رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کا ترکی پر رواں ہفتے اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ


امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ترکی پر عائد کی جانے والی پابندیاں تمام تر سرکاری سطح پر بھی ہوں گی اور یہ پابندیاں رواں ہفتے عائد کیے جانے کا امکان ہے۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کی حکومت نے ترک فورسز کی جانب سے شام میں کردوں پر حملوں کے بعد انقرہ پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

امریکی وزارت دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ ترکی کی جارحیت روکنے کے لیے امریکی فوج کی شام میں تعیناتی آپشن نہیں ہے۔ جب کہ صدر ٹرمپ نے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کو اتوار کو کہا ہے کہ شمالی شام سے امریکی فوجیوں کا انخلا شروع کیا جائے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق امریکہ کی جانب سے ترکی پر رواں ہفتے اقتصادی پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ترکی پر عائد کی جانے والی پابندیاں تمام تر سرکاری سطح پر ہوں گی۔

صدر ٹرمپ کا اتوار کو کہنا تھا کہ انہوں نے کانگریس کو سنا ہے جہاں ڈیموکریٹس اور ریپبلکن دونوں جماعتوں سے وابستہ ارکان ترکی پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے بقول، "امریکی محکمہ خزانہ ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ جب کہ ترکی نے کہا ہے کہ فوری طور پر ایسا نہ کیا جائے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔"

صدر ٹرمپ نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ کرد اور ترکی گزشتہ کئی برسوں سے ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ترکی سمجھتا ہے کہ کرد تنظیم 'پی کے کے' دہشت گرد تنظیم ہے۔ ہم صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ اُن کے بقول، یہ ایک ناختم ہونے والی جنگ ہے۔

شام سے فوج کے انخلا کے معاملے پر صدر ٹرمپ تنقید کی زد میں بھی ہیں اور اُن پر الزام ہے کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے شمالی شام سے امریکی فوج کے انخلا کا اعلان کر کے ترکی کو کردوں پر حملہ کرنے کا گرین سگنل دیا ہے۔

یاد رہے کہ شمالی شام میں کرد طویل عرصے سے امریکہ کی سرپرستی میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف لڑ رہے تھے اور انہوں نے شام کے ایک وسیع حصے میں اپنی حکومت قائم کرنے والے جنگجوؤں کو شکست دی تھی۔ تاہم گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ کے فوج کے انخلا کے اعلان کے بعد کرد امریکی صدر کے فیصلے پر نکتہ چینی کر رہے ہیں۔

ادھر کردوں نے شامی حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کرلیا ہے جس کے تحت سرکاری فوجی دستے ترک جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے شمال کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے 'اے پی' کی رپورٹ میں ایک شامی کرد عہدے دار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ روس کے ذریعے طے پانے والے اس معاہدے کے تحت شام کی سرکاری فورسز کردوں کے زیر کنٹرول قصبوں کی طرف جا سکتی ہیں جہاں سے امریکہ اپنے فوجی نکال رہا ہے۔

شام کے شمالی علاقوں میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پیدا ہونے والی صورت حال کے بعد ایک لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ جب کہ موجودہ صورت حال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بند کمرہ اجلاس میں تشویش کا بھی اظہار کیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG