رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان کا امریکہ سے افغان مسئلے کے پرامن حل کے لیے حقیقی اقدامات کا مطالبہ


فائل فوٹو

افغان طالبان نے امریکہ سے مزید کوئی موقع ضائع کیے بغیر افغانستان کے مسئلے کو طاقت کے بجائے پُرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے حقیقی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

طالبان کا یہ مطالبہ امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کی افغانستان میں فوجی کارروائی کے 18 سال مکمل ہونے پر سامنے آیا ہے۔ امریکہ نے 11 ستمبر 2001 کو امریکہ میں ہونے والے حملوں کے بعد اکتوبر 2001 میں افغانستان میں کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

افغان طالبان کے اتوار کو جاری ہونے والے بیان میں ایک بار پھر افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

طالبان نے فوجی انخلا کے حوالے سے بیان میں امریکہ سے کہا ہے کہ اگر یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو مزید 18 سال تک جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

طالبان کے طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں قیام امن کے لیے گزشتہ ایک سال سے جاری امن مذاکرات اچانک ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

گزشتہ ایک سال کے دوران امریکہ کےنمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد اور طالبان رہنماؤں کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بات چیت کے نو ادوار ہوئے۔ جن میں فریقین مبینہ طور پر امن معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک دھماکے میں امریکی فوجی سمیت متعدد افراد کی ہلاکت ہوئی تو اس کے بعد صدر ٹرمپ نے یہ مذاکرات اچانک ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

امریکہ کے طرف سے ان مذاکرات کے بحال ہونے کا کوئی عندیہ نہیں دیا گیا ہے۔ طالبان وفد نے حالیہ دنوں میں اسلام آباد کا دورہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق طالبان وفد نے امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد سے ملاقات کی ہے۔

اس ملاقات کی پاکستان، طالبان یا امریکہ نے تصدیق نہیں کی۔ جبکہ ملاقات کی کوئی تفصیل بھی سامنے نہیں آئی تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد فریقین کے درمیان اعتماد بحال کرنے کی کوشش ہے۔

'طالبان مذاکرات کے لیے تیار ہیں'

تجزیہ کار اور سینئر صحافی زاہد حسین کا کہنا ہے کہ طالبان کی طرف سے یہ عندیہ دیا جا رہا ہے کہ وہ دوبارہ بات چیت شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ان کے مطابق امریکہ کی طرف سے مذاکرات معطل ہونے کی ایک وجہ طالبان کا جنگ بندی سے انکار سمیت دیگر امور ہو سکتے ہیں۔

زاہد حسین کے بقول طالبان کا دورہ اسلام آباد اہم ہے۔ اس دوران ان کی امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد سے ملاقات ہوئی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کا کردار اہم ہے لیکن اسلام آباد کا اثر و رسوخ اتنا نہیں ہے کہ وہ فریقین کو تمام باتیں ماننے پر راضی کر سکے۔

ان کے بقول طالبان کا حالیہ دورہ اسلام آباد کے بعد پاکستان کا کردار اہم ہو گیا ہے۔

تجزیہ کار زاہد حسین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران امن بات چیت شروع ہونے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے بقول اس کے لیے امریکہ جنگ بندی کی شرط عائد کر سکتا ہے ۔

دفاعی امور کے تجزیہ کار امجد شعیب کا کہنا ہے کہ طالبان پاکستان سے پہلے روس، چین اور ایران کا بھی دورہ کر چکے ہیں۔

ان کے بقول ان دوروں کے دوران طالبان نے ان ممالک کو امریکہ کے ساتھ معطل ہونے والی بات چیت کے بارے میں اپنے مؤقف سے آگاہ کیا۔

امجد شعیب نے کہا کہ مختلف ممالک کا دورہ کرکے طالبان اس بات کا عندیہ دے رہے ہیں کہ وہ ابھی بھی امریکہ سے مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ بات چیت وہیں سے شروع کرنے کے خواہاں ہیں جہاں سے یہ مذاکرات معطل ہوئے تھے۔

پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کے مطابق پاکستان اور چین کے لیے امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت شروع ہونا نہایت اہم ہے۔

ان کے بقول اسلام آباد اور بیجنگ اس بارے میں متفق ہیں کہ امن معاہدے کے ساتھ افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا خطے کے امن و استحکام کے لیے مفید ہے۔ بجائے اس کے کہ یہ انخلا بغیر کسی معاہدے کے ہو۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG