رسائی کے لنکس

ٹوکیو اولمپکس کھلاڑیوں کے لئے اپنے نظریات کے اظہار کا پلیٹ فارم کیسے مہیا کریں گے؟


ہنگری سے تعلق رکھنے والی ٹیبل ٹینس کی کھلاڑی ماریہ فزیکس ٹوکیو میٹرو پولیٹن جمنیزئیم میں ایک تربیتی سیشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ فوٹو اے پی

سال 2016 میں ہونے والے اولمپکس اور 2021 کے ٹوکیو اولمپکس کے درمیان دنیا خاصی تبدیل ہو چکی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ 'بلیک لائیوز میٹر' اور 'می ٹو' جیسی تحریکوں کا رنگ ٹوکیو اولمپکس پر بھی نظر آئے گا اور کئی ایتھلیٹس دنیا کی توجہ ان موضوعات پر مرکوز رکھنے کے لئے سرگرم نظر آئیں گے۔

ٹوکیو اولمپکس میں حصہ لینے والے کئی کھلاڑی اس سے پہلے اپنے اپنے ملکوں میں بھی ان مقاصد کے لئے آواز اٹھا چکے ہیں اور خیال ہے کہ وہ انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کی جانب سے خبردار کئے جانے کے باوجود اس عالمی پلیٹ فارم پر ان اہم موضوعات پر اپنے نظریے کے اظہار کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینگے۔

وائس آف امریکہ کے مطابق، بدھ کے روز امریکہ، سویڈن، چلی اور برطانیہ کی ساکر ٹیم کی خواتین کھلاڑیوں نے نسلی تعصب کے خلاف احتجاج کی علامت کے طور پر میدان میں گھٹنے ٹیکے تھے۔

سپورٹس مبصرین اس بات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں کہ مزید کھلاڑی آنے والوں دنوں میں ایسے علامتی احتجاج میں شامل ہونگے۔

اولمپکس چارٹر کے اصول نمبر 50 کے تحت گیمز کے دوران سیاسی احتجاج کی ممانعت ہے، لیکن سماجی اور سیاسی مسائل پر بڑھتے ہوئے 'ایتھلیٹ ایکٹوزم' کو دیکھ کر اس سال کے اوائل میں ان میں نرمی برتی گئی تھی۔

تاہم، وکٹری اسٹینڈ اور کھیل کے میدان میں کسی سماجی اور سیاسی نظریے کے اظہار کی ممانعت اب بھی برقرار ہے۔

اولمپکس رول ففٹی 1968ء کے بعد متعارف کروایا گیا تھا جب امریکی کھلاڑیوں ٹام اسمتھ اور جان کارلوس نے اپنی فتح کے بعد سیاہ فام طاقت کے اظہار میں فضا میں مکا بلند کیا تھا۔

آج اسمتھ اور کارلوس کو ان کے 'سیاہ فام سلامی' کے اس انداز پر تعصبی نظام کے مخالف 'باغی ہیرو' کے طور پر جانا جاتا ہے۔

تاہم، صحافتی ادارے 'فنانشل ٹائمز' سے بات کرتے ہوئے انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کے موجودہ سربراہ تھامس بیک کا کہنا تھا کہ کھیل کا میدان اور میڈل اسٹینڈ کھلاڑیوں کی جیت کا جشن منانے کی جگہ ہے، نا کہ اپنے ذاتی سیاسی نظریہ کے فروغ کی اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے کھلاڑیوں کو سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ سزا کس نوعیت کی ہوگی۔

XS
SM
MD
LG