رسائی کے لنکس

logo-print

سندھ میں جماعت الدعوة کے تمام فلاحی اداروں پر حکومت کا کنٹرول


فائل

وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے جماعت الدعوة کو کالعدم قرار دینے کے بعد سندھ میں بھی اس تنظیم کے تحت چلنے والے 56 ادارے صوبائی تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔

جماعت الدعوة پر پابندی کے پیش نظر سندھ حکومت نے کارروائی کرتے ہوئے صوبے بھر میں تنظیم کے زیر اہتمام مدارس، شفاخانوں اور اسکولوں کو صوبائی تحویل میں لینے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ تمام ادارے جماعت الدعوة اور اس کی فلاحی تنظیم فلاح انسانیت کے تحت صوبے کے 12 مختلف اضلاع میں چلائے جا رہے تھے۔

تحویل میں لیے گئے مدارس کی تعداد 16 ہے، جبکہ اس تنظیم کے 9 اسپتال اور 31 اسکول بھی سرکاری کنٹرول میں لے لیے گئے ہیں۔

حکومت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کراچی سے تحویل میں لیے جانے والے ان اداروں کی کل تعداد 24 ہے۔ جبکہ میرپورخاص، سانگھڑ، ٹنڈوالھیار اور تھرپارکر سے چار چار اور شہید بے نظیر آباد میں پانچ ادارے صوبائی حکومت کے کنٹرول میں لیے گئے ہیں۔

سیکرٹری داخلہ حکومت سندھ عبدالکبیر قاضی کے مطابق تحویل میں لئے گئے ادارے بند نہیں کئے جا رہے بلکہ ان اداروں سے فراہم کی جانے والی خدمات کے اخراجات اب حکومت برداشت کرے گی اور حکومتی قوانین کے تحت ان اداروں میں کام کرنے والے عملے کی اسکروٹنی کی جائے گی۔

محکمہ داخلہ سندھ کے حکام کا مزید کہنا ہے کہ تحویل میں لیے گئے اداروں کا کنٹرول صوبائی محکمہ تعلیم، صحت اور اوقاف کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں جماعت الدعوة کے تحت چلنے والے بڑے مدرسے جامعۃ الدراسات اسلامیہ کا انتظام چلانے کے لئے چھ رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے کالعدم تنظیموں کے خلاف جاری آپریشن پر تبصرہ کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کار اسے خوش آئند قرار دینے کے ساتھ ساتھ شکوک و شبہات کا بھی اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اب بھی دباؤ کے تحت کی جا رہی ہے اور یہ حکومت کی کسی واضح پالیسی کا نتیجہ نہیں ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے تجزیہ کار اور پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد کا کہنا ہے کہ فرقہ وارایت اور دہشت گردی فروغ دینے والی تنظیموں کے خلاف ایسی کارروائی کی جانی چاہیے جس سے دور رس نتائج برآمد ہو سکیں۔ محض دکھاوے کی پالیسی سے صرف وقتی طور پر فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ مسئلے کا مستقل حل نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کے عمل سے دوسروٕں کی آنکھوں دھول تو جھونکی جا سکتی ہے مگر ٹھوس تبدیلی نہیں لا جا سکتی۔ انہوں نے بتایا کہ جماعت الدعوة کے خلاف کارروائی کی بنیادی ضرورت حکومت کو اس لئے پیش آئی ہے کہ اگر یہ اقدام نہ کیا جاتا تو پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔

وفاقی حکومت نے 5 مارچ کو جماعت الدعوة اور اس کے تحت چلنے والی فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ اب اس گروپ کو انسداد دہشت گردی قانون کے شیڈول میں بھی شامل کر دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق جماعت الدعوة پر پابندی کے بعد سے ملک بھر میں اب تک 121 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، اور 182 مدارس، 34 اسکول، کئی اسپتال، سو سے زیادہ شفاخانوں، ایمبولینسوں اور دفاتر کو بھی سرکاری تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG