رسائی کے لنکس

اسرائیل نے فوجی اڈے پر حملہ کیا ہے: شام کا الزام


شام کے علاقے قصوہ کی یہ تصویر شامی حکومت نے جاری کی ہے جس میں اس فوجی اڈے پر آگ بھڑکتے دیکھی جاسکتی ہے جسے شامی دعووں کے مطابق اسرائیل نے نشانہ بنایا

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'سانا' کے مطابق حملہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے امریکہ کے الگ ہونے کے اعلان کے فوری بعد کیا گیا۔

شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل نے منگل کو دمشق کے نزدیک اس کے ایک فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا ہے۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'سانا' کے مطابق حملہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے امریکہ کے الگ ہونے کے اعلان کے فوری بعد کیا گیا۔

'سانا' کے مطابق ٹرمپ کے اعلان کے فوری بعد دمشق کے جنوب میں واقع علاقے قصوہ میں دھماکے سنے گئے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق میزائل اسرائیل نے فائر کیے تھے جن میں سے دو میزائلوں کو شام کے فضائی دفاعی نظام نے نشانہ بنا کر فضا میں تباہ کردیا۔

شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے حامی ایک مقامی ملیشیا کے کمانڈر نے برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے قصوہ میں واقع ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے تاہم حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ادھر تل ابیب میں جب اسرائیلی فوج کے ترجمان سے ان دعووں کے بارے میں سوال کیا گیا تو ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ غیر ملکی رپورٹس پر تبصرہ نہیں کرتے۔

اسرائیل اس سے قبل بھی کئی بار شام میں فوجی تنصیبات اور قافلوں کو نشانہ بنا چکا ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی فوج نے نو اپریل کو ایک شامی فوجی ہوائی اڈے پر میزائل داغے تھے جس میں سات ایرانی فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

اسرائیل نے شام کے ساتھ اپنے سرحدی علاقے میں تعینات فوج کو چوکنا کردیا ہے جب کہ ریزرو فوجی دستے بھی طلب کیے جارہے ہیں۔
اسرائیل نے شام کے ساتھ اپنے سرحدی علاقے میں تعینات فوج کو چوکنا کردیا ہے جب کہ ریزرو فوجی دستے بھی طلب کیے جارہے ہیں۔

گو کہ اسرائیل عموماً شام پر کیے جانے والے حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا ہے لیکن ایران نے حملے کا الزام تل ابیب پر عائد کرتے ہوئے اس کا بدلہ لینے کی دھمکی دی تھی۔

ایران اور اس کی حامی لبنانی تنظیم حزب اللہ شام کے صدر بشار الاسد کے اتحادی ہیں اور گزشتہ سات سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران شامی فوج کے ساتھ مل کر حکومت مخالف باغیوں سے لڑتے رہے ہیں۔

اسرائیل بارہا شام میں ایران اور حزب اللہ کے اہلکاروں، قافلوں اور تنصیبات کو نشانہ بناچکا ہے اور اس کا موقف ہے کہ وہ شام کے ساتھ اپنی سرحد پر حزب اللہ یا ایران کو مضبوط ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا۔

اسرائیل صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کرنے والے چند ملکوں میں شامل ہے اور کئی تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے جوہری معاہدے سے نکل جانے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کسی براہِ راست تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

گولان ہائیٹس پر تعینات اسرائیلی فوجی ٹینک (فائل فوٹو)
گولان ہائیٹس پر تعینات اسرائیلی فوجی ٹینک (فائل فوٹو)

منگل کو ہی اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے شام میں ایرانی فورسز کی "غیر معمولی سرگرمی" کا سراغ لگایا ہے جس کے بعد اسرائیل کے زیرِ قبضہ شامی علاقے گولان ہائیٹس میں سول انتظامیہ کو بموں سے محفوظ پناہ گاہیں تیار کرنے، دفاعی نظام مضبوط بنانے اور بعض ریزرو فوجی دستوں کو طلب کرنے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔

خطے کے حالات کے پیشِ نظر اسرائیلی فوج کے سربراہ گادی ایزن کوٹ نے اپنی معمول کی مصروفیات منسوخ کردی ہیں اور اسرائیلی فوج کے مطابق وہ وزیرِ دفاع ایوڈگور لائبرمین اور قومی سلامتی کے مشیروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG