رسائی کے لنکس

logo-print

دہلی کے جنگل کا شہزادہ کون تھا؟


پرنس رضا عرف سائرس، پرنسس سکینہ اور ایک نیپالی ملازم۔ فوٹو 1998 کی ہے۔ (اسکرین شاٹ: فوٹو بشکریہ نیو یارک ٹائمز / برائن ڈینٹن)

بھارتی اخبارات میں دہلی کے 'مالچا محل' کے مکینوں کی کہانیاں اور تصاویر عرصہ دراز سے شائع ہوتی رہی ہیں۔ رواں برس 22 نومبر کو امریکی اخبار 'نیو یارک ٹائمز' کی رپورٹر ایلن بیری نے 'دی جنگل پرنس' کے نام سے ایک مرتبہ پھر اس کہانی کو لوگوں کی یادداشتوں میں زندہ کیا۔ دہلی میں وائس آف امریکہ اردو کی نمائندہ رتول جوشی کہتی ہیں کہ مالچا محل کی کہانی اتنے سالوں سے دلی شہر میں موجود تھی، کہ صحافیوں نے اسے کہانی سمجھنا بند کر دیا تھا۔

نیو یارک ٹائمز میں ایلن بیری کی کہانی شائع ہونے کے بعد رتول نے ان صحافیوں کی تلاش شروع کی، جنہوں نے دہلی شہر کے بیچوں بیچ راز بن جانے والی اس کہانی کے کرداروں سے ماضی میں ملاقاتیں کی تھیں۔

رتول کہتی ہیں کہ 20 کے قریب فون کالز اور دہلی کی نہرو میمو ریل لائبریری کے عملے کی جانب سے کسی قسم کی معاونت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد انہوں نے خود جنگل میں جاکر ولایت محل تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔

جب وہ بندروں کی آماجگاہ بنے جنگل میں پہنچیں تو اُنہیں علم ہوا کہ عمارت کی عکس بندی، جس کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے، ممنوع نہیں ہے۔

رتول کو کچھ کوشش کے بعد یہ بھی علم ہوا کہ دہلی کے ایک صحافی نیرج ٹھاکر نے 2003 میں ولایت محل کی کہانی کو بھارتی چینل 'زی نیوز' کے لیے کور کیا تھا۔

نیرج ٹھاکر نے بتایا کہ وہ جب اس کہانی کا پیچھا کرتے ملچا محل پہنچے تھے، تو وہ عام عوام کی دسترس سے دور تھا۔ محل میں رہنے والا شہزادہ کسی کو جنگل میں واقع اپنے محل تک آںے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔

نیرج ٹھاکر کے بقول، جب وہ طے شدہ دن اور وقت پر ملاقات کے لیے پہنچے تو شہزادہ ایک میلے سے سیاہ کوٹ اور سستے نظر آنے والے جوتے پہنے ہوئے تھا۔ نیرج کہتے ہیں کہ وہ دیکھنے میں ایک 'ہوشیار' اور 'مشتبہ' شخص معلوم ہوتا تھا اور نیرج کے ساتھی کے پاس خفیہ کیمرے کی موجودگی سے آگاہ تھا۔ اس نے نیرج سے انگریزی میں ہم کلام ہونے سے پہلے ان کی مکمل جامہ تلاشی لی۔

دہلی کے جنگل کا شہزادہ کون تھا؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:58 0:00

نیرج کا کہنا ہے کہ شہزادے کی بہن سکینہ اس وقت حیات تھی، لیکن شہزادے نے نیرج کو اس سے ملاقات کی اجازت نہیں دی۔ اور کہا کہ ‘شہزادی آرام فرما رہی ہیں’۔

اس نے نیرج کو کسی بھی قسم کی فوٹیج بنانے یا خود پر اسٹوری کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

نیرج کہتے ہیں کہ تب تک ان کے کیمرہ مین نے عمارت کے کچھ بیرونی شاٹس ہی بنائے تھے اور ایک شاٹ، جس میں شہزادے کو اپنے کتوں کے ساتھ کھڑے دیکھا جا سکتا تھا۔۔۔۔۔ آخر میں نیرج نے ان ہی چند شاٹس کی مدد سے اپنی اسٹوری مکمل کر کے 'زی نیوز' پر چلائی۔

وائس آف امریکہ اردو کے لئے جمیل اختر اس کہانی کو کچھ مزید تحقیق کے بعد یہاں پیش کر رہے ہیں۔

مالچا محل فیروز شاہ تغلق نے تعمیر کروایا؟

دہلی کے علاقے چانکیاپوری میں ایک گھنا جنگل ہے جس کے وسط میں سات سو سال پرانا محل ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں اسے 'مالچا محل' لکھا گیا ہے۔ اسے 1325 میں دہلی کے حکمران فیروز شاہ تغلق نے تعمیر کرایا تھا۔ لیکن یہ کھنڈر اب 'ولایت محل' کے نام سے جانا جاتا ہے۔

مالچا محل کی روایت کچھ اس طرح ہے کہ فیروز شاہ تغلق اس جنگل میں شکار کرتے ہوئے راستہ بھٹک گیا تھا۔ جنگل میں رہنے والی ایک خانہ بدوش لڑکی مالچا نے بادشاہ کی دیکھ بھال کی اور اسے جنگل سے باہر جانے میں مدد دی۔ فیروز شاہ نے اس کے نام پر جنگل کے بیچوں بیچ یہ محل تعمیر کرایا۔

دو ہزار سترہ کے آخر تک اس محل میں ایک زندہ انسان رہتا تھا۔ ادھیڑ عمر کے اس دھان پان شخص کا دعویٰ تھا کہ وہ شہزادہ سائرس ہے۔ ریاست اودھ کے آخری حکمران نواب واجد علی شاہ کی ریاست کا وارث ہونے کی وجہ سے یہ محل اسے والی اودھ کی جائیداد کے بدلے میں ملا ہے۔ شہزادہ سائرس جس کا اصل نام علی رضا تھا، اب زندہ نہیں ہے۔ اور شہزادے کے ساتھ ہی اس کا، اس کی بہن سکینہ اور والدہ ولایت بیگم کا راز بھی ختم ہو گیا ہے۔

ولایت بیگم کون تھیں؟

مالچا محل ملکہ ولایت بیگم ریاست اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کی وراثت کی دعویدار تھیں۔ نواب واجد علی شاہ ریاست چھننے کے بعد 1856 میں اپنی ایک ملکہ اور خاندان کے ساتھ کلکتہ چلے گئے تھے۔ ان کی ایک اور بااثر ملکہ حضرت محل لکھنؤ میں رک گئیں اور ریاست اور جائیداد کے لیے لڑتی رہیں۔ لیکن تاج برطانیہ نے ان کے دعوے مسترد کر دیے۔

یہ تو معلوم نہیں کہ ولایت بیگم کا رشتہ حضرت محل سے تھا یا نہیں لیکن انہوں نے نواب کے محلات اور جائیداد کے لیے بھارتی حکومت سے طویل قانونی جنگ لڑی۔ انہیں اودھ میں تو کچھ نہ مل سکا، البتہ بھارتی سرکار نے دہلی کے مالچا محل کا کھنڈر اُنہیں سونپ دیا۔

مالچا محل کے یہ مکین نہ جانے کیا سوچتے، اگر اُنہیں علم ہوتا کہ ان کی موت کے بعد ریاست اودھ سے ان کے تعلق پر بھی سوال اٹھائے جائیں گے۔

ولایت بیگم، دہلی ریلوے اسٹیشن پر 1983میں (ویب سکرین شاٹ/نیویارک ٹائمز/فوٹو یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل)
ولایت بیگم، دہلی ریلوے اسٹیشن پر 1983میں (ویب سکرین شاٹ/نیویارک ٹائمز/فوٹو یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل)

دہلی ریلوے اسٹیشن کے پراسرار مسافر

اس کہانی کا آغاز 1970 کی دہائی میں دہلی کے ریلوے اسٹیشن سے ہوتا ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک روز ریل گاڑی سے ایک ادھیڑ عمر عورت، ایک نوجوان لڑکی اور لڑکا اترے۔ ان کے پاس بھاری بھرکم قالین، بڑے بڑے صندوق، قیمتی ظروف اور دوسرا بہت سا سامان تھا۔

انہوں نے اپنا سامان وی آئی پی ویٹنگ روم اور اس کے برآمدے میں رکھوا دیا۔ ان کے ساتھ ایک نیپالی ملازم بھی تھا جس نے اودھ دربار کے ملازموں کا یونیفارم پہن رکھا تھا۔ جب ادھیڑ عمر خاتون اسے بلاتیں تو وہ دوڑا دوڑا آتا۔ شاہی آداب کے مطابق جھک کر 'کورنش' بجا لاتا، حکم سنتا اور الٹے قدموں لوٹ جاتا۔

روزنامہ 'ہندو' کے نامہ نگار آر وی اسمتھ نے لکھا کہ ولایت بیگم نے وی آئی پی روم کے ساتھ پلیٹ فارم نمر ایک پر دو ستونوں کے ساتھ چادریں لٹکا کر بڑی ترتیب سے اپنا سامان رکھوایا تھا۔ ان کے پاس کئی کتے بھی تھے۔ وہاں سے گزرنے والا ہر مسافر اُنہیں حیرت سے دیکھتا تھا۔ مگر وہ ہر وقت کچھ سوچتی اور خلاؤں میں گھورتی ہوئی نظر آتی تھیں۔

وی آئی پی ویٹنگ روم پر قبضے کے بعد ولایت بیگم نے ریلوے اسٹیشن کے ایک عہدے دار کو بلا کر کہا، ’’میں اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کی اولاد ہوں۔ میرا نام ولایت بیگم ہے۔ میں نواب کی جائیداد کی واحد قانونی وارث ہوں۔ میں اس وقت تک ویٹنگ روم میں رہوں گی جب تک مجھے محلات واپس نہیں مل جاتے۔‘‘

اس کے بعد ولایت بیگم نے اپنے بیگ سے پستول نکال کر اسے لہراتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر کسی نے انہیں وہاں سے نکالنے کی کوشش کی تو وہ اپنی کنپٹی پر گولی مار کر خودکشی کر لیں گی۔

گویا یہ ویٹنگ روم میں قیام نہیں تھا بلکہ اپنے مطالبات منوانے کے لیے دھرنا تھا جو برسوں جاری رہا۔

ولایت بیگم، پرنس سائرس اور شہزادی سکینہ نے دہلی ریلوے اسٹیشن کے ویٹنگ روم میں 15 برس گزارے (ویب سکرین شاٹ/ہندوستان ٹائمز/این تھیاگ راجن)
ولایت بیگم، پرنس سائرس اور شہزادی سکینہ نے دہلی ریلوے اسٹیشن کے ویٹنگ روم میں 15 برس گزارے (ویب سکرین شاٹ/ہندوستان ٹائمز/این تھیاگ راجن)

یہ تنازع لگ بھگ 15 سال چلا۔ دہلی حکومت اور ولایت بیگم کے درمیان خطوط کا تبادلہ ہوتا رہا۔ حکومت کے نمائندے آ کر ان سے ملتے رہے۔ حکومت نے اُنہیں لکھنؤ میں چار بیڈ روم کا مکان دینے کی پیش کش کی لیکن وہ محل سے کم کچھ قبول کرنے پر تیار نہیں تھیں۔

حکومت نے یہ معاملہ نمٹانے کے لیے دہلی میں کوئی غیر معروف جگہ دینے کا سوچا۔ ولایت بیگم کو نواب اودھ کے محل تو نہ ملے البتہ دہلی کے قدیم مالچا محل پر دونوں فریقوں کا سمجھوتہ ہو گیا۔

مئی 1985 میں وزیرِ اعظم اندرا گاندھی نے پانچ سو روپے ماہانہ وظیفے کے ساتھ اُنہیں مالچا محل سونپ دیا۔

چانکیا پوری کے جنگل کا آسیب زدہ محل

تین افراد پر مشتمل یہ کنبہ جب خوشی خوشی مالچا محل پہنچا تو یقیناً اُنہیں دھچکا لگا ہو گا۔ انہوں نے جسے محل سمجھ کر قبول کیا تھا، وہ آسیب زدہ کھنڈر جیسا تھا۔

اس کا زیادہ تر حصہ گر چکا تھا۔ جو دیواریں سلامت تھیں ان کی کھڑکیاں اور دروازے ٹوٹ پھوٹ اور گل سڑ چکے تھے۔ بیشتر کمروں کی چھتیں غائب تھیں۔ جو سلامت تھیں، وہ ایسی تھیں کہ آج گریں کہ کل۔

محل میں بجلی تھی نہ پانی اور نہ ہی زندگی کی بنیادی ضرورتوں میں شمار ہونے والی کوئی اور شے۔ محل کے چاروں طرف جنگل اتنا گھنا تھا کہ روشنی تک کا گزر مشکل سے ہوتا تھا۔

جنگل کے گرد خاردار تاروں کی باڑ اور ایک جانب ملازموں کی کوٹھڑیاں تھیں۔ تین افراد کے کنبے کا بیرونی دنیا سے رابطہ نہیں تھا۔ باہر سے چیزیں منگوانے اور رابطے کا ذریعہ ملازم تھے لیکن اُنہیں بھی معلوم نہیں تھا کہ محل کے مکین زندگی کس طرح بسر کرتے ہیں۔

کھنڈرات کو جانے والا راستہ اب بھی رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کیا گیا ہے۔
کھنڈرات کو جانے والا راستہ اب بھی رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کیا گیا ہے۔

آہنی باڑ کے علاوہ باہر کا کوئی شخص جنگل میں اس لیے بھی داخل نہیں ہو سکتا تھا کہ وہاں درجن بھر خونخوار کتے گھومتے رہتے تھے۔ اور رات کو جنگلی جانوروں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔

سال دو سال بعد ولایت بیگم کسی غیر ملکی صحافی کو بلا لیتی تھیں اور ان کی کہانی یورپ اور امریکہ کے بڑے اخباروں میں چھپ جاتی تھی۔ پھر اس کا تذکرہ کئی دنوں تک مقامی اخباروں میں ہوتا رہتا۔

ولایت بیگم کی پراسرار موت

لوگ رفتہ رفتہ مالچا محل کا نام بھول گئے اور جنگل کے کھنڈر کو ولایت بیگم کی مناسبت سے ولایت محل کہا جانے لگا۔ مشکلات سے لڑتے لڑتے ولایت بیگم کی ہمت جواب دے گئی اور ستمبر 1993 میں 62 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا اور اُنہیں محل کے احاطے میں دفن کیا گیا۔

ولایت بیگم کی تدفین کیسے ہوئی، کچھ معلوم نہیں۔ پرنس سائرس کا کہنا ہے کہ ملکہ ولایت محل نے حالات سے دل برداشتہ ہو کر خودکشی کی۔ انہوں نے مرنے کے لیے شاہی انداز چنا اور ہیرا چاٹ کر جان دی۔

ملچا محل کے اندرونی آثار
ملچا محل کے اندرونی آثار

ولایت بیگم کے بعد محل میں سائرس اور سکینہ رہ گئے۔ چار دیواری کے اندر کبھی کبھار سائرس ٹہلتا ہوا نظر آ جاتا تھا۔ لیکن سکینہ کی کسی نے پرچھائی بھی نہ دیکھی۔

ولایت بیگم کے مرنے کے بعد غالباً سرکاری وظیفہ بند ہو گیا تھا۔ اس قیاس کو برطانیہ سے آنے والی رقوم کے منی آرڈروں سے تقویت ملتی ہے۔ یہ رقم ایک شخص شاہد، سائرس کو بھیجتا تھا۔ شاہد کو نہ کبھی مالچا محل میں آتے دیکھا گیا اور نہ اس کا ذکر کبھی ولایت بیگم اور سائرس نے کیا۔

پرنس رضا اور نیو یارک ٹائمز کی ایلن بیری کی ملاقات

اگر نئی دہلی میں مقیم 'نیویارک ٹائمز' کی نمائندہ ایلن بیری کی سائرس سے ملاقات نہ ہوتی تو اس کہانی کی پرتیں بھی سائرس کی موت کے بعد کھنڈر کی کسی ٹوٹی ہوئی چھت تلے دب کر مٹ جاتیں۔ اس کہانی سے جڑے کردار کبھی منکشف نہ ہوتے جو بہت دور لیکن بہت قریب تھے۔

ایلن کی سائرس سے پہلی ملاقات 2016 کے موسم بہار میں ہوئی۔ محل کے مرکزی دروازے پر ادھیڑ عمر کے دبلے پتلے شخص نے خیر مقدم کیا۔ وہ کوئی ملازم نہیں بلکہ خود پرنس سائرس تھا۔ اس طویل ملاقات میں سائرس نے اکثر سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا۔

ایلن شہزادی سکینہ سے ملنا چاہتی تھی لیکن سائرس نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ وہ اس وقت یہاں نہیں ہیں۔ وہ اپنی تنہائی اور مسائل کا ذکر کرتا رہا۔ سائرس نے یہ بھی کہا کہ اسے ایک گرل فرینڈ کی ضرورت ہے۔

بعد کی ایک ملاقات میں سائرس نے بتایا کہ اس نے جھوٹ بولا تھا۔ سکینہ کا کئی ماہ پہلے انتقال ہو گیا تھا۔ اس نے کسی کو نہیں بتایا۔ خود ہی جنگل میں گڑھا کھود کر اسے دفن کر دیا۔ بہن کا ساتھ ٹوٹنے کے بعد وہ خود بھی ٹوٹ پھوٹ چکا تھا۔ شاید تنہائی سے گھبرا کے اس نےگرل فرینڈ کا سوچا۔ مگر ایلن نے مدد کرنے سے معذرت کر لی۔

کھنڈر کی عمارت میں ویرانی کی تصویر بنے یہ بکسے کیا مکینوں کے ہیں؟ کوئی نہیں جانتا۔(فوٹو، وی او اے)
کھنڈر کی عمارت میں ویرانی کی تصویر بنے یہ بکسے کیا مکینوں کے ہیں؟ کوئی نہیں جانتا۔(فوٹو، وی او اے)

والی اودھ کی شادیاں اور اولادیں

اودھ کے آخری حکمران نواب واجد علی شاہ کو تاریخ ہند کا رنگیلا حکمران کہا جاتا ہے۔ انہوں نے درجنوں شادیاں کیں۔ کئی کتابوں میں لکھا ہے کہ شادیوں کی تعداد سو سے زیادہ تھی۔ بہت سی اولادیں تھیں جو شمار میں نہیں آ سکتیں۔ پرانے لکھنؤ کے کئی علاقے شہزادوں اور شہزادیوں سے بھرے پڑے ہیں۔

نواب اودھ اپنی ریاست بچانے کے لیے دہلی کی فرنگی سرکار کو فراغ دلی سے قرض دیتے رہے مگر ریاست نہ بچ سکی۔ جب سرکار کا دباؤ سہنے کی تاب نہ رہی تو انہوں نے نوابی کلاہ ایک تھال میں رکھ کر فرنگی عہدے داروں کو پیش کیا، روتے ہوئے محل سے نکلے اور کلکتہ چلے گئے۔ پھر آخری دم تک وہیں رہے۔ ان کی ایک ملکہ حضرت محل نے طویل عرصے تک برطانوی حکومت سے خط و کتابت کی لیکن کچھ نہ ملا۔

تاریک کوچوں میں رہنے والے شہزادے شہزادیاں

جب ریاست اور دربار ہی نہ رہا تو شہزادے شہزادیوں کو کیا ملتا۔ ان میں سے اکثر لکھنؤ کے قدیم علاقوں میں چھوٹے چھوٹے گھروں اور کوٹھڑیوں میں رہتے ہیں۔ چھوٹے اور معمولی کام کر کے، اور بعض رکشے چلا کر اپنی زندگی کی گاڑی کھینچتے ہیں۔

اودھ کے محلات کے سامنے سے گزرتے ہوئے وہ فخر و حسرت سے کہتے ہیں کہ یہ ہمارے ہیں۔ یہ حسرت ان کے دل میں کچھ ایسے بس گئی ہے کہ محرم میں دل کھول کر ماتم کرتے ہیں اور اپنے غموں کو غم حسین میں شامل کر کے آنسو بہاتے ہیں۔

اودھ کے آخری حکمران نواب واجد علی شاہ
اودھ کے آخری حکمران نواب واجد علی شاہ

ولایت بیگم ایک عرصے تک لکھنؤ میں رہیں۔ ان کی بڑی حویلی تھی۔ شوہر عنایت اللہ لکھنؤ یونیورسٹی میں رجسٹرار تھے۔ خدمت گار تھے، کمروں میں قالین بچھے تھے، ہیرے اور جواہرات تھے۔ لکھنؤ میں ہر کوئی انہیں نواب واجد علی شاہ کا وارث سمجھتا تھا۔ ان کے ہاں محرم کی مجلس ہوتی تھی۔ ان کا بڑا احترام تھا۔

لاہور کا پاگل خانہ اور ولایت بیگم

1947 میں جب ہندوستان تقسیم ہوا تو لکھنؤ کے بہت سے مسلمان پاکستان چلے گئے۔ جو باقی رہ گئے، ان پر بلوائی حملے کرنے لگے۔

پاکستان میں بہت سے مواقع ولایت بیگم کے شوہر عنایت اللہ کے منتظر تھے۔ مگر ولایت بیگم نواب اودھ کے محلات سے دور نہیں جانا چاہتی تھیں۔ وہ سوچتی تھیں کہ ایک روز وہ محل ان کے ہو جائیں گے۔

عنایت اللہ کا دل پاکستان میں پڑا تھا مگر ولایت بیگم کے خوف سے جانے کا حوصلہ نہیں تھا۔ پھر بلوائیوں نے ان کا کام آسان کر دیا۔ ایک روز دفتر سے آتے ہوئے چند بلوائیوں نے اُنہیں مارا پیٹا۔ اس کے بعد ان کے پاس پاکستان جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

غالباً 1950 کے عشرے میں یہ خاندان لاہور منتقل ہو گیا جہاں انہیں ایک بڑا گھر الاٹ ہوا۔ روزگار بھی مل گیا۔ مگر ولایت بیگم کو قرار نہیں مل سکا۔ انہیں سوتے جاگتے اودھ کے محلات دکھائی دیتے تھے۔ جب یہ خیال آتا کہ اب وہ کبھی ان کے نہیں ہو سکیں گے تو دیوانگی سی طاری ہو جاتی۔

مالچا محل کے متعلق گاہے گاہے اخباروں میں شائع ہونے والی کہانیاں۔
مالچا محل کے متعلق گاہے گاہے اخباروں میں شائع ہونے والی کہانیاں۔

یہ کیفیت ان پر اس وقت بھی طاری ہوئی جب وہ ایک ایسے اجتماع میں شریک تھیں جہاں وزیرِ اعظم بھی موجود تھے۔ کوئی بات عنایت بیگم کو اتنی ناگوار گزری کہ انہوں نے غصے میں وزیرِ اعظم کے ساتھ بدتمیزی کی۔

ایلن نے لکھا ہے کہ انہوں نے تھپڑ مار دیا تھا۔ چونکہ اس واقعے کی تاریخ نامعلوم ہے، اس لیے یہ قیاس کرنا ممکن نہیں کہ اس وقت اعلیٰ حکومتی عہدے دار کون تھا۔ معاملہ سنگین تھا اس لیے ولایت بیگم گرفتار ہوئیں اور انہیں دیوانی قرار دے کر لاہور کے پاگل خانے بھیج دیا گیا۔ چھ مہینوں تک ان کا علاج ہوتا رہا۔ انہیں دوائیں دی گئیں، انجکشن لگائے گئے اور بجلی کے جھٹکے بھی دیے گئے۔

سرحد پار واپسی

جب ولایت بیگم پاگل خانے سے نکلیں تو باہر کی دنیا بدلی ہوئی تھی۔ ان کے شوہر عنایت اللہ کا انتقال ہو چکا تھا۔ وہ اودھ کے محلات کی جستجو میں ان کے پاؤں کی آخری زنجیر تھے۔ اب وہ اپنے فیصلوں میں آزاد تھیں۔

ایک روز اچانک انہوں نے اپنا سامان ٹرکوں پر لدوایا اور بچوں کو ساتھ لیا۔ مگر اس دوڑا دوڑی میں ان کے ساتھ موجود چودہ پندرہ سال کا ایک لڑکا کہیں کھو گیا۔ ولایت بیگم کو بہت جلدی تھی یا کوئی انجانا خوف کہ وہ اسے ڈھونڈے بغیر سرحد پار کر گئیں۔

پاکستان سے روانگی اور دہلی ریلوے اسٹیشن پر ظہور کے درمیان کئی سال انہوں نے کہاں گزارے، کچھ معلوم نہیں۔ انہوں نے اس بارے میں کبھی کسی کو نہیں بتایا۔

گم ہونے والا لڑکا کون تھا؟

ریلوے کے ویٹنگ روم میں طویل قیام اور مالچا محل میں رہائش کے دوران ولایت بیگم، پرنس سائرس، شہزادی سکینہ، کسی نے گم ہونے والے اُس لڑکے کا کبھی بھید نہیں دیا جو ان سے ہمیشہ رابطے میں رہا۔

سائرس کے انتقال کے بعد جب ایلن آخری بار مالچا محل گئیں تو انہیں پرانے کاغذوں میں کچھ خط اور برطانیہ سے بھیجی گئی چھوٹی چھوٹی رقوم کی رسیدیں ملیں۔ جن پر یارک شائر کے پتے کے ساتھ ایک نام شاہد درج تھا۔

آخری خط میں شاہد نے سائرس کو لکھا تھا ، ’میری صحت بہت گر چکی ہے۔ خدارا اب تم اپنے مالی معاملات ٹھیک کر لو۔’

شاہد کا یارک شائر

یارک شائر کے اس علاقے میں، جہاں پاکستانی، بھارتی اور بنگلہ دیشی بڑی تعداد میں آباد ہیں، شاہد کا چھوٹا سا گھر تھا۔ جب ایلن ان سے ملنے پہنچیں تو وہ بہت بوڑھے اور بیمار دکھائی دے رہے تھے۔ وہ ٹھیک سے بول بھی نہیں پارہے تھے۔ انہیں پھیپھڑوں کا کینسر تھا جو آخری مرحلے میں داخل ہو چکا تھا۔

تھوڑے پس و پیش کے بعد شاہد نے بتایا کہ وہ سائرس اور سکینہ کے بڑے بھائی اور ولایت بیگم کے بیٹے ہیں۔ ان کا ایک بھائی اور بھی ہے۔ اس کا نام صلاح الدین زاہد ہے جو پاکستان کی ایئر فورس میں پائلٹ بن گیا تھا۔ اس نے 1965 کی جنگ میں بھارت کے خلاف فضائی مہمات میں حصہ بھی لیا تھا۔

شاہد نے بتایا کہ وہ گم نہیں ہوئے تھے۔ ولایت بیگم ٹرک پر سامان لدوا رہی تھیں تو وہ کیلے لینے کے بہانے کھسک گئے تھے کیونکہ وہ بھارت نہیں جانا چاہتے تھے۔ لیکن اس دن کے بعد سے انھوں نے کبھی کیلے نہیں کھائے۔ اس دن کے بعد سے انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ پاکستانی تھے یا ہندوستانی۔

شاہد نے کچھ عرصہ لاہور میں دھکے کھائے، پھر کسی طرح برطانیہ پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ مدتوں تک ایک فیکٹری میں مزوری کی۔ پھر زندگی قدرے سنبھل گئی، شادی کی، گھر لیا اور ایک متوسط برطانوی شہری جیسی زندگی گزارنے لگے۔

شاہد نے بتایا کہ پرنس سائرس کا اصلی نام علی رضا تھا۔ اسے پچپن میں 'مکی' کہا جاتا تھا۔ سکینہ کا نام فریال تھا۔ جب علی رضا سائرس بنا تو فریال بھی شہزادی سکینہ بن گئی اور بعد میں پرنسس الیگزینڈریا کہلوانے لگی۔

وہ شہزادے شہزادیاں نہیں، سیدھے سادے عام لوگ تھے۔ ولایت بیگم بھی اودھ کی ملکہ نہیں، لکھنؤ یونیورسٹی کے رجسٹرار عنایت اللہ کی بیگم تھیں۔

کینسر نے شاہد کو زیادہ مہلت نہیں دی۔ لیکن انتقال سے پہلے ایلن کو صلاح الدین زاہد، شاہدہ اور زاہدہ کے پتے مل گئے۔ شاہدہ اور زاہدہ ولایت بیگم کی کزن تھیں اور ان کی واپسی کے بعد لاہور کی حویلی میں رہ رہی تھیں۔

لاوارث شہزادے کا آخری سفر

شاہد کا کہنا تھا کہ سائرس عام آدمی تھا۔ لیکن اگر وہ پرنس نہیں بھی تھا تو بھی اس نے آخری سانس تک شہزادے کا کردار بڑی خوبی سے نبھایا۔ محل کے چوکیدار سے سائرس کا رابطہ رہتا تھا۔ اس نے بتایا کہ جب چند روز تک سائرس نظر نہیں آیا تو وہ ڈرتے ڈرتے محل کے اندر چلا گیا۔ سائرس کا جسم بخار سے تپ رہا تھا۔ اسے شاید ڈینگی ہو گیا تھا۔ حالت بہت خراب تھی۔ چوکیدار نے کہا کہ آپ کو اسپتال لے چلتا ہوں۔ سائرس نے انکار کر دیا۔

شہزادے کو گوارہ نہیں تھا کہ وہ اسپتال میں عام مریضوں کے درمیان پڑا رہے اور ان کی طرح اس کا علاج ہو۔ چوکیدار چلا آیا۔ دو تین دن اور گزرنے کے بعد گیا تو کمرے کے فرش پر سائرس کی لاش پڑی تھی۔ آخری وقت میں کوئی بھی اس کے سرہانے نہیں تھا۔ کوئی ہوتا تو آتا۔ اسے سرکار نے لاوراث قرار دے کر دفن کر دیا۔

ویٹنگ روم کا دربار

1970 کی دہائی اور اس کے بعد کے غیر ملکی اور مقامی اخبارات میں کبھی کبھار شائع ہونے والی ولایت بیگم کی کہانیاں پڑھنے سے پتا چلتا ہے کہ دہلی ریلوے اسٹیشن کے وی آئی پی ویٹنگ روم میں طویل قیام کے دوران بچوں نے اپنی والدہ کو کبھی ماں کہہ کر مخاطب نہیں کیا۔

وہ ہمیشہ انہیں ملکہ معظمہ یا ملکہ عالیہ کہتے تھے۔ ولایت بیگم نے بھی کبھی انہیں بیٹا یا بیٹی نہیں کہا، ہمیشہ پرنس سائرس اور پرنسس سکینہ کے نام سے مخاطب کیا۔

ویٹنگ روم میں ولایت بیگم کا 15 سالہ قیام ملکہ والا ہی رہا۔ وہی رکھ رکھاؤ، وہی ادب آداب۔ جائیداد کی واپسی سے متعلق خط و کتابت میں دربار کے آداب ملحوظ رکھے جاتے تھے۔

خطوط کو دربار کے روایتی انداز میں باآواز بلند پڑھا جاتا تھا۔ جواب بھی شاہی فرمان کے انداز میں لکھوایا جاتا تھا۔ ان کے پاس کوئی قابل قبول دستاویزات بھی ہوں گی۔ اسی لیے تو دہلی حکومت نے ان سے اودھ کے محلات کے بدلے میں سودے بازی کی تھی۔ پھر شاید ولایت بیگم نے ویٹنگ روم میں طویل قیام سے تنگ آ کر اجاڑ مالچا محل قبول کرلیا تھا۔

لاہور کی زاہدہ اور شاہدہ

لاہور کے ایک پرانے علاقے میں حویلی جیسا کشادہ مکان ہے، جس کے صحن میں سرسبز پودے اور خوش نما پھولوں کی کیاریاں ہیں۔ ولایت بیگم کے جانے کے بعد وہاں زاہدہ اور شاہدہ رہ رہی تھیں۔

ایلن نے لکھا کہ جب ان سے ملاقات ہوئی تو ادھیڑ عمر کی خواتین سہمی ہوئی تھیں اور کچھ بتانے سے کترا رہی تھیں۔ لیکن جب اُنہیں پتا چلا کہ ولایت بیگم اور ان کے بچوں کا انتقال ہو چکا ہے تو انہیں اطمینان ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ ولایت بیگم اودھ کی ملکہ نہیں تھی۔ ایلن نے پوچھا کہ پھر وہ کون تھیں؟ انھوں نے کہا کہ وہ ایک پاگل عورت تھی۔ مہینوں پاگل خانے میں رہی تھی۔

پائلٹ صلاح الدین زاہد

اس کہانی کا آخری کردار صلاح الدین زاہد ہے۔ وہ ولایت بیگم کا بڑا بیٹا تھا۔ پاکستان آنے کے بعد اسے ایئر فورس میں ملازمت مل گئی تھی۔ اس نے 1965 کی جنگ میں بھارتی ٹھکانوں پر فضائی حملوں میں حصہ بھی لیا۔

یہ معلوم نہیں کہ ولایت بیگم نے سائرس اور سکینہ کے ساتھ بھارت واپس جاتے وقت صلاح الدین کو اعتماد میں لیا تھا یا نہیں۔ ایک امکان یہ ہے کہ صلاح الدین نے واپسی سے انکار کر دیا ہو؟ شاید ولایت بیگم کے لیے یہ اتنا بڑا دھچکا ہو کہ پھر کبھی بھولے سے بھی صلاح الدین کا نام ان کی زبان پر نہیں آیا۔

صلاح الدین کا 2019 میں انتقال ہوا۔ ان کی بیگم سلمیٰ امریکی ریاست ٹیکساس میں رہتی ہیں۔ ولایت بیگم کے متعلق سلمیٰ کا کہنا تھا کہ وہ نارمل عورت نہیں تھیں۔

حقیقت اب بھی راز ہے

ولایت بیگم کی حقیقت اب بھی ایک راز ہے۔ دہلی سرکار نے انہیں اودھ کے نواب واجد علی شاہ کی وراثت کا حق دار تسلیم کرتے ہوئے ماہانہ وظیفہ اور مالچا محل سونپ دیا تھا۔ لیکن ان کے قریبی عزیز انہیں پاگل عورت قرار دیتے ہیں۔

آج مالچا محل کا کوئی وارث زندہ نہیں۔ کیا مالچا محل کی کہانی حقیقی ہے؟ کیا محل کے مکین نواب اودھ کے حقیقی وارث تھے؟ کیا اُنہیں پاگل پن کی حد تک بادشاہ کی وراثت کا سوانگ بھرنا پڑا؟ اس بارے میں کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا۔ لیکن اس محل کی دیواروں میں معدوم ہو جانے والے کرداروں کی پر اسرار کہانی اب بھی بھارتی اور غیر ملکی میڈیا کی توجہ کھینچ رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG