رسائی کے لنکس

حکومت اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان معاملات طے ہو جائیں گے، چوہدری برادران


فائل فوٹو

حکومت کی اہم اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی اور دھرنے کے باعث حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پیدا شدہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

رات گئے طویل ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ جے یو آئی ف اور حکومت کے درمیان معاملات جلد حل ہونے چاہئیں اور مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کے بعد وہ پر امید ہیں کہ مسائل خوش اسلوبی سے حل ہو جائیں گے۔

پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ وہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سہولت کاری کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اس صورت حال سے عوام کو بھی مشکلات کا سامنا ہے اور معاشی اور اقتصادی مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔

اس سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ وہ کم سے کم وزیر اعظم کا استعفیٰ اور زیادہ سے زیادہ اسمبلیوں کی تحلیل چاہتے ہیں۔

اپنے مطالبات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد ہی نہیں استعفیٰ بھی آئینی آپشن ہے اور اگر استعفیٰ نہیں آتا تو اس کے معنی ہوں گے کہ حکومت سنجیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان سے ذاتی اختلاف نہیں بلکہ قومی مسئلے کی بنیاد پر ان کا استعفیٰ مانگ رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اصلاحات کے بغیر الیکشن منظور نہیں کیونکہ ایسے انتخابات کا کیا فائدہ جس میں پھر ایک فوجی پولنگ کے اندر اور دوسرا باہر کھڑا ہو۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ الیکشن ایکٹ پر بھی عمل کر لیا جائے تو نتائج بہتر ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کور کمانڈرز کانفرنس نے اداروں کے درمیان ہم آہنگی کی بات کر کے واضح کر دیا کہ تناؤ پایا جاتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ مقتدر حلقوں سے موجودہ صورت حال پر کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG