رسائی کے لنکس

وائٹ ہاؤس نے پیر کے روز کہا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ فحش فلم ایکٹریس، اسٹورمی ڈینلیز کی جانب سے لگائے گئے الزام کو درست نہیں سمجھتے کہ اُنھوں نے 2006ء میں مستقبل کے امریکی سربراہ کے ساتھ رات گزاری تھی، اور یہ کہ پانچ سال بعد، اِس تعلق کے بارے میں زبان کھولنے کی صورت میں نتائج بھگتنے کی دھمکی دی گئی تھی۔

ٹرمپ کے ترجمان، راج شاہ نے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ ٹرمپ اس غلط روش میں کسی طور پر ملوث تھے، چونکہ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اُن کے ذاتی وکیل، مائیکل کوہن نے 2016ء کے صدارتی انتخابات سے کچھ ہی عرصہ قبل اپنی جیب سے فحش فلموں کی ایکٹریس کو 130000 ڈالر ادا کیے تھے۔

شاہ نے کہا کہ ’’جھوٹے الزامات کا ہمیشہ عدالت سے باہر ہی تصفیہ ہوتا ہے‘‘۔ اتوار کی رات ’سی بی ایس نیوز شو‘ کے پروگرام ’60 منٹس‘ میں ڈینلیز کا تفصیلی انٹرویو چلایا گیا۔ اخباری نمائندوں نے اس پروگرام سے متعلق ترجمان سے سوال کیے، جس پروگرام کے ناظرین کی ریٹنگ ایک عشرے میں سب سے زیادہ تھی۔

ٹرمپ کے بارے میں شاہ نے کہا کہ ’’اُنھوں نے ہمیشہ اِن الزامات کو مسترد کیا ہے‘‘۔

ترجمان نے کہا کہ 39برس کی ڈینیلز، جن کا اصل نام اسٹیفنی کلفرڈ ہے، ’’متضاد‘‘ بیانات دیتی رہی ہیں، چونکہ وہ کئی بار ٹرمپ کے ساتھ جنسی واقعےکو رد کر چکی ہیں۔ لیکن، ابھی وہ یہ کہ رہی ہیں کہ وہ سچ بول رہی ہیں کہ نیواڈا میں منعقد ہونے والے گاف ٹورنامنٹ کے دوران وہ اُن سے ملی تھیں۔

شاہ نے ڈینلیز کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ 2011ء میں جب وہ اپنی نوزائدہ بیٹی کے ہمراہ لاس ویگاس کے ایک فٹنس کلاس جا رہی تھیں، ایک نامانوس شخص اُن کے پاس آیا اور اُنھیں دھمکی دی۔

ڈینلیز نے صحافی اینڈرسن کوپر کو بتایا کہ ’’ایک شخص میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا کہ ٹرمپ کے معاملے کو بھول جاؤ۔‘‘

اور یہ کہ ’’پھر اُنھوں نے میری بیٹی کی جانب دیکھا اور کہا کہ ’یہ چھوٹی سی خوبصورت بچی ہے۔ یہ شرمناک بات ہوگی اگر اُن کی والدہ کو کچھ ہوجائے‘۔ اور، پھر وہ وہاں سے چلا گیا‘‘۔

ڈینیلز کی کہانی کے بارے میں ابھی تک ٹرمپ نے کوئی براہِ راست بیان نہیں دیا۔

لیکن، اُنھوں نے پیر کے روز ٹوئٹر پر ایک پوسٹ میں بظاہر اس تنازع سے متعلق بات کی ہے۔ ’’اتنی جھوٹی خبریں۔ اتنی زیادہ اور اتنی غیر درست۔ لیکن، اس کے باوجود ہمارا ملک بہتری کی جانب جا رہا ہے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG