رسائی کے لنکس

علمائے کرام اور ذاکرین نے عزاداران سے خطاب میں آج کے دن امام حسین اور ان کے اہل خانہ کی قربانیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے شہداء کے فضائل و مناقب بیان کئے اور کہا کہ ''امام کی قربانی دین اسلام ہی کے لئے نہیں بلکہ سچائی، حق بات اور اصول پسندی کے آفاقی اصولوں کے لئے تھی''

ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی یوم عاشور انتہائی عقیدت و احترام سے منایا گیا. یوم عاشور کے مرکزی جلوس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اس موقع پر سیکورٹی کے کڑے انتظامات کئے گئے تھے.

کراچی میں محرم الحرام کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا اور اپنے روایتی راستوں سے گزرتا ہوا امام بارگاہ حسینیاں ایرانیاں پر اختتام پزیر ہوا۔

جلوس میں شامل عزادارن، نواسہ رسول اور اہل بیت اطہار کی عظیم قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا، ان کی یاد میں نوحہ خوانی کی جاتی رہی، جبکہ ماتم بھی کیا گیا.

جلوس کے راستوں پر عزاداران کے لئے سبیلیں قائم گئی تھیں اور لنگر کا بھی انتظام کیا گیا، جبکہ شرکاء زنجیر زنی اور ماتم کرتے رہے۔

اس موقع پر عزادارن کو امام حسین کے گھوڑے ذوالجناح کی شبہیہ کی زیارتیں بھی کروائی گئیں۔

علمائے کرام اور ذاکرین نے عزاداران سے خطاب میں آج کے دن امام حسین اور ان کے اہل خانہ کی قربانیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے شہداء کے فضائل و مناقب بیان کئے اور کہا کہ امام کی قربانی دین اسلام ہی کے لئے نہیں بلکہ سچائی، حق بات اور اصول پسندی کے آفاقی اصولوں کے لئے تھی۔

معروف عالم دین علامہ سید ناظر عباس تقوی کا کہنا تھا کہ ''امام حسین کی جدوجہد حریت، اصول پسندی اور سچائی کے لئے استعارے کی حیثیت رکھتا ہے''۔

صوبائی دارلحکومت سمیت صوبے بھر میں مجالس اور ماتمی جلوسوں کے لئے سخت اقدامات کئے گئے تھے. اس موقع پر 10 ہزار سے زائد سیکورٹی اہلکار ڈیوٹی پر معمور رہے۔

ترجمان محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق یوم عاشور کے موقع پر کراچی بھر میں 6 ہزار سے زائد مجالس اور 600 سے زائد چھوٹے بڑے جلوس نکالے گئے۔

سیکورٹی خدشات کے پیش نظر کراچی سمیت اہم شہروں میں موبائل فون سگنل اور انٹرنیٹ سروس صبح سے جلوس کے اختتام تک بند رکھی گئی۔ موبائل فون سگنل بند رہنے سے لوگوں کو رابطے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ماتمی جلوسوں کو کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے ذریعے لگائے گئے سیکڑوں سی سی ٹی وی کیمروں کے زریعے مسلسل مانیٹر بھی کیا جاتا رہا۔

دوسری جانب سیکورٹی اقدامات کا جائزہ لینے کے لئے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آئی جی سندھ کے ہمراہ صوبے کے مختلف شہروں میں جلوسوں کا دورہ کیا۔ ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل سعید احمد نے بھی ماتمی جلوسوں کی سیکورٹی کا فضائی جائزہ لیا اور انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

وزیر داخلہ سندھ سہیل انور خان سیال نے محرم الحرام کے جلوسوں مجالس اور مرکزی جلوس کے سیکیورٹی اقدامات پر سندھ پولیس، رینجرز اور تمام سیکیورٹی اداروں کو بھی شاباش دی۔

کراچی میں 8 سال قبل عاشورہ کے جلوس میں بم دھماکے میں تقریباً 45 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ اس مقدمے میں کالعدم جماعت سے تعلق رکھنے والے گرفتار ملزمان قید کے دوران پولیس کو چکما دے کر فرار ہوگئے تھے جبکہ ایک ملزم بھاگتے ہوئے ہولیس فائرنگ سے مارا گیا تھا۔

اب تک قانون نافذ کرنے والے ادارے مفرور ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہے ہیں جبکہ مقدمہ آٹھ سال سے انسداد دہشتگردی عدالت میں زیر سماعت ہے جس پر مزید کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG