رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کی جانب سے ایران پر مزید تعزیرات عائد


سپاہ پاسداران انقلاب

امریکہ نے منگل کے روز ایرانی کاروباری اداروں کے ایک نیٹ ورک پر تعزیرات عائد کی ہیں، جس کے لیے اس کا کہنا ہے کہ یہ فوجی طرز پر تربیت یافتہ ایرانی فورس کی مدد کرتے ہیں، جو نیٹ ورک مبینہ طور پر ایران کے طاقتور سپاہ پاسداران انقلاب میں بھرتی کرنے کے لیے کم عمر سپاہیوں کو تربیت فراہم کرکے تعینات کرتا ہے۔

امریکی وزیر مالیات، اسٹیون منوچن نے کہا ہے کہ یہ نیٹ ورک کم از کم 20 کاروباری اداروں پر مشتمل ہے، جو ’بسیج کواپریٹو فاؤنڈیشن‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، اور رازداری میں کام کرتا ہے تاکہ اس کی کثیر ارب ڈالر کی ملکیت اور کنٹرول کے بارے میں کسی کو پتا نہ چلے، اور یہ نیٹ ورک ایران کی کارسازی، کان کنی، دھاتوں اور بینکاری کی صعنتوں سے تعلق رکھتا ہے۔

منوچن نے کہا ہے کہ ’’یہ وسیع نیٹ ورک بسیج کے زیریں ڈھانچے کے لیے رقوم فراہم کرتا ہے، جو درپردہ کم عمر سپاہیوں کی بھرتی، تربیت اور تلقین کے کام سے وابستہ ہے، جن سپاہیوں کو ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب کی ہدایات پر حربی نوعیت کا کام سونپا جاتا ہے‘‘۔

یہ پابندیاں امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف معاشی اقدام کا حصہ ہیں، تاکہ ملک کو دباؤ میں رکھا جائے کہ وہ خطے میں جارحیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی کارروائیاں بند کرے۔

تعزیرات کے تحت امریکیوں پر اس نیٹ ورک یا اس کے ذیلی اداروں کے ساتھ کاروباری لین دین کی روک لگا دی گئی ہے۔ اس اقدام کے تحت امریکی تحویل والے علاقے میں نیٹ ورک کے اثاثے منجمد کردیے گئے ہیں۔

امریکی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ بینک ملت، مہر اقتصاد بینک، مہر اقتصاد ایرانی سرمایہ کاری کمپنی اور پانچ دیگر سرمایہ کاری اداروں پر پابندی لگائی گئی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں ٹریکٹر بنانے والے سب سے بڑے کارخانے، ایران ٹریکٹر منوفیکچرنگ کمپنی؛ اور مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقی خطے کے اسٹیل کے سب سے بڑے ادارے، اصفحان مبارک اسٹیل کمپنی کو بھی ہدف بنایا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG