رسائی کے لنکس

چمچہ فلسطینیوں کے لیے جدوجہد کی علامت کیوں بن گیا؟


فلسطینی چمچے اٹھا کر اسرائیل کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

فلسطینیوں کے لیے 'چمچہ' جدوجہد کی نئی علامت بن گیا ہے جب کہ مصور اسے محنت، کامیابی اور آزادی سے تشبیہ دے رہے ہیں۔

ایسا اس وجہ سے ہے کہ حال ہی میں اسرائیل کی جیل سے سرنگ بنا کر جو قیدی فرار ہوئے تھے انہوں نے زیرِ زمین راستہ بنانے کے لیے گھریلو استعمال کے برتنوں کی مدد لی تھی جس میں چمچہ نمایاں تھا۔

سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ 'چمچے کا معجزہ' ٹرینڈ کرتا رہا ہے جس میں فلسطینی قیدیوں کے جیل سے فرار ہونے کو ہالی وڈ فلموں میں دکھائی جانے والے سین سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق جیل سے فرار ہونے والے قیدی محمد عبداللہ اردھا کے وکیل نے بتایا ہے کہ ان کے موکل نے سرنگ کھودنے کے لیے چمچوں، پلیٹوں اور چائے کی کیتلی کے ہینڈلز کا استعمال کیا تھا۔

وکیل روسلام مہاجانا نے بتایا کہ سرنگ کھودنے کا عمل گزشتہ برس دسمبر میں شروع کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ اسرائیل کی جیل سے قیدیوں کے فرار کا اسی طرح کا ایک واقعہ 1996 میں بھی پیش آیا تھا جب غسان مہداوی اور اس کے ساتھی ناخنوں کے ذریعے سرنگ کھود کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔

سرنگ کے ذریعے جیل سے فرار کا تازہ ترین واقعہ گزشتہ ہفتے اسرائیل کی سخت سیکیورٹی والی گلبوا جیل میں پیش آیا تھا۔ جہاں چھ قیدی سرنگ کے ذریعے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

مفرور قیدیوں پر اسرائیل شہریوں پر حملے کے الزامات تھے۔ البتہ ​اسرائیلی فوج نے چار روز بعد ہی فرار ہونے والے چھ میں سے چار قیدیوں کو مغربی کنارے سے دوبارہ گرفتار کیا۔

اسرائیل کی فوج کی جانب سے مفرور دو قیدیوں کی تلاش کا عمل بھی جاری ہے جب کہ حکام نے جیل سے فرار کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

جیل توڑنے کے اس واقعے نے اسرائیل کی جیل سیکیورٹی پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ دوسری جانب فلسطینی اسے فتح قرار دے رہے ہیں۔

فلسطین سے تعلق رکھنے والے کارٹونسٹ محمد صبانح نے جیل سے فرار کے واقعے سے متعلق اپنے کارٹونز میں برتنوں کو دکھایا ہے اور ایک تصویر پر انہوں نے سرنگ کو 'آزادی کی سرنگ' بھی کہا۔

مصنف ساری اورابی کا کہنا ہے کہ عزم، ہوشیاری اور چالاکی سے سرنگ بھی کھودی جا سکتی ہے جس طرح فلسطینی قیدیوں نے کر دکھایا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے قیدیوں کو دوبارہ حراست میں لیے جانے پر فلسطینیوں نے چمچے اٹھا کر ریلیاں نکالیں۔

فلسطین سے باہر بھی اس معاملے پر بات ہو رہی ہے۔ کویت کے فن کار میتھم عبدل نے مٹی سے ایک ہاتھ بنایا ہے جسے چمچہ تھامے ہوئے دکھایا ہے۔ میتھم اسے آزادی کا چمچہ کہتے ہیں۔

اردن کے گرافک ڈیزائنر رعید القتنانی نے اپنی ایک تصویر میں چمچے کی مدد سے پل بنایا ہے جسے آزادی کی جانب منزل کے طور پر پیش کیا ہے۔

اس خبر میں شامل بعض معلومات خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے لی گئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG