رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کی وینزویلا میں کسی بھی حملے میں ملوث ہونے کی تردید


امریکہ نے وینزویلا میں سمندری راستے سے ہونے والے حملے میں کسی بھی طرح ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کے حوالےسے صحافیوں کو بتایا کہ اس سے امریکہ کی حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم اس بارے میں مزید معلومات حاصل کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مدورو نے پیر کو ملک کے سرکاری ٹی وی پر خطاب میں کہا تھا کہ حکام نے 13 دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان کا واشنگٹن سے رابطہ تھا جو سمندری راستے سے وینزویلا میں داخل ہو کر ان کی حکومت ختم کرنا چاہتے تھے۔

نکولس مدورو نے ٹی وی پر کچھ دستاویزات بھی دکھائی تھیں۔ جن کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ان دستاویزات میں شامل دو پاسپورٹ اور دیگر شناختی دستاویزات ایرن بیری اور لوک ڈینمن کی ہیں۔ یہ دونوں افراد زیرِ حراست ہیں جو امریکی سابق فوجی جورڈن گوڈریو کی سیکیورٹی کمپنی میں کام کرتے ہیں۔

وینزویلا کے حکام نے ان دونوں افراد کو بھی سابق سیکیورٹی اہلکار بتایا تھا۔ حکام کا کہنا تھا کہ وینزویلا میں سمندری راستے سے داخل ہونے والے آٹھ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ کی فوجی طاقت استعمال کرنے کی دھمکی مؤثر نہیں: ناقدین
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:41 0:00

'اے ایف پی' کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے صحافیوں کو اس حوالے سے مزید تفصیل بتائی کہ وینزویلا کے صدر ایک سنسنی خیز اور تخیلاتی ڈرامہ بنانے میں مصروف ہیں۔ اس میں ممکن ہے ان کو کیوبا کے خفیہ اداروں کی مدد بھی حاصل ہو۔ وہ یہ سب اس لیے کر رہے ہیں تاکہ وینزویلا کے داخلی مسائل سے توجہ ہٹائی جا سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مدورو اور ان کے حامی جھوٹ بولتے رہے ہیں۔ پیش کیے گئے حقائق پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ ایسے میں مسخ شدہ شواہد کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے فوری طور پر اس پر کوئی بھی ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا۔ تاہم محکمہ خارجہ کے حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر واضح کیا تھا کہ امریکہ اس حملے میں کسی بھی طرح سے ملوث ہونے کی سختی سے تردید کرتا ہے۔

امریکہ نے صدر مدورو کی حکومت کے خاتمے کے لیے سفارتی مہم کے ساتھ ساتھ وینزویلا پر معاشی پابندیاں بھی عائد کی ہوئی ہیں۔

نکولس مدورو 2013 سے ملک کے صدر ہیں وہ ہوگو شاہویز کے انتقال کے بعد صدر بنے تھے۔ وینزویلا میں 2018 میں انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیا جاتا ہے۔ ان انتخابات کے سات ماہ بعد حزب اختلاف کے رہنما جون گوائیڈو نے خود کو ملک کا قائم مقام صدر قرار دیا تھا جب کہ امریکہ سمیت 50 ممالک ان کے حامی ہیں۔

وینزویلا کے صدر نکولس مدورو کی حکومت الزام عائد کرتی ہے کہ امریکہ اس کے تیل کے وسیع ذخائر پر قبضہ کرنے کا خواہاں ہے۔

نکولس مدورو نے وینزویلا میں ہونے والے حالیہ مبینہ حملے میں حزب اختلاف کے رہنما جون گوائیڈو کے ملوث ہونے کا بھی الزام عائد کیا تھا تاہم انہوں نے بھی اس کی تردید کی ہے۔

'اے ایف پی' کے مطابق امریکہ کا محکمہ خارجہ عمومی طور پر بیرون ملک کسی بھی امریکی کی گرفتاری پر اس کی رہائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ تاہم وینزویلا میں گرفتار ہونے والے افراد کے حوالے سے محکمہ خارجہ کے حکام نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔

محکمہ خارجہ کے مطابق امریکہ کی اسپیشل فورسز کے سابق اہلکار جورڈن گوڈریو کے حوالے سے بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

جورڈن گوڈریو ریاست فلوریڈا میں ایک سیکیورٹی کمپنی چلا رہے ہیں۔ ان کی کمپنی اعلانیہ طور پر دعویٰ کرتی ہے کہ وہ وینزویلا میں صدر نکولس مدورو کی حکومت کا خاتمہ چاہتی ہے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکہ کے وینزویلا میں ہونے والے حملے میں ملوث ہونے کی تردید کے بعد وینزویلا کے وزیر اطلاعات جورج روجریگز نے میڈیا کو ایک تصویر دکھائی جس میں جورڈن گوڈریو صدر ٹرمپ کے ہمراہ موجود ہیں۔

جورج روجریگز کا کہنا تھا کہ یہ تصویر نارتھ کیرولائنا میں اکتوبر 2018 میں لی گئی تھی جب کہ گوڈریو کے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر بھی موجود ہے۔

قبل ازیں وینزویلا کے حکام نے ایک ویڈیو بھی دکھائی تھی جس میں جورڈن گوڈریو کہہ رہے تھے وہ نکولس مدورو کے خلاف کارروائی کے لیے کرائے کے سپاہی بھرتی کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG