رسائی کے لنکس

logo-print

خیبر پختونخوا: 24 لاکھ بچے تعلیم سے محروم، قبائلی اضلاع میں 1443 اسکول بند


شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں ایک استاد زمین پر بیٹھے بچوں کی تدریس میں مصروف ہے

خیبر پختونخوا کی تعلیمی صورت حال کے حوالے سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومتی دعوؤں کے برعکس اب بھی صوبے میں پانچ سے 16 سال تک کی عمر کے 24 لاکھ بچے تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صوبے میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں میں 1443 اسکول بند جبکہ طلبہ کے داخلے کی شرح بھی انتہائی کم ہے۔

ایک غیر سرکاری ادارے کی شائع کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے سات قبائلی اضلاع میں 5890 اسکول ہیں جن میں 677157 طلبہ زیر تعلیم ہیں جبکہ ان کی تدریس کے لیے 18621 اساتذہ و غیر تدریسی عملہ خدمات انجام دے رہا ہے۔

اسی طرح صوبے کے پہلے سے موجود 24 اضلاع میں سرکاری نظامِ تعلیم کے تحت 44 لاکھ طلبہ کے لیے 27514 پرائمری مڈل، ہائیر سیکنڈری اور ہائی اسکول ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صرف قبائلی اضلاع میں مختلف اسکولوں میں اساتذہ اور دیگر عملے کے پانچ ہزار اسامیاں بھی خالی ہے۔

حکام کے مطابق خیبر پختونخوا کے پرانے اضلاع میں اساتذہ کی 12 ہزار اسامیوں پر تعیناتی کا سلسلہ جاری ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے تعلیم ضیاء اللہ خان بنگش نے 'وائس آف امریکہ' سے گفتگو میں بتایا کہ قبائلی اضلاع سمیت صوبے بھر میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد اب 18 لاکھ ہے۔ جو تعلیمی سال کے شروع میں 26 لاکھ تھی۔

وزیر ستان کے ایک اسکول کی کلاس
وزیر ستان کے ایک اسکول کی کلاس

اُنہوں نے کہا کہ رواں تعلیمی سال میں لگ بھگ آٹھ لاکھ بچوں کو اسکولوں میں داخل کروایا گیا ہے جو ان کے بقول ماضی کے نسبت بہت زیادہ حوصلہ افزا امر ہے۔

مگر سابق وزیر تعلیم اور صوبائی اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا کہ تحریک انصاف نے برسر اقتدار آتے ہی 800 اسکول بند کردیے جبکہ دیگر حکومتی اقدامات سے اسکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

سردار حسین بابک نے کہا کہ اساتذہ کے بھرتی کے عمل پر اعتراضات سامنے آ رہے ہیں۔ صوبائی اسمبلی میں تعلیم کی قائم کمیٹی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یوں دکھائی دے رہا ہے کہ تعلیم موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔

غیر سرکاری ادارے کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں پرائمری سطح پر داخلے کی شرح 87 فیصد ہے مگر یہ شرح سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری پر 49 فی صد تک گر جاتی ہے۔ جو نشاندہی کرتی ہے کہ اسکولوں میں داخل ہونے والے بچوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم مکمل کرنے سے قبل ہی اسکول چھوڑ دیتی ہے۔

مشیر تعلیم ضیاء اللہ بنگٓش نے کہا کہ صوبے بھر میں اسکولوں میں شرحِ داخلہ کو بڑھانے اور بچوں کو تعلیم مکمل کرنے کے لیے مختلف قسم کے پروگراموں پر عمل درآمد شروع کیا جا رہا ہے۔

حکومتی اقدامات کے حوالے سے انہوں نے مزید بتایا کہ گھروں کے نزدیک اسکولوں کا قیام، پہلے سے موجود اسکولوں میں شام کی کلاسز اور جہاں سرکاری اسکول نہیں وہاں پر غیر سرکاری اسکولوں کے ساتھ مل کر متوسط اور غریب گھرانوں کے بچوں کو تعلیم کی سہولیات فراہم کرنا سرفہرست ہے۔

قبائلی اضلاع میں اکثر اسکول تباہ حال ہیں
قبائلی اضلاع میں اکثر اسکول تباہ حال ہیں

اُنہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں تعلیمی سہولیات عام اور یقینی بنانے کو بھی ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس سال صرف تعلیم کے مد میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے صوبائی بجٹ میں 22 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ صوبائی حکومت نے رواں مالی سال کے لیے مجموعی تحمینہ جات کا کل 20 فیصد یعنی 181 ارب روپے تعلیم کے لیے مختص کیے ہیں مگر ماہرین اور سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس کا بیشتر حصہ غیر تعلیمی اخراجات بشمول تنخواہوں پر صرف ہو جاتا ہے۔

مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا میں حکومتی دعوؤں اور وعدوں کے باوجود شعبہ تعلیم میں خاطر خواہ ترقی نہیں دیکھی جا رہی۔

ضیا اللہ بنگش نے دعویٰ کیا کہ رواں تعلیمی سال میں قبائلی اضلاع میں 70 ہزار بچوں کو اسکول لانے کا ہدف پورا کیا گیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام تعلیمی اداروں میں خالی آسامیوں پر 17 ہزار اساتذہ بھرتی کیے جا رہے ہیں۔ ان میں سے پانچ ہزار اساتذہ کی بھرتی قبائلی اضلاع میں ہو رہی ہے۔ جس سے ان اضلاع کو دہائیوں سے درپیش مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت قبائلی اضلاع میں 1443 اسکولوں میں تدریس نہیں ہو رہی۔ سب سے زیادہ 371 اسکول جنوبی وزیرستان جبکہ 295 شمالی وزیرستان میں بند ہیں۔

قبائلی اضلاع میں بند اسکولوں کے بارے میں وزیراعلیٰ کے مشیر ضیا اللہ بنگش نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک سروے پر کام جاری ہے جس میں سب سے پہلے تباہ اور متاثر ہونے والے اسکولوں کی بحالی ہے جبکہ بعض اسکولوں کے درجے بڑھانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کے دیگر علاقوں کی طرح قبائلی اضلاع کے اسکولوں میں اساتذہ کی آسامیوں کو پُر کرنے اور ان کی حاضری یقینی بنانے سے طلبہ کی حاضری کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔

خیال رہے کہ 10-2009 کی رپورٹس میں قبائلی اضلاع کے اسکولوں میں اساتذہ کی کل تعداد 20709 تھی جو 18-2017 میں کم ہو کر 18621 رہ ہو گئی ہے۔

حکام نے تصدیق کی ہے کہ قبائلی اضلاع کے اسکولوں میں اساتذہ اور دیگر عملے کی پانچ ہزار آسامیاں خالی ہے جس کو پُر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG