رسائی کے لنکس

بادشاہ کا حقہ، ملکہ کی چائے دانی اور بدھا کا مجسمہ


بلتی میوزیم، سکردو

بلتستان میں دیکھئے، حکومت پاکستان سے اعزاز یافتہ تاریخ دان یوسف حسین آبادی کا میوزیم ، جس میں بلتستان کی تاریخ اور ثقافت محفوظ کی گئی ہے۔

بلتستان کی تاریخ اور ثقافت کا پہلا میوزیم اس علاقے کے ایک معروف دانشور, تاریخ دان اور مصنف یوسف حسین آبادی نے اپنے ذاتی وسائل اور برس ہا برس کی مسلسل کوششوں سے قائم کیا ہے۔ تاریخ بلتستان پر ان کی ایک تصنیف حکومت پاکستان سے پرائڈ آف پرفارمنس کا ایوارڈ حاصل کر چکی ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کا علاقہ 1968 تک دنیا بھر سے کٹا ہوا تھا اور اس کا ثقافتی ورثہ بالکل محفوظ تھا۔ لیکن 1980 میں جب بلتستان کا علاقہ ایک سڑک کے ذریعے بیرونی دنیا سے منسلک ہوا اور باہر کے لوگ یہاں آنے جانے لگے تو یہاں کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو تحفظ کا خطرہ لاحق ہوا۔

فانوس، بلتی میوزئیم سکردو
فانوس، بلتی میوزئیم سکردو

ایسے میں انہوں نے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے مقامی دانش وروں کے ساتھ مل کر مقامی انتظامیہ اور کچھ غیر سرکاری تنظیموں سے بات کی، لیکن ان کوششوں کے باوجود کوئی عملی پیش رفت نہ ہو سکی۔

یوسف حسین آبادی نے بتایا کہ ہر طرف سے مایوس ہو کر آخرکار انہوں نے خود تن تنہا اس مشن کو انجام دینے اور ایک میوزیم قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔

وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے 14 اگست 2007 کو اس میوزیم کے لیے پہلی نادر چیز خریدی جس کے بعد یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے اور اس وقت تک وہ اپنے میوزیم کے لیے پانچ ہزار سے زیادہ نوادرات اکٹھے کر چکے ہیں جن کی مالیت، ان کے خیال میں کروڑوں روپوں میں ہے۔

انہوں نے نوادرات کی حفاظت کے لیے 2012 میں ایک چھوٹا سا عارضی ہال بنایا جس کا ایک گوشہ بلتستان کی تاریخ اور ثقافت کی کتابوں کے لیے مختص کیا گیا۔

اس سوال کے جواب میں کہ وہ عجائب گھر کے اخراجات کیسے پورے کرتے ہیں یوسف حسین آبادی کا کہنا تھا کہ ان کا اپنا ایک اچھا کاروبار ہے اور ان کے بیٹے اپنے اسکول اور کالج چلاتے ہیں، وہ اپنے کاروبار میں سے کچھ پس انداز کر کے اور کچھ اپنے بیٹوں کی مدد سے نوادرات اکٹھی کرتے ہیں۔

اپنے میوزیم میں موجود نوادارت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس پانچویں صدی عیسوی کا ایک بت، سکردو شہر کے ایک بودھ ٹمپل کے دروازے کے پتھر کا وہ کتبہ بھی موجود ہے جس کی تحریر قدیم بلتی رسم الخط میں ہے۔

اس میوزیم میں ایک قدیم قلعے کا دروازہ، سکھوں کے ایک قدیم ٹمپل اور ایک قدیم ہندو مندر کے کچھ نوادارت بھی محفوظ ہیں۔

یوسف حسین آبادی، میوزئیم کیوریٹر
یوسف حسین آبادی، میوزئیم کیوریٹر

بلتستان کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہاں 1840 تک بادشاہت قائم تھی۔ ان کے پاس ان بادشاہوں کے باغات کے ایک قدیم فوارے کا ایک ٹکڑا اور اسے پانی فراہم کرنا کا پائپ، آخری بادشاہ کا حقہ، ملکہ کی چائے دانی اور اسی قسم کی بہت سی نادر اشیا موجود ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ تاریخ و ثقافت سے دلچسپی رکھنے والوں اور دانشوروں کو خصوصی طور پر اپنے میوزیم میں مدعو کرتے رہتے ہیں۔

نعمت خانہ، بلتی میوزئیم سکردو
نعمت خانہ، بلتی میوزئیم سکردو

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال بلتستان یونیورسٹی قائم ہونے کے بعد انہوں نے اپنے میوزیم کو تحقیق میں مدد کے لیے اعزازی طور پر اس سے منسلک کر دیا ہے۔

یوسف حسین آبادی اپنے میوزیم کو توسیع دینے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس کے لیے وہ ایک دو منزلہ عمارت تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زمیں خریدی جا چکی ہے۔ انہیں توقع ہے کہ آئندہ دو سال کے اندر میوزیم نئی عمارت میں منتقل ہو جائے گا۔

بدھا کا مجسمہ، بلتی میوزیم سکردو
بدھا کا مجسمہ، بلتی میوزیم سکردو

ان کی واحد خواہش اپنے آبائی علاقے بلتستان کی زبان، تاریخ اور ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ کام سرکاری اداروں اور این جی اوز کا ہوتا ہے، لیکن جب کسی کا ادھر دھیان ہی نہیں گیا تو انہوں نے اسے تن تنہا کرنے کا بیڑہ اٹھا لیا جس پر وہ پوری دل جمعی سے کام کرتے رہیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG