رسائی کے لنکس

logo-print

'عدالتوں کے سوا کوئی ادارہ نواز شریف کو ریلیف نہیں دے سکتا'


جج ارشد ملک کے ویڈیو اسکینڈل کے بعد عدالت عظمٰی میں متعدد درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ کوئی ادارہ نواز شریف کو رہا نہیں کر سکتا۔ یہ اختیار صرف ہائی کورٹ کے پاس ہے کہ وہ کیس دوبارہ ٹرائل کے لیے بھجوائے۔ اسی صورت میں نواز شریف کو ریلیف مل سکتا ہے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے منگل کو جج ارشد ملک کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی۔ اٹارنی جنرل نے جج ارشد ملک کے بیان حلفی، ویڈیو کی فرانزک اور مقدمے کے اندراج کی تفصیلات عدالت میں جمع کرائیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ جج نے ایسی حرکت کی تھی تب ہی وہ بلیک میل ہوا۔

انور منصور خان نے ہائی کورٹ اپیلوں پر اثرانداز ہونے کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے تمام درخواستوں کی مخالفت کی۔

ویڈیو کس نے کس کو بیچی؟

اٹارنی جنرل نے سائبر کرائم ایکٹ کے تحت سزاؤں، اور جج ارشد ملک کو مبینہ طور پر بلیک میل کرنے والے ملزم طارق محمود کی گرفتاری سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سنہ 2000 سے 2003 کے درمیانی عرصے میں بننے والی یہ ویڈیوز میاں طارق نے میاں سلیم نامی شخص کو فروخت کیں جس نے یہ ویڈیو ناصر بٹ کو دی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ویڈیو سے جج کے موقف کا ایک حصہ درست ثابت ہوگیا۔ جج نے ایسی حرکت کی تھی تب ہی بلیک میل ہوا۔ اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا کہ جج ارشد ملک کو ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جج کے بیانِ حلفی کے مطابق نواز شریف سے ملاقات اپریل میں ہوئی۔ کیسے ممکن ہے کہ 6 اپریل 2019 تک اپیل دائر نہ ہوئی ہو؟ اپیل دائرنہ ہونے کا جج نے بیان حلفی میں نہیں بتایا۔

جج ارشد ملک نے اپنے اوپر عائد تمام الزامات مسترد کر دیے تھے۔
جج ارشد ملک نے اپنے اوپر عائد تمام الزامات مسترد کر دیے تھے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کو سزا گزشتہ سال دسمبر میں دی گئی جبکہ اپیل بھی بروقت دائر کی گئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اپیل بروقت دائر ہوئی تو جج نے اپریل میں اس کا جائزہ کیسے لیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بیان حلفی کے مطابق جج پر ویڈیو پیغام کے لیے دباو ڈالا گیا ہے، عدالت نے تمام الزامات کی سچائی کا جائزہ لینا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آڈیو اور ویڈیو کی ریکارڈنگ الگ الگ کی گئی تھی پریس کانفرنس میں جوڑ کر دکھایا گیا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اصل مواد نہیں دکھایا گیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جوڈیشل کمیشن فیصلہ نہیں صرف رائے دے سکتا ہے، کوئی کمیشن یا پیمرا احتساب عدالت کا فیصلہ ختم نہیں کر سکتا۔ ہائی کورٹ ہی نواز شریف کو ریلیف دے سکتی ہے۔ لیکن کسی فریق نے ہائی کورٹ میں ابھی تک درخواست نہیں دی۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ عدالت تمام شواہد کا جائزہ لے گی کسی کا نقصان نہیں کریں گے۔ عدالت نے ایف آئی اے کو تین ہفتوں میں تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

مریم نواز نے نواز شریف کی رہائی کے لیے عوامی رابطہ مہم شروع کر رکھی ہے۔
مریم نواز نے نواز شریف کی رہائی کے لیے عوامی رابطہ مہم شروع کر رکھی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز نے چند روز قبل لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ذرائع ابلاغ کو ایک ویڈیو دکھائی تھی۔ ویڈیو میں نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل مل کیس میں سات سال قید کی سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک مبینہ طور یہ اعتراف کرتے دکھائے گئے ہیں کہ انہوں نے یہ فیصلہ دباؤ میں کیا، جب کہ نواز شریف بے قصور تھے۔

مریم نواز اور مسلم لیگ ن نے ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد مطالبہ کیا تھا کہ نواز شریف کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

اس کیس سے منسلک ایک کردار میاں طارق کو گرفتار کر لیا گیا ہے جو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کیس کے بعض کردار ملک سے باہر چلے گئے ہیں یا روپوش ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG