینسنگ ایکسپرٹ نے بتایا ہے کہ واقعے کے وقت علاقے میں ایک لاکھ 21 ہزار موبائل نمبرز ٹریس کیے ہیں۔ جس جگہ یہ واقعہ ہوا وہاں سیف سٹی کا کوئی کیمرہ نصب نہیں تھا۔

پولیس کے مطابق واقعے کا کوئی چشم دید گواہ موجود نہیں ہے اور نہ ہی کسی رہائشی نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا ہے۔

پاکستان میں صحافیوں پر ریاستی جبر میں اضافہ
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:45 0:00

اس کیس میں جن افراد نے بیان ریکارڈ کرایا ہے۔ ان میں صحافی کی اہلیہ اور اسکول میں پھینکا گیا موبائل واپس کرنے والی ٹیچر شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اغوا کاروں کے روٹ پر سیف سٹی کیمروں میں 684 گاڑیوں اور 52 ڈبل کیبن گاڑیوں کی آمد و رفت ریکارڈ ہوئی۔ اغوا کاروں کی گاڑیوں کی نشان دہی کی کوشش کی جا رہی ہے۔

آئی جی پولیس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ مطیع اللہ جان کے بیان کے بعد نادرا سے زرک خان نامی شخص کا ڈیٹا لیا گیا اور نادرا ریکارڈ کے مطابق ملک بھر میں 1236 افراد زرک خان کے نام سے رجسٹرڈ ہیں۔

مطیع اللہ جان کے مطابق اغوا کاروں نے انہیں رہا کرنے سے قبل ان سے سوال کیا کہ کیا ان کا نام زرک خان ہے جس سے یہ شک بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں کسی زرک خان نامی شخص کے شبہے میں اغوا کیا گیا تھا۔

مطیع اللہ جان کیا کہتے ہیں؟

مطیع اللہ جان نے سماعت کے بعد وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں اس کیس میں پولیس کی رپورٹ پر مایوس ہوں۔ پولیس نے کوئی کام نہیں کیا اور کسی ایک شخص کی بھی اب تک شناخت نہیں ہو سکی۔

انہوں نے کہا کہ تین ماہ کا وقت گزرنے کے بعد بھی پولیس اس کیس میں ایک انچ آگے نہیں بڑھ سکی۔

مطیع اللہ جان کے مطابق یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے پولیس اس کیس میں کچھ کرنا ہی نہیں چاہتی۔

مطیع اللہ جان کا اغوا اور واپسی

رواں سال 21 جولائی کو اسلام آباد کے سیکٹر جی-6 میں ایک اسکول کے باہر سے صحافی مطیع اللہ جان کو اغوا کیا گیا تھا اور اسی روز 11 گھنٹے بعد انہیں نامعلوم افراد نے اسلام آباد کے قریب فتح جنگ کے علاقے میں چھوڑ دیا تھا۔

مطیع اللہ جان کے اغوا کا مقدمہ تھانہ آبپارہ میں ان کے بڑے بھائی شاہد اکبر کی مدعیت میں درج کیا گیا جس میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ ان کے بھائی کو زبردستی مسلح افراد نے اغوا کیا۔

شاہد اکبر نے پولیس کو بتایا تھا کہ اغوا کار کالے رنگ کی وردی میں ملبوس تھے اور انہوں نے گاڑیوں پر پولیس کی لائٹیں بھی لگا رکھی تھیں۔

مطیع اللہ جان کے اغوا پر مختلف سیاسی و صحافتی تنظیموں کی طرف سے مذمت کی گئی تھی۔

مطیع اللہ جان نے بازیاب ہونے کے بعد اپنی روداد ایک ویڈیو بیان میں بتائی تھی جس کے مطابق اغوا کاروں نے انہیں کئی گھنٹوں تک ایک مقام پر رکھا اور رات گئے ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر فتح جنگ کے قریب چھوڑ گئے جہاں سے انہوں نے اپنے اہلِ خانہ سے رابطہ کیا اور گھر واپس پہنچے۔

مطیع اللہ جان کے اغوا کے بعد اسلام آباد میں سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے ڈپٹی ڈائریکٹر ساجد گوندل کو بھی نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا اور تین دن کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کراچی سے بھی جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران سید لاپتا ہوئے تھے تاہم 22 گھنٹے بعد وہ گھر واپس آ گئے تھے۔ ان کے لاپتا ہونے کے بعد ان کے بھائی نے علی عمران سید کے اغوا کا مقدمہ درج کرایا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG