رسائی کے لنکس

اسلام آباد سے جبری گمشدگیاں: 'اغوا کار' کیوں پکڑے نہیں جاتے؟


فائل فوٹو

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حالیہ عرصے کے دوران جبری گمشدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے پولیس کی استعداد کار پر کئی سوال اُٹھا دیے ہیں۔

چند روز قبل صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا اور بعد ازاں سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمشن آف پاکستان کے ایک افسر ساجد گوندل کی گمشدگی اور رہائی کے معاملات پر پولیس کا کردار اب بھی زیرِ بحث ہے۔

دونوں افراد کی گمشدگی کے بعد مختلف صحافتی اور سماجی حلقوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا جس کے بعد ہی دونوں کی بازیابی ممکن ہو سکی۔

بعض حلقے یہ سوال اُٹھا رہے ہیں کہ اسلام آباد جیسے شہر سے لوگوں کو غائب کر کے آخر کہاں لے جایا جاتا ہے جب کہ شہر میں جا بجا نصب نگرانی کے کیمروں کے باوجود پولیس کوئی کارروائی کیوں نہیں کرتی؟

پہلے کیس میں صحافی مطیع اللہ جان کو دن دیہاڑے اغوا کیا گیا اور اس کی باقاعدہ سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی سامنے آئیں جو بہت جلد ملک بھر میں وائرل ہو گئیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر اس واقعے کا بہت شور ہوا جس کے بعد انہیں رات گئے عدالتی احکامات اور وزیرِ اعظم کی مداخلت پر رہا کیا گیا۔

اس کیس میں مطیع اللہ جان کے اغوا کی ایف آئی آر درج ہوئی اور ان کی واپسی کے بعد مجسٹریٹ کے سامنے ان کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا۔

دوسرا کیس ساجد گوندل کے اغوا کا تھا جس میں پولیس نے ایف آئی آر درج کی اور اب ان کا تفصیلی بیان ریکارڈ ہونا باقی ہے۔

اس قسم کے کیسز میں عام طور پر اغوا ہونے والا اور ان کے لواحقین واپسی کو ہی خوش قسمتی سمجھتے ہیں اور مزید کارروائی سے گریز کرتے ہیں۔

البتہ صحافی مطیع اللہ جان نے نامعلوم افراد کے اغوا کے حوالے سے تمام واقعہ اپنے ویڈیو بیان میں جاری کیا اور اس کے بعد مجسٹریٹ کے سامنے بھی بیان دیا۔ لیکن انہوں نے اپنے بیان میں کسی ادارے کو نامزد نہیں کیا۔

صحافی مطیع اللہ جان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ جب اُنہیں اغوا کیا تو فوراً اُن کا منہ ڈھانپ دیا گیا، جس کے بعد اُنہیں پولیس اسٹیشن نما ایک عمارت میں لے جا کر زمین پر بیٹھنے کو کہا گیا۔

اُن کے بقول اس دوران ان کی آنکھوں پر بندھی پٹی کھولی گئی، لیکن ہاتھ بندھے رہے۔ اور ان سے سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

مطیع اللہ کا کہنا تھا کہ ان کے کیس میں پولیس نے اب تک کیا کردار ادا کیا ہے وہ اس پر تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں کیوں کہ پولیس نے اس بارے میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں رپورٹ جمع کرانی ہے۔

اُن کے بقول ایک بار پولیس اپنی رپورٹ جمع کرا لے تو اس کے بعد وہ کچھ کہہ سکیں گے۔

کیا ساجد گوندل شمالی علاقہ جات کی سیر کو گئے تھے؟

ساجد گوندل سے منسوب یہ بیان سامنے آ رہا ہے کہ وہ شمالی علاقہ جات کی سیر کو گئے تھے لیکن ان کی واپسی سے متعلق ان کی اہلیہ نے میڈیا کو ایک بیان دیا، جس میں انہوں نے کہا کہ ساجد گوندل کی ان سے بات ہوئی ہے اور وہ محفوظ ہیں۔

ساجد گوندل نے اب تک میڈیا سے کوئی براہِ راست رابطہ نہیں کیا۔ البتہ اپنی رہائی کے سلسلے میں آواز اٹھانے پر انہوں نے صحافیوں کو موبائل فونز پر شکریے کے پیغامات بھیجے ہیں۔

اغوا کے واقعے کے بعد پولیس کیا کرتی ہے؟

سابق آئی جی اسلام آباد طاہر عالم نے اس موضوع کو حساس قرار دیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق اس طرح کے کیسز میں پولیس فوری طور پر اغوا کا مقدمہ درج کرتی ہے۔

اُن کے بقول مغوی کے اہلِ خانہ کی درخواست ملتے ہی پولیس اس پر کارروائی شروع کر دیتی ہے۔ اس دوران سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کی جاتی ہیں اور مختلف اداروں کو خطوط لکھ کر معلوم کیا جاتا ہے کہ اگر ان کے پاس یہ شخص موجود ہے تو اطلاع فراہم کی جائے۔

اس سوال پر کہ کیا کسی شخص کو اغوا کرنے کے بعد کسی ادارے کی طرف سے پولیس کو کبھی آگاہ کیا جاتا ہے؟ طاہر عالم کا کہنا تھا کہ "نہیں بالکل بھی نہیں، یہ ادارے کبھی بھی کسی شخص کی اپنے پاس موجودگی کو تسلیم نہیں کرتے۔ وہ کبھی پولیس پر اعتماد نہیں کرتے۔"

طاہر عالم نے کہا کہ ایسی صورت میں ان افراد کے خلاف پولیس کی وردی اور گاڑی غیر قانونی طور پر استعمال کرنے کی دفعات کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن پولیس کی وردی یا گاڑی کوئی بھی جعل سازی کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ وہ گاڑی کہاں سے آئی اور کہاں گئی، اگر نمبر پلیٹ جعلی ہو تو پولیس اس بارے میں لاعلم رہ جاتی ہے، لہذا اس بنیاد پر کسی ادارے کے خلاف کوئی کیس نہیں بنایا جا سکتا۔

طاہر عالم کا کہنا تھا کہ لاپتا ہونے والا شخص بازیابی پر یہی بتاتا ہے کہ وہ گھومنے چلا گیا تھا۔ یا پھر بیوی کے ساتھ جھگڑا ہونے جیسے بیانات دیے جاتے ہیں۔ اُن کے بقول عام طور پر مغوی کسی ریاستی ادارے پر الزام نہیں لگاتا۔ لہذٰا اس صورت میں پولیس بھی کسی ادارے پر شک کا اظہار کرنے سے گریز کرتی ہے۔

'ادارے بلاوجہ کسی کو نہیں اٹھاتے'

طاہر عالم نے کہا کہ اس بارے میں 'مسنگ پرسن کمشن' موجود ہے جس میں حساس اداروں کے افسران بھی شامل ہیں، جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں اس کمشن کو بہت سے اختیارات حاصل ہیں اور وہ مزید مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ادارے اگر کسی شخص کو لے کر جاتے ہیں تو اس کی بھی ان کے پاس کوئی وجہ ہوتی ہے۔ ادارے بلاوجہ کسی شخص کو نہیں اٹھاتے۔

سابق آئی جی پنجاب کے مطابق قانون بہت عجیب ہے۔ اگر کسی نے دہشت گرد کو استعمال کرتے ہوئے دہشت گردی کی کوئی کارروائی کی ہو تو وہ ادارے جو ایسے معاملات کی تفتیش کرتے ہیں، ان کے پاس اکثر ایسے ثبوت نہیں ہوتے کہ انہیں عدالت میں پیش کیا جا سکے، یا اس معاملے کے ظاہر ہونے سے تفتیش کی پیش رفت متاثر ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ لہذا ایسے معاملات میں کسی شخص کو اٹھانا مجبوری بن جاتا ہے۔ یہ کام ملکی دفاع کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگی ایک جرم ہے لیکن ہمارے پاس صرف اغوا کا مقدمہ درج کرنے کی دفعات ہیں۔ اگر جبری گمشدگی کا قانون بنایا جائے تو سزاؤں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

طاہر عالم نے کہا کہ ہمیں اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ قانون، عدالتیں اور پولیس کے تفتیشی ادارے اس قابل نہیں ہیں کہ وہ ایسے کسی مجرم کو سزا دلوانا تو دور کی بات ہے، اس پر ہاتھ بھی ڈال سکیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG