رسائی کے لنکس

’خاموشی ترک کرنے والی خواتین‘ 2017ء کی ’پرسن آف دی ایئر‘ کے لیے نامزد


فائل

ٹائم مگزین کے ایڈیٹر اِن چیف ایڈورڈ فلسنتھل نے لکھا ہے کہ ’’خاموشی توڑنے والی‘‘ یہی خواتین دراصل ’’ہیش ٹیگ، کی معاملہ فہمی کی تحریک‘‘ کی روح رواں ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’تاہم، اس کا آغاز اہم سماجی تبدیلی کے طور پر ہوا، جیسا کہ تحاریک میں ہوا کرتا ہے، جس میں ہمت پر مبنی ذاتی کردار نمایاں ہے‘‘

ٹائم مگزین نے متعدد افراد، جن میں خاص طور پر وہ کئی ایک خواتین جنھوں نے جنسی طور پر ہراساں کیےجانے اور جسارت سے متعلق آگہی کی نشاندہی ضروری خیال کی، اُنھیں رسالے کی جانب سے 2017ء کا ’پرسن آف دی یئر‘ قرار دیے جانے کے لیے نامزد کیا ہے۔

ایڈیٹر اِن چیف ایڈورڈ فلسنتھل نے لکھا ہے کہ ’’خاموشی توڑنے والی‘‘ یہی خواتین دراصل ’’ہیش ٹیگ، کی معاملہ فہمی کی تحریک‘‘ کی روح رواں ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’تاہم، اس کا آغاز اہم سماجی تبدیلی کے طور پر ہوا، جیسا کہ تحاریک میں ہوا کرتا ہے، جس میں ہمت پر مبنی ذاتی کردار نمایاں ہے‘‘۔

’دی سائلنس بریکرز‘ نامزد کردہ وہ خواتین ہیں جنھوں نے اس سال کھل کر ہالی وڈ کی مشہور شخصیت ہاروی وینسٹائن اور دیگر پر الزام لگایا، جنھوں نے اپنے خلاف ہونے والی جنسی زیادتی کا شہرہ ’’ہیش ٹیگ #می ٹو‘‘ پر انگریزی اور دیگر زبانوں میں اپنی روداد سنا کر کیا۔

’ٹائم پرسن آف دی یئر‘ کے لیے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو فہرست میں ’رنر اپ‘، جب کہ چین کے صدر ژی شن پنگ کو تیسرے نمبر پر نامزد کیا گیا ہے۔

دیگر شخصیات جو اس فہرست میں نمایاں ہیں، وہ ہیں شمالی کوریا کے راہنما کِم جونگ اُن؛ سعودی علی عہد محمد بن سلمان؛ خصوصی وفاقی پرازیکیوٹر رابرٹ مولر اور ’این ایف ایل‘ کے سابق کرارٹر بیک، کولن کیپرنک شامل ہیں، جنھوں نے نسلی پرستی اور پولیس کے ظلم کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا آغاز کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG