رسائی کے لنکس

صدر ٹرمپ کے شام سے متعلق متضاد بیانات


فائل
فائل

ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں کے اندر اندر امریکی جوابی کارروائی سے متعلق وہ ’’اہم فیصلے‘‘ کریں گے، جس سے تقریباً ایک برس قبل اُنھوں نے 59 ’ٹوم ہاک کروز میزائل‘ چلانے کے احکامات دیے تھے

معاملہ جب شام کا ہو تو بحیثیت ایک عام شہری یا بطور امریکی صدر، ڈونالڈ ٹرمپ نے اکثر و بیشتر متضاد بیان دیے ہیں۔

پیر کے روز اُنھوں نے شام کی جانب سے اختتام ہفتہ کیے گئے مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے’’سفاکانہ‘‘ حملے کی سخت مذمت کی جس میں 40 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں کے اندر اندر امریکی جوابی کارروائی سے متعلق وہ ’’اہم فیصلے‘‘ کریں گے، جس سے تقریباً ایک برس قبل اُنھوں نے 59 ’ٹوم ہاک کروز میزائل‘ چلانے کے احکامات دیے تھے، تاکہ اُس شامی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جائے جہاں شام کے وہ جیٹ طیارے کھڑے تھے جنھیں استعمال کرتے ہوئے کیمیائی حملہ کیا گیا تھا۔

ایک ہفتہ قبل، اخباری کانفرنس کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’’میں چاہتا ہوں کہ نکل جاؤں۔ میں اپنی فوجوں کو واپس وطن بلانا چاہتا ہوں‘‘۔ اُنھوں نے اپنے مشیروں کا مشورہ بددلی سے مانا تھا کہ آئندہ مہینوں کے دوران شام میں امریکی موجودگی قائم رکھی جائے۔

سنہ 2013 میں، جس سے دو سال بعد اُنھوں نے صدارتی عہدے کا انتخاب لڑنے کا اعلان کیا، ٹوئٹر پر پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو ’’شام کے جہنم سے دور رہنا چاہیئے‘‘۔ یہ کہتے ہوئے کہ ’’ہم اپنی زندگی اور اربوں ڈالر ضائع کرکے کیا حاصل کرلیں گے؟ صفر-‘‘

اُسی سال، ٹرمپ نے اپنے پیش رو، سابق صدر براک اوباما سے التجا کی، ’’شام پر حملہ مت کریں۔ اس کا کوئی حاصل نہیں۔ اپنا ’بارود‘ بچا کے رکھیں، کسی اور (زیادہ اہم) دِن کے لیے‘‘۔

جب اوباما نے اعلان کیا کہ شام نے ’’سرخ لکیر‘‘ پار کرکے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں، اور یہ کہ وہ اس کا مناسب جواب دیں گے، اور پھر مبینہ کیمیائی حملے کے بعد بھی کچھ نہیں کیا، تو ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’’صدر اوباما کی کمزوری اور فیصلہ نہ کرنے کی قوت کے نتیجے میں شام پر حملہ نہیں کیا؛ لیکن ہم ایک ہولناک اور انتہائی مہنگے (رقم کے علاوہ) اقدام سے بچ گئے ہیں‘‘۔

اکثر ٹرمپ اوباما پر حملے کیا کرتے تھے۔ اُن کے فوجی ارادوں پر شکوک کا اظہار کرتے تھے اور بیرون ملک تعینات امریکی فوجیوں کی وطن واپسی سے متعلق نظام الاوقات کو زیر بحث لاتے تھے۔

اب ٹرمپ پر ملتی جلتی وجوہ کی بنا پر نکتہ چینی کی جا رہی ہے، جنھوں نے شام میں تعینات 2000 امریکی فوجوں کو جلد سے جلد واپس لانے کی خواہش کا اعلان کر رکھا ہے۔

اریزونا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جان مکین، جو 1960ء کی دہائی میں ویتنام جنگ کے دوران جنگی قیدی رہ چکے ہیں اور 2008ء میں ری پبلیکن پارٹی کے ناکام صدارتی امیدوار تھے، کہا ہے کہ جب ٹرمپ ’’وقت سے قبل یہ اشارہ دیتے ہیں کہ امریکہ شام سے کام مکمل کیے بغیر فوجوں کا انخلا چاہتا ہے، تو بشار الاسد اور اُن کے روسی اور ایرانی حامی اُنھیں سنتے ہیں اور امریکی عدم اقدام سے جراٴت پکڑتے ہیں۔ اسی لیے اسد نے ایک بار پھر کیمیائی حملہ کرکے بے گناہ افراد، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا‘‘۔

وائٹ ہاؤس پریس سکریٹری سارا ہکابی سینڈرز نے کہا ہے کہ یہ کہنا ’’اشتعال انگیز‘‘ امر ہوگا کہ اسد کے کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کا ٹرمپ موجب بن سکتے ہیں۔

مکین نے شام پر نئے حملے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کو ضرورت ہے کہ وہ ’’اس بات پر زور دیں کہ اسد کو جنگی جرائم کی قیمت ادا کرنی ہوگی‘‘۔

XS
SM
MD
LG