رسائی کے لنکس

logo-print

صدر ٹرمپ سوشل میڈیا ایگزیکٹو آرڈر پر جمعرات کو دستخط کریں گے


فائل فوٹو

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سوشل میڈیا کے اداروں کے حوالے سے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر جمعرات کو دستخط کریں گے۔

وائٹ ہاؤس نے سوشل میڈیا کے اداروں کے حوالے سے ایگزیکٹو آرڈر پر صدر کے دستخط ہونے کی تصدیق کی ہے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ اقدام ایک ایسے موقع پر کیا جا رہا ہے جب سماجی رابطوں کی سائٹ 'ٹوئٹر' نے صدر ٹرمپ کے ٹوئٹ پر 'فیکٹ چیکنگ' کا لیبل لگا دیا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ ٹوئٹ میں دی گئی معلومات غلط بھی ہو سکتی ہیں۔

ٹوئٹر نے صارفین کو ہدایت کی تھی کہ وہ صدر ٹرمپ کی ٹوئٹس میں کہی گئی باتوں پر یقین کرنے سے پہلے معلومات کی درستگی کی تصدیق کر لیں۔

صدر ٹرمپ ٹوئٹر کے اس اقدام سے سخت ناراض ہیں۔ انہوں نے ایک روز قبل ہی سوشل میڈیا ویب سائٹس کو آزادیٔ اظہارِ رائے کو دبانے پر متنبہ کیا تھا۔

بدھ کو صدر ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹس میں کہا تھا کہ "ریپبلکنز محسوس کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز قدامت پسند آوازوں کو مکمل خاموش کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا ہونے سے قبل ہم ان کو سختی سے ریگولیٹ کریں گے یا پھر بند کر دیں گے۔"

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق وائٹ ہاؤس کے حکام نے سوشل میڈیا اداروں سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر کے حوالے سے مزید کسی بھی قسم کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

فیس بک، گوگل اور ایپل کا اس معاملے پر اب تک مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔

خبردار! انٹرنیٹ پر آپ کی نگرانی کی جا رہی ہے
please wait

No media source currently available

0:00 0:04:48 0:00

علاوہ ازیں واشنگٹن میں تین ججز کے پینل پر مشتمل ایک عدالت نے اِس اپیل کو بھی مسترد کر دیا جس میں قدامت پسند اور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے یوٹیوب کی مشہور شخصیت نے الزام عائد کیا تھا کہ گوگل، فیس بک، ٹوئٹر اور ایپل قدامت پسند سیاسی خیالات کو دبانے کی سازش کر رہے ہیں۔

بدھ کو ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جیک ڈورسی کا کہنا تھا کہ کیلی فورنیا کے ڈاک کے ذریعے ووٹ (ووٹ بائے میل) کے منصوبے پر صدر ٹرمپ کی ٹوئٹس سے لوگ گمراہ ہو سکتے تھے جس سے وہ یہ سمجھتے کہ انہیں ووٹ کے لیے خود کو رجسٹر کرانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

خیال رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ٹوئٹر کا بھر پور استعمال کرتے ہیں۔ ٹوئٹر پر ان کے پر فالوورز کی تعداد آٹھ کروڑ سے زائد ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ میل اِن بیلٹس کا طریقۂ کار ووٹرز کو فراڈ کی طرف لے جاتا ہے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا کے اداروں کے خلاف اقدام کی تنبیہ کے بعد ٹوئٹر اور فیس بک کے شیئرز میں گرواٹ شروع ہو گئی تھی۔

ٹوئٹر کی ویب سائٹ پر موجود پالیسی دستاویزات کے مطابق لوگ اس کی سروسز کا استعمال انتخابات میں دخل اندازی یا ساز باز کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔

ٹیکنالوجی کی کمپنیوں پر متواتر غیر مسابقی اقدامات اور صارفین کی پرائیوسی کی خلاف ورزی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ ایپل، گوگل، فیس بک اور ایمیزون کے خلاف امریکہ میں وفاقی اور ریاستی ادارے اور کانگریس کا پینل عدم اعتماد کی تحقیقات کر رہا ہے۔

ٹوئٹر کا فیکٹ چیک

ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کی ٹوئٹ کے ساتھ صارفین کو یہ پیغام ایک نیلے رنگ کے 'ایکسکلے منیشن مارک' کے ذریعے دیا اور ساتھ ہی صارفین کو اس خبر اور معلومات کا لنک بھی فراہم کیا جہاں سے ٹوئٹر نے معلومات کی تصدیق کی تھی۔

ٹوئٹر کا لنک صارف کو جس پیج پر لے جاتا ہے اس پر شہ سرخی میں درج ہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ میل اِن بیلٹس کا طریقۂ کار ووٹرز کو فراڈ کی طرف لے جاتا ہے، ایک کمزور دعویٰ ہے۔

واضح رہے کہ میل اِن بیلٹس ووٹنگ ایسا طریقہ ہے جس میں ووٹر کو گھر پر ہی بیلٹ پیپر فراہم کر دیا جاتا ہے جسے وہ اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے بعد ڈاک کے ذریعے واپس بھیج دیتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میل اِن بیلٹس کے طریقۂ کار پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دھوکہ دہی کے مترادف ہے جس کا نتیجہ دھاندلی زدہ انتخابات کی صورت میں نکلتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG