رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کا وعدہ پورا ہو پائے گا؟


سندھ اسمبلی (فائل فوٹو)

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے برسر اقتدار آنے سے قبل 'جنوبی پنجاب' کو الگ صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا جبکہ یہ دعویٰ کیا تھا کہ حکومت کے قیام کے بعد 100 روز میں جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنایا جائے گا۔

تحریک انصاف کے منشور میں جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کی بات شامل ہونے پر 2018 کے عام انتخابات سے پہلے موجودہ وفاقی وزیر خسرو بختیار اور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ان کے ساتھی، مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر پی ٹی آئی کا حصہ بنے تھے، جبکہ انہوں نے اپنی 'جنوبی پنجاب صوبہ تحریک' بھی تحریک انصاف میں ضم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم، اب تک جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کا وعدہ وفا ہوا اور نہ ہی اقتدار میں آنے کے 16 ماہ بعد بھی تحریک انصاف کے کیے گئے وعدے سے متعلق کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے آئی ہے۔

2018 کے عام انتخابات سے پہلے موجودہ وفاقی وزیر خسرو بختیار اور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ان کے ساتھی، مسلم لیگ نواز چھوڑ کر تحریک انصاف کا حصہ بنے تھے۔ (فائل فوٹو)
2018 کے عام انتخابات سے پہلے موجودہ وفاقی وزیر خسرو بختیار اور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ان کے ساتھی، مسلم لیگ نواز چھوڑ کر تحریک انصاف کا حصہ بنے تھے۔ (فائل فوٹو)

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق کافی عرصے سے بحث چلی آ رہی ہے، جبکہ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق پاکستان مسلم لیگ (ن) اور حکومتی اتحادی متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے دو الگ الگ بل قومی اسمبلی میں جمع کرائے جا چکے ہیں۔

سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے اسے قومی نوعیت کا معاملہ سمجھتے ہوئے اس پر عوامی سماعتوں اور مختلف سیاسی جماعتوں کی رائے حاصل کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے، جس کے لیے گذشتہ دنوں کمیٹی نے کراچی کا دورہ کیا اور یہاں عوامی سماعت کے ساتھ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ملاقات بھی کی۔

ملاقات کے دوران صوبے میں برسر اقتدار پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق آئین کی مزید تشریح کی ضرورت ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں آئین صوبوں کی حدود کی تبدیلی کی اجازت تو دیتا ہے۔ لیکن، اس سوال کا جواب حاصل کرنا ضروری ہے کہ حدود کی تبدیلی نئے صوبوں کی تشکیل پر لاگو ہوتی ہے یا یہ دو صوبوں کے درمیان حدود کی ری سیٹلمنٹ سے متعلق ہے۔

ان کے مطابق، نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کا راضی ہونا ضروری ہے، جس کے بعد معاملہ قومی اسمبلی میں جائے گا۔

آئینی ماہر اور وکلا رہنما علی احمد کرد کے مطابق، بھی اس مقصد کے لیے آئینی ترمیم سے قبل متعلقہ صوبوں سے قرارداد کی منظوری ضروری ہے۔

ان کے خیال میں فیڈریشن اور موجودہ صوبوں کے درمیان ہی کافی عدم توازن موجود ہے، جو نئے صوبوں کے قیام سے مزید بڑھ سکتا ہے۔

علی احمد کرد کے مطابق، پہلے وفاق اور موجودہ صوبوں کے درمیان ہی تعلقات میں آئین کے مطابق توازن پیدا کیا جائے، تب جا کر نئے صوبوں پر غور ہونا چاہیے۔

علی احمد کرد کا مزید کہنا تھا کہ فی الحال انہیں مستقبل قریب میں ملک میں نئے صوبے بنتے نظر آ رہے ہیں اور نہ ہی اب تک یہ کوئی بہت بڑا عوامی مطالبہ ہے۔ جس پر فوری عمل کی ضرورت ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئین میں ترمیم کی ضرورت ہوگی، جس کے لیے دو تہائی اکثریت لازمی ہے اور اس مقصد کے لیے وسیع بنیادوں پر پہلے سیاسی جماعتوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز سے تعلق رکھنے والے سیاسیات کے پروفیسر ڈاکٹر رسول بخش رئیس اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے قبل وفاق اور موجودہ صوبوں کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کا انتظار کرناچاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ صوبوں اور مرکز کے تعلقات آئین کے تابع ہوتے ہیں۔ آئین میں ان تعلقات کو بالکل واضح کیا جا چکا ہے۔ لیکن اس کا سیاسی پہلو یہ ہے کہ مرکز اور صوبوں میں برسر اقتدار حکومتوں کے درمیان مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ جن کی نوعیت سیاسی ہے اور یہ مسائل صوبوں کے مسائل نہیں اور ان کے خیال میں نہ ہی کبھی ایسا رہا ہے۔

رسول بخش رئیس کے مطابق، نئے صوبوں کا قیام اس لیے ضروری ہے کہ ایک تو موجودہ صوبوں میں آبادی اور وسائل میں توازن نہیں پایا جاتا، جبکہ صوبوں کی سینیٹ میں آبادی کے لحاظ سے نمائندگی میں بھی عدم توازن ہے۔

ان کا مؤقف ہے کہ گزشتہ سات دہائیوں میں آبادی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ صوبوں کا پرانا انتظامی ڈھانچہ اس سے پیدا ہونے والے مسائل کا احاطہ نہیں کر سکتا۔

رسول بخش رئیس کے خیال میں نئے صوبوں کے قیام سے ترقی اور طرز حکمرانی میں زیادہ بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اس توازن کو بہتر بنانے کے لیے ہمیں نئے صوبوں کے قیام کے لیے فوری کوششیں شروع کرنی چاہیے۔

ادھر ماضی میں متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے یہ مطالبہ بڑی شدت سے کیا جاتا رہا ہے کہ صوبہ سندھ کے جنوبی علاقوں پر مشتمل الگ صوبہ قائم کیا جائے۔

ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی امین الحق نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کی جماعت آج بھی اپنے اس مطالبے پر قائم ہے کیونکہ ان کے خیال میں ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے مسائل کا حل ان کی نظر میں نئے صوبے کے قیام ہی میں پوشیدہ ہے۔

واضح رہے کہ اس مطالبے کی پیپلز پارٹی، سندھ کی قوم پرست جماعتوں حتیٰ کہ تحریک انصاف کی جانب سے بھی شدید مخالفت کی جاتی رہی ہے اور اسے ایم کیو ایم کی جانب سے صوبے کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

تاہم، امین الحق نے اس تاثر کو زائل کیا کہ ان کی جماعت نئے صوبوں کا قیام لسانی بنیادوں پر چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم لسانی بنیادوں پر تقسیم کی بجائے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کی حامی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی جماعت جنوبی سندھ میں صوبے کے قیام کے علاوہ ہزارہ صوبے اور جنوبی پنجاب میں صوبے کے قیام کی بھی حمایت کرتی ہے۔

امین الحق بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ نئے صوبوں کے قیام سے ملک میں انتظامی بہتری لائی جا سکے گی اور عوام کے مسائل زیادہ بہتر طریقے سے حل کیے جا سکتے ہیں۔

نئے صوبوں کے قیام سے متعلق پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف بالکل مختلف دکھائی دیتا ہے۔ ایک جانب جہاں وہ پنجاب میں نئے صوبوں کے قیام کی حامی ہے، وہیں صوبہ سندھ میں اس کی شدید مخالفت کرتی آئی ہے۔

2013 میں وفاق میں برسر اقتدار آنے کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت نے آخری مہینوں میں سینیٹ سے پنجاب میں نئے صوبے کے قیام سے متعلق بل پاس کرایا تھا۔ تاہم، قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی حمایت نہ ملنے کے باعث یہ بل پاس نہیں ہو سکا تھا۔

اب تک جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کا وعدہ وفا ہوا اور نہ ہی اقتدار میں آنے کے 16 ماہ بعد بھی تحریک انصاف کے کیے گئے وعدے سے متعلق کوئی ٹھوس پیش رفت نظر آرہی ہے۔ (فائل فوٹو)
اب تک جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کا وعدہ وفا ہوا اور نہ ہی اقتدار میں آنے کے 16 ماہ بعد بھی تحریک انصاف کے کیے گئے وعدے سے متعلق کوئی ٹھوس پیش رفت نظر آرہی ہے۔ (فائل فوٹو)

سیاسی ماہرین جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کو ایک سنجیدہ کوشش بھی قرار نہیں دیتے۔ ان کے خیال میں آئین کے تحت اس مقصد کے لیے پہلے متعلقہ اسمبلی یعنی پنجاب اسمبلی سے صوبے کی حدود میں ردوبدل سے متعلق قرارداد دو تہائی اکثریت سے منظور ہونالازم ہے۔

دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بھی رواں سال کے آغاز میں آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں جمع کرایا جا چکا ہے، جس میں پنجاب کی حدود میں ردوبدل کرکے بہاولپور اور جنوبی پنجاب میں دو الگ الگ صوبوں کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اسی طرح کی ایک قرارداد مسلم لیگ (ن) نے 2012 میں بھی قومی اسمبلی میں جمع کرائی تھی، جس کے تحت بہاولپور، جنوبی پنجاب کے ساتھ فاٹا کے وہ علاقے جو اب خیبر پختونخوا کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان پر مشتمل صوبے اور ہزارہ صوبے کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

سیاسی اور آئینی ماہرین کے خیال میں نئے صوبوں کا قیام ایک پیچیدہ سیاسی مسئلہ ہے۔ جس میں انتظامی سے زیادہ لسانی، جغرافیائی اور ثقافتی عوامل کے ساتھ سب سے بڑھ کر سیاسی جماعتوں کے اپنے مفادات حائل ہیں۔ جنہیں وہ اپنے ووٹ دینے والوں کے حقوق کی حفاظت سے تعبیر کرتے ہیں۔

اس وقت پاکستان میں بہرحال ایک وسیع بنیادوں پر یہ اتفاق رائے نظر آتا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی حدود میں ردوبدل کرکے نئے صوبوں (یا صوبے) کا قیام عمل میں لایا جائے۔ تاہم، اس کے لیے وہ بنیادیں تلاش کرنا ضروری ہیں جس کی بنا پر نئے صوبے قائم کیے جائیں۔ یعنی نئے صوبے آبادی، وسائل، یا انتظامی، کن بنیادوں پر قائم کیے جائیں گے اور پھر اس کی روشنی میں آئین میں ضروری ترامیم کے ساتھ صوبائی اسمبلی کی منظوری بھی لازم ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت قومی اسمبلی کی کل 272 عام نشستوں میں سے 141 نشستیں پنجاب سے ہیں، جبکہ باقی 131 نشستیں، تین صوبوں سے ہیں، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت سازی سے لے کر فیصلہ سازی تک صوبہ پنجاب کی اہمیت کس قدر زیادہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG