رسائی کے لنکس

ٹوکیو اولمپکس کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب، امریکی خاتون اول جل بائیڈن کی خصوصی شرکت


ٹوکیو اولمپکس کی افتتاحی تقریب کے دوران ہونے والی آتش بازی کا منظر ۔ فوٹو اے پی

کرونا وبا کی وجہ سے ایک سال تک التوا کا شکار رہنے والے ٹوکیو اولمپکس کا جمعے کے روز شاندار افتتاح ہوا، اس موقع پر رنگارنگ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ ٹوکیو اولمپکس کا افتتاح جاپان کے بادشاہ ناروہیٹو نے کیا، جبکہ اس میں امریکی خاتون اول جل بائیڈن نے بھی خصوصی شرکت کی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، مہمانوں کی آمد پر پابندی کی وجہ سے ٹوکیو ایئرپورٹ بھی سنسان رہا اور اسٹیڈیم بھی تماشائیوں کی رونق سے محروم۔

مبصرین ٹوکیو اولمپکس کو تاریخ کا سب سے غیر معمولی اولمپکس ایونٹ قرار دے رہے ہیں۔ 'یونائیٹڈ بائے ایموشنز' یعنی 'جذبات کے لحاظ سے متحد' کے عنوان پر ترتیب دی گئی اس افتتاحی تقریب میں اولمپک مشعل بھی روشن ہوئی، تمام ملکوں کے پرچم بھی بلند ہوئے، ایتھلیٹ پریڈ بھی ہوئی اور آتش بازی بھی۔ کمی تھی تو تماشائیوں کی۔

کرونا وبا کی وجہ سے تقریب میں اسٹیڈیم کی ہزاروں کرسیاں خالی تھیں اور محض 900 اہم مہمان اور حکام اس تقریب میں مدعو تھے۔

افتتاحی تقریب
افتتاحی تقریب

اس موقعے پر میوزکل پرفارمنس اور ڈرونز کی مدد سے دنیا کا نقشہ بھی تیار کیا گیا۔ تاہم، ایتھلیٹ پریڈ مختلف اس لحاظ سے رہی کہ اس میں معمول سے کم تعداد میں کھلاڑی شریک ہوئے جو سماجی فاصلے کی ہدایت کے مطابق ماسک لگائے ایک دوسرے سے فاصلے پر چلتے رہے۔

اس سے پہلے اولمپکس کی روایت کے بر خلاف اولمپک مشعل کو لے جانے کے عمل کو بھی عوامی تقریبات کے بجائے آن لائن تقریبات تک ہی محدود رکھا گیا۔

ٹوکیو اولمپکس کی آرگنائزنگ کمیٹی کی جانب سے ان تمام احتیاطی تدابیر کے باوجود جاپانی عوام مجموعی طور پر گیمز کے انعقاد کے خلاف پائے جاتے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ کھیلوں کے انعقاد سے کرونا وبا سے نبردآزما جاپان میں صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔

جمعرات کو ٹوکیو میں کرونا وائرس کے دو ہزار نئے کیسز سامنے آئے۔ شہر میں ایمرجنسی کے نفاذ کے باوجود گزشتہ چھ ماہ کے دوران رپورٹ ہونے والے کیسز کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔

اب تک اولمپکس سے منسلک ایک سو چھ افراد کا کرونا ٹیسٹ مثبت آچکا ہے جن میں کئی ایتھلیٹس بھی شامل ہیں۔ یہ ایتھلیٹس کئی سال سے اولمپکس کھیلوں میں شرکت کے لئے تیاری کر رہے تھے۔

افتتاحی تقریب کی ایک اور جھلک
افتتاحی تقریب کی ایک اور جھلک

اسپورٹس مبصرین ٹوکیو اولمپکس کو سب سے متنازعہ اولمپکس بھی قرار دے رہے ہیں۔ 2020 کے اولمپکس کے لئے ٹوکیو کی نامزدگی سے لیکر کرونا وبا اور پھر افتتاحی تقریب کے بے قابو بجٹ سے لیکر تقریب سے منسلک اہم افراد کی برطرفی کا معاملہ دنیا بھر میں شہ سرخیوں کا موضوع بنا۔

یہی نہیں ایک اور رپورٹ کے مطابق، جاپان کی جانب سے اپنے ابھرتے سورج والے قومی پرچم کو لہرانے پر بھی کئی پڑوسی ممالک نے اعتراض کیا۔ جاپان کے دو پرچم ہیں اور دونوں کے ہی نام 'ابھرتا سورج ہیں' ایک قومی پرچم ہے جس پر درمیان میں سرخ دائرہ ہے جو عام ہے۔ دوسرا پرچم جس کے درمیان سرخ دائرے سے سولہ کرنیں پھوٹ رہی ہیں اور دور تک جا رہی ہیں، تنقید کی زد میں رہتا ہے۔

دراصل جب جاپان نے 1945 میں دوسری عالمی جنگ میں شکست سے پہلے، جزیرہ نما کوریاکو اپنی کالونی بنانے اور چین پر قبضے کے لئے حملہ کیا تھا تو اس کی بحریہ کے جہازوں پر یہ پرچم لہرا رہا تھا۔ یہ پرچم اب بھی جاپانی بحریہ کے استعمال میں ہے اور ان ممالک میں اس پرچم کو جنگی جرائم کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، جاپان کا موقف ہے کہ اس کے یہ دونوں پرچم ان جنگوں سے پہلے سے اس کی قومی تاریخ کا حصہ رہے ہیں۔

ان تمام تنازعات اور مںفی خبروں کے باوجود ٹوکیو اولمپکس شروع ہوگئے ہیں اور یہ گیمز آٹھ اگست تک جاری رہیں گے۔ خبر رساں ادارے، اے پی کے مطابق تمام مشکلات اور عالمی وبا کے زمانے میں اولمپکس کے انعقاد کی بڑی وجوہات میں مالی معاملات بھی شامل ہیں۔ انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کے میڈیا ہاؤسز سے براڈکاسٹنگ رائٹس جبکہ میڈیا ہاؤسز کے اشتہاری ایجنسیز کے ساتھ کئی ارب ڈالر کے معاہدے ہیں جن کی پاسداری ضروری ہے۔ ساتھ ہی ایتھلیٹس کے بھی اسپورٹس سپانسرشپس کے معاہدے ہیں۔

XS
SM
MD
LG