رسائی کے لنکس

logo-print

سندھ اسمبلی کے بے گھر ملازمین کا معاملہ زور پکڑنے لگا


ادھر اسمبلی سے باہر اپنے ہی مکانات کے ملبے پر گزر بسر کرنے والے اسمبلی ملازمین اور ان کے اہل خانہ نے سرد موسم میں دوسری رات بھی کھلے آسمان تلے گزاری اور صبح کا ناشتہ لکڑیاں جلا کر تیار کیا

کراچی میں سندھ اسمبلی بلڈنگ سے متصل اسمبلی ملازمین کے ہی مکانات مسمار کردیئے گئے۔ اس اچانک اقدام پر ملازمین پچھلے دو دنوں سے سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور اپنے مکانات کے ملبے پر ہی گزر بسر جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس واقعے نے پیر کو اس وقت مزید تیزی پکڑ لی جب اسمبلی اجلاس کے دوران حزب اختلاف نے حکومتی اقدام پر سخت تنقید کی اور حکومتی ارکان کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اس پر اسپیکر اسمبلی کو بھی غصہ آگیا اور انہوں نے بھی تنقیدی توپوں کا رخ حزب اختلاف کی جانب کر دیا۔

ادھر اسمبلی سے باہر اپنے ہی مکانات کے ملبے پر گزر بسر کرنے والے اسمبلی ملازمین اور ان کے اہل خانہ نے سرد موسم میں دوسری رات بھی کھلے آسمان تلے گزاری اور صبح کا ناشتہ لکڑیاں جلا کر تیار کیا۔

حکام نے ہفتے کی صبح سندھ اسمبلی کے احاطے میں واقع گھروں کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کرنے کا کام شروع کیا تھا۔ تاہم، مکینوں کی درخواست پر کام روک دیا گیا تھا۔

ارکان اسمبلی کی گاڑیوں کیلئے مجوزہ پارکنگ کی جگہ پر 10 سے زائد گھر ہیں جن میں اسمبلی ہی کے ملازمین رہائش پذیر ہیں۔ متاثرین کا موقف ہے کہ وہ عرصے سے یہاں مقیم ہیں۔ انہیں بے گھر کیا جارہا ہے اور تاحال متبادل جگہ فراہم نہیں کی گئی۔

اس معاملے پر پیر کو صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے دوران بھی گرما گرمی دیکھنے میں آئی اور اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ اسمبلی سیکرٹریٹ میں موجود ملازمین کے کوارٹرز کو اس وقت تک نہیں گرایا جائے گا جب تک سروسز ڈپارٹمنٹ متبادل جگہ فراہم نہیں کر دیتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن ارکان اس مسئلہ پر سیاست نہ کریں، سیاست کے لئے صوبے اور شہر میں اور بہت سارے مسائل موجود ہیں۔

اسپیکر کا کہنا ہے کہ کوارٹرز میں رہنے والوں سے کرایہ نہیں لیا جاتا تھا، انسانی ہمدری کی بنیاد پرانہیں رہائش دی گئی تھی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ سے متاثرین کو متبادل جگہ فراہم کرنے کی بات کریں گے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رکن صوبائی اسمبلی اور قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ متاثرین کو متبادل رہائش فراہم کرنا حکومت کے لیے مشکل کام نہیں، وہ جن محکموں سے تعلق رکھتے ہیں ان کے توسط سے انہیں رہائش فراہم کی جائے۔

سیکریٹری سندھ اسمبلی عمر فاروق کا کہنا ہے کہ میری معلومات کے مطابق متعلقہ افسر کی رضامندی کے بعد صرف ایک کوارٹر کو منہدم کیا گیا ہے، جبکہ دسمبر 2015 میں حتمی نوٹس سے قبل بھی مکینوں کو کئی نوٹس جاری کیے گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG