رسائی کے لنکس

logo-print

بس سروس کی معطلی سے کشمیری پریشان


فائل فوٹو

پاکستان اور بھارت میں منقسم کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان گزشتہ 14 سال سے چلنے والی بس سروس کی معطلی کنٹرول لائن کے دونوں جانب منقسم کشمیری خاندانوں کے ملاپ اور انسانی رشتوں میں رکاوٹ بن گئی ہے۔

کشمیریوں کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ گو کہ اس بار بھی یہ رکاوٹ عارضی ثابت ہوگی لیکن دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے اثرات عرصے تک نمایاں رہتے ہیں۔

منقسم خاندانوں کے درمیان ملاپ کا اہم ذریعہ بننے والی مظفرآباد - سری نگر بس سروس ماضی کی طرح اس بار بھی دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کے سبب گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے معطل ہے۔

بس سروس کی معطلی کی وجہ کی وجہ سے دونوں جانب آباد کشمیریوں کے رابطے نہ صرف منقطع ہیں بلکہ کشیدگی سے کچھ پہلے ایک دوسرے کے علاقوں کا سفر کرنے والے افراد بھی دونوں جانب پھنس کر رہ گئے ہیں۔

مظفرآباد اور سری نگر کے درمیان لائن آف کنٹرول کے آر پار چکوٹھی کے راستے چلنے والی ہفتہ وار بس سروس 25 فروری کو معطل ہوئی تھی۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے سوپر کی رہائشی شاہدہ بیگم بھانجے کی شادی میں شرکت کے لیے 21 جنوری کو اسی روٹ سے مظفرآباد پہنچی تھیں۔ لیکن بس سروس کی معطلی کی وجہ سے تاحال ان کی واپسی ممکن نہیں ہوسکی ہے جس کے سبب وہ سخت پرشان ہیں۔

شاہدہ بیگم کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خاوند اور بچوں کے پاس واپس جانے کے لیے بے تاب ہیں۔

مظفرآباد - سری نگر بس سروس کے ذریعے ہر سال ہزاروں کشمیری دونوں جانب کا سفر کرتے ہیں اور اپنے رشتے داروں سے ملاقاتیں کرکے ایک دوسرے کے دکھ، درد اور خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔

مظفرآباد کے تاجر خواجہ شبیر احمد بھی اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کے لیے سری نگر - مظفرآباد بس سروس کے ذریعے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر جانے کے لیے تمام تیاریاں کرچکے تھے لیکن بس سروس کی معطلی کے سبب ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔

خواجہ شبیر احمد کا کہنا ہے کہ دونوں حصوں کے لوگوں کو آپس میں ملنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع دیے جانے چاہئیں اور اسی طرح ان کے بقول امن کو فروغ ملے گا۔

کنٹرول لائن کے آر پار صرف بس سروس ہی معطل نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا سلسلہ بھی رکا ہوا ہے۔

کیا بھارتی انتخابات کے بعد سروس بحال ہوگی؟

کنٹرول لائن کے پاس سفر اور تجارت کی نگرانی کرنے والے پاکستانی کشمیر کے ادارے 'ٹریڈ اینڈ ٹریول اتھارٹی' کے ناظم شاہد احمد نے امید ظاہر کی ہے کہ بھارت میں انتخابات کے بعد بس اور ٹرک سروس بحال ہو جائے گی۔

دونوں ممالک نے اپریل 2005ء میں عالمی برادری کی معاونت سے منقسم کشمیر کے دو بڑے شہروں سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان عشروں سے جدا کشمیری خاندانوں کے تعلقات کو بڑھانے کے لیے بس سروس کا آغاز کیا تھا جسے بعد میں مزید دو علاقوں تک بڑھا دیا گیا تھا۔

سن 2008 میں اعتماد سازی کے لیے سری نگر - مظفر آباد اور راولاکوٹ - پونچھ کے درمیان ٹرک سروس کے ذریعے بین الکشمیر' تجارت کا بھی آغاز ہوا تھا۔ لیکن ماضی میں بھی دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث بس اور ٹرک سروس عارضی طور پر بند ہوتی رہی ہے۔

ٹرک سروس بنیادی طور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور بس سروس انسانی رشتوں کے ملاپ کا بڑا ذریعہ ہے۔ دونوں جانب آباد خاندانوں کو پوری امید ہے کہ انتخابات کے بعد حالات 'نارمل' ہوجائیں گے لیکن اس کے لیے فی الحال انتظار کرنا ہوگا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG