رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت، ٹرمپ نے کانگریس کی قراردادیں ویٹو کر دیں


فائل فوٹو

ڈیموکریٹس اور ری پبلکن نے سینیٹ میں مشترکہ طور پر ہتھیاروں کی فروخت رکوانے کے لیے تین قراردادیں منظور کی تھیں جنہیں صدر ٹرمپ نے ویٹو کر دیا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب اِمارات (یو اے ای) کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے سے متعلق کانگریس کی منظور کردہ تین قراردادیں مسترد کر دیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے گزشتہ ماہ ایران کی طرف سے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر خلیج فارس میں دو امریکی اتحادیوں کو آٹھ ارب 10 کروڑ ڈالرز کے ہتھیار فروخت کرنے کی اجازت دی تھی۔

ڈیمو کریٹس اور ری پبلکن ارکان نے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت رکوانے کے لیے رواں ماہ سینیٹ میں تین قراردادیں پیش کی تھیں جو کثرت رائے سے منظور ہو گئی تھیں۔

خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایوان کی طرف سے منظور شدہ ان قراردادوں کو ویٹو کرتے ہوئے سعودی عرب کو ہتھیار فروخت کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے اتحادیوں کو درپیش خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ہتھیاروں کی فروخت روکنے سے امریکہ کے اتحادیوں اور شراکت داروں کو یہ پیغام جائے گا کہ مشکل وقت میں امریکہ ان کے ساتھ نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ کی طرف سے کانگریس کو بائی پاس کرتے ہوئے اتحادیوں کو ہتھیاروں کی فروخت سے قانون ساز خوش نہیں ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کے سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ سے امریکی کانگریس میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔

امریکی قانون ساز سعودی عرب اور یمن کی جنگ میں بڑی تعداد میں ہونے والی عام شہریوں کی ہلاکتوں اور مبینہ سعودی ایجنٹس کے ہاتھوں صحافی جمال خشوگی کے قتل کے باعث سعودی عرب سے خائف ہیں اور اسے ہتھیار بیچنے کی مخالفت کر رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ خارجہ امور کی کمیٹی کے اراکین نے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت پر اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے حکام پر سخت تنقید کی۔

خارجہ کمیٹی کے چیئرمین ایلیٹ اینجل کا کہنا تھا کہ یہ کانگریس کے منہ پر طمانچہ ہے۔

انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ ہتھیاروں کی فروخت آگے بڑھانے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ ایران کی دھمکیوں کو عذر کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG