رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: وفاقی ملازمتوں کے لیے امریکی شہریوں کو ترجیح دینے کا حکم


فائل فوٹو

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وفاقی اداروں میں غیر ملکی ملازمین پر امریکی شہریوں کو ترجیح دینے کے ایک حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ایگزیکٹو آرڈر کی وجہ سے وفاقی اداروں کو پابند کیا جا سکے گا کہ وہ نا منصفانہ طریقے سے امریکیوں کو ملازمتوں سے ہٹا کر کم تنخواہوں پر غیر ملکی ملازمین کو نہ رکھیں۔

پیر کو جاری ہونے والے ایگزیکٹو آرڈر کا اطلاق تمام وفاقی اداروں پر ہو گا اور وہ اپنا انٹرنل آڈٹ مکمل کرنے کے بھی پابند ہوں گے تاکہ یہ پتا لگایا جا سکے کہ وہ مسابقتی عہدوں پر امریکی شہریوں کو ملازمت دے رہے ہیں یا نہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اُنہوں نے یہ حکم ٹینیسی ویلی اتھارٹی (ٹی وی اے) کے حالیہ اقدام کے ردِ عمل میں اٹھایا ہے جس نے ٹیکنالوجی سے متعلق اپنی 20 فی صد ملازمتیں غیر ملکی کمپنیوں کو آؤٹ سورس کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ٹی وی اے نے اس مقصد کے لیے ایچ ون-بی ویزا استعمال کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت امریکی ادارے مخصوص اہلیت کے غیر ملکی شہریوں کو عارضی طور پر ملازمت دے سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ ٹی وی اے ایک وفاقی ادارہ ہے جو 1933 میں قائم ہوا تھا۔ یہ ادارہ ٹینیسی ویلی میں سیلابی صورتِ حال سے بچاؤ کے انتظامات کے علاوہ بجلی کی پیداوار اور ویلی کی اقتصادی بہبود کے لیے کام کرتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ٹی وی اے کے سربراہ اسکپ تھامسن کو بھی برطرف کر دیا ہے کیوں کہ وہ غیر ملکی ملازمین کو بھاری معاوضے پر بھرتی کر رہے تھے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دیگر وفاقی اداروں نے بھی غیر ملکی ملازمین کی بھرتیاں جاری رکھیں تو وہ ایسے اداروں کے نگران بورڈز کے ارکان کی چھٹی کر دیں گے۔

صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ایسے لوگوں کے لیے یہی پیغام ہے کہ "اگر آپ امریکہ کے ملازمین کو دھوکہ دیں گے تو آپ یہ سننے کے لیے تیار رہیں کہ "آپ ملازمت سے فارغ ہیں۔"

صدر ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب وائس آف امریکہ سے وابستہ بعض غیر ملکی صحافی بھی اپنے جے ون ویزا سے متعلق فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں کہ آیا اُن کے ویزا کی تجدید ہو گی یا نہیں۔

وائس آف امریکہ کے نگران ادارے 'یو ایس ایجنسی فار گلوبل میڈیا' (یو ایس اے جی ایم) کے نئے چیف ایگزیکٹو افسر مائیکل پیک نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد ادارے میں کئی تبدیلیاں کی ہیں جن میں ادارے سے منسلک غیر ملکی ملازمین کی ویزوں کی تجدید پر نظرِ ثانی کا اعلان بھی شامل ہے۔

وائس آف امریکہ سے منسلک 62 کنٹریکٹرز اور 14 مستقل ملازمین غیر ملکی ہیں جو امریکہ میں جے ون ویزا پر رہائش پذیر ہیں۔

وائس آف امریکہ نے جب وائٹ ہاؤس سے یہ سوال کیا کہ صدر ٹرمپ کے نئے ایگزیکٹو آرڈر کا وائس آف امریکہ کے اُن ملازمین پر کیا اثر پڑے گا جن کے پاس جے ون ویزا ہے، تو اس پر وائٹ ہاؤس نے وفاقی اداروں میں ملازمت کے مواقع مشتہر کرنے والی ویب سائٹ کا ایک لنک فراہم کرنے پر اکتفا کیا جو غیر ملکی شہریوں کی ملازمت سے متعلق ہے۔

یو ایس اے جی ایم کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملازمین کے ویزوں سے متعلق جائزہ لینے کا مقصد ایجنسی کے انتظام کو بہتر بنانا، امریکہ کی قومی سلامتی کا تحفظ اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ملازمتوں پر بھرتی کے اختیارات کا غلط استعمال نہیں کیا گیا۔

واشنگٹن ڈی سی کے نیشنل پریس کلب اور صحافیوں کی دیگر تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ویزا کی تجدید میں تاخیر کی صورت میں وائس آف امریکہ سے وابستہ کئی صحافیوں کو بحالتِ مجبوری اپنے آبائی ملکوں کو واپس جانا پڑ سکتا ہے جہاں ان میں سے بعض کو قید و بند کی صعوبتیں اٹھانا پڑ سکتی ہیں۔

'یو ایس اے جی ایم' کے دیگر نیٹ ورکس - ریڈیو فری یورپ، ریڈیو لبرٹی، ریڈیو فری ایشیا، دی آفس آف کیوبا براڈکاسٹنگ اور مڈل ایسٹ براڈ کاسٹنگ نیٹ ورکس سے وابستہ کئی غیر ملکی صحافی بھی ویزا پر نظرِ ثانی کے اس عمل سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

یاد رہے کہ کرونا وائرس کے باعث خراب معاشی صورتِ حال کے پیشِ نظر ٹرمپ انتظامیہ نے جے ون ویزا سمیت بعض دیگر اقسام کے ویزوں کے اجرا پر عارضی پابندی عائد کر رکھی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ معاشی بدحالی کے دوران غیر ملکی ورکرز کو امریکہ میں ملازمتیں نہیں دی جانی چاہئیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG