رسائی کے لنکس

کرونا وائرس: سپریم کورٹ نے قیدیوں کی رہائی پر عمل درآمد سے روک دیا


کرونا وائرس کے خدشے کے پیشِ نظر صوبائی حکومتوں نے اپنے اپنے صوبوں کی جیلوں میں موجود قیدیوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کی سپریم کورٹ نے چاروں صوبوں کی ہائی کورٹس، اسلام آباد ہائی کورٹ اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے کرونا وائرس کے باعث قیدیوں کی جیلوں سے رہائی پر عمل درآمد روک دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے قیدیوں کو رہا کرنے کے مزید احکامات دینے سے روکتے ہوئے وفاق، تمام ایڈووکیٹس جنرلز، آئی جی اسلام آباد، صوبائی ہوم سیکریٹریز، آئی جیز جیل خانہ جات، پراسیکیوٹر جنرل نیب، اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کو بھی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

سپریم کورٹ میں کرونا وائرس کے سبب قیدیوں کی جیلوں سے رہائی کے خلاف دائر کردہ اپیل پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے ہائی کورٹس مختلف فیصلے دے رہی ہیں۔

اٹارنی جنرل کا مزید کہنا تھا کہ وہ درخواست گزار کے حقِ دعویٰ پر کوئی اعتراض نہیں اٹھا رہے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے سپریم کورٹ گائیڈ لائن طے کرے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ کرونا وائرس ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور کرونا کے باعث اجازت نہیں دے سکتے کہ سنگین جرائم میں ملوث قیدی رہا کر دیے جائیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ اختیارات کی جنگ ہے۔ کسی نے ایک ہفتے پہلے جرم کیا تو وہ بھی باہر آ جائے گا۔ (فائل فوٹو)
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ اختیارات کی جنگ ہے۔ کسی نے ایک ہفتے پہلے جرم کیا تو وہ بھی باہر آ جائے گا۔ (فائل فوٹو)

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ملک کو کرونا وائرس کی وجہ سے کن حالات کا سامنا ہے، سب پتا ہے۔ دیکھنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کس اختیار کے تحت قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا۔

انہوں نے استفسار کیا کہ ہائی کورٹس از خود نوٹس کا اختیار کیسے استعمال کر سکتی ہیں۔ ہائی کورٹس نے اپنے حکم سے منشیات اور نیب مقدمات میں گرفتار ملزمان کو ضمانت دے دی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دنیا میں محتاط طریقۂ کار کے ذریعے لوگوں کو رہا کیا جا رہا ہے اور بیرون ملک قیدیوں کی رہائی کے لیے کمیشن بنائے گئے ہیں۔ چھوٹے جرائم میں ملوث ملزمان کو رہائی ملنی چاہیے اور خوف نہ پھیلایا جائے۔

دوران سماعت چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ہائی کورٹ نے دہشت گردی کے ملزمان کے علاوہ سب کو رہا کر دیا۔

اس موقع پر بینچ میں شامل جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ اس انداز سے ضمانتیں دینا، ضمانت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔

جسٹس گلزار کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ آفت میں لوگ اپنے اختیارات سے باہر ہو جائیں۔

ان کے مزید کہنا تھا کہ یہ اختیارات کی جنگ ہے۔ کسی نے ایک ہفتے پہلے جرم کیا تو وہ بھی باہر آ جائے گا۔ ایسی صورت میں شکایت کنندہ کے جذبات کیا ہوں گے۔ جن کی دو، تین ماہ کی سزائیں باقی رہتی ہیں۔ ان کو چھوڑ دیں۔ ان حالات میں بھی اپنے اختیارات سے باہر نہیں جانا چاہیے۔

جسٹس قاضی امین نے دوران سماعت کہا کہ ہمیں خوفزدہ نہیں ہونا۔ بلکہ پرسکون رہ کر فیصلہ کرنا ہے۔ ہمارا دشمن مشترکہ اور ہمیں متحد ہو کر اس سے مقابلہ کرنا ہے۔

عدالت نے وفاق، تمام ایڈووکیٹس جنرلز، آئی جی اسلام آباد، صوبائی ہوم سیکرٹریز، آئی جیز جیل خانہ جات، پراسیکیوٹر جنرل نیب، اے این ایف کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت بدھ تک ملتوی کر دی ہے۔

اس سے قبل صوبائی حکومتوں نے اپنے اپنے صوبوں کی جیلوں میں موجود قیدیوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس سلسلے میں ہائی کورٹس کی طرف سے احکامات جاری کیے گئے تھے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 408 قیدیوں جب کہ لاہور ہائی کورٹ نےبھی متعدد قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

ہائی کورٹس کی طرف سے دہشت گردی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث افراد کے علاوہ زیادہ تر کو رہا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ جس کے خلاف سپریم کورٹ نے پیر کے روز ان حکامات پر عمل درآمد روک دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG