رسائی کے لنکس

logo-print

صدر ٹرمپ نے عہدے سے ہٹانے کے لیے دباؤ ڈالا، سابق امریکی سفیر


میری یووینو وچ

یوکرین کے لیے امریکہ کی سابق سفیر میری یووینو وچ نے امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی سلسلے میں تحقیقات میں گواہی دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے انہیں اپنے عہدے سے ہٹانے کے لیے محکمہ خارجہ پر دباؤ ڈالا تھا۔

اس سلسلے میں پہلی خبر واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ منظر عام پر آنے والی نئی معلومات یووینووچ کے حوالے سے تھیں۔

ٹرمپ نے مئی میں انہیں یوکرین میں سفیر کے عہدے سے ہٹا کر واپس بلا لیا تھا جب انہیں یہ محسوس ہوا تھا کہ وہ انہیں سیاسی طور پر نقصان پہنچا رہی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے یوکرین کے ساتھ معاملات پر ایوان نمائندگان کی جانب سے مواخذے کی تحقیقات شروع ہونے کے بعد سے جمعرات کے روز منیاپیلس میں اپنی پہلی صدارتی مہم میں ڈیموکریٹس پر بھرپور نکتہ چینی کی۔

کانگریس کے کمیٹی کے ارکان یہ جاننا چاہتے ہیں آیا ٹرمپ نے یوکرین کی فوجی امداد کو اس وقت تک روکا تھا جب تک وہاں کے صدر، بائیڈن اور ان کے بیٹے کے بارے میں چھان بین پر راضی نہ ہوں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کے صدر نے آج دوسرے موضوعات پر ایک بڑی نیوز کانفرنس میں ایک بار پھر کہا ہے کہ ان پر قطعی طور پر کوئی دباؤ نہیں تھا۔

یوکرین کے صدر نہیں جانتے کہ ڈیموکریٹس کیا بات کر رہے ہیں اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس ٹیلی فون کال کے دوران کوئی بلیک میلنگ نہیں ہوئی۔

بدھ کے روز نیوہمپشائرمیں اپنی صدارتی مہم کے دوران ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے کہا کہ ٹرمپ کا اقدام مواخذے کا متقاضی ہے اور انہں جواب دہ ٹھہرایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ منتخب ہونے کے لیے کچھ بھی کریں گے، چاہے وہ جمہوریت کی انتہائی بنیادی نوعیت کی خلاف ورزی ہی کیوں نہ ہو۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اپنی صدارتی ریلی میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے جو بائیڈن کی دیانتداری کو ہدف بنایا۔

بائیڈن نے ٹرمپ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میرے اور میرے بیٹے کے خلاف ان کے الزامات میں رتی بھر صداقت نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG