رسائی کے لنکس

logo-print

مشال خان قتل کیس: مزید دو ملزمان کو عمر قید


فائل فوٹو

پشاور کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالبِ علم مشال خان کے قتل کے مزید دو ملزمان کو عمر قید کی سزا سنادی ہے۔

عدالت نے جمعرات کو سنائے جانے والے اپنے فیصلے میں دیگر دو ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا ہے۔

عمر قید کی سزا پانے والے ملزمان میں اسد کاٹلنگ اور پاکستان تحریکِ انصاف کے تحصیل کونسلر عارف خان شامل ہیں۔

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج محمود الحسن خٹک نے طرفین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد 12 مارچ کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

جمعرات کو محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا کہ استغاثہ کی طرف سے ٹھوس ثبوت فراہم نہ کرنے پر ملزمان اظہار اللہ عرف جانی اور صابر مایار کو بری کیا جاتا ہے جب کہ دو دیگر ملزمان اسد کاٹلنگ اور عارف کو عمر قید کی سزا دی جاتی ہے۔

فیصلے کے اعلان کے وقت مشال خان کے والد اور ان کے وکلا اور ملزمان کے وکلا بھی عدالت میں موجود تھے۔

جمعرات کو جن ملزمان کے خلاف عدالت نے فیصلہ سنایا ہے انہیں پولیس نے بعد میں اس وقت گرفتار کیا تھا جب دیگر نامزد ملزمان کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع ہوگئی تھی۔ اسی لیے ان چاروں ملزمان پر الگ سے مقدمہ چلایا گیا تھا۔

عبدالولی خان یونیورسٹی کے شعبۂ ابلاغِ عامہ کے طالبِ علم مشال خان کو 13 اپریل 2017ء کو ساتھی طلبہ اور یونیورسٹی ملازمین نے توہینِ مذہب کے الزام میں تشدد کرکے قتل کردیا تھا۔

مشال خان قتل کیس کا سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس (ریٹائرڈ) ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیا تھا۔ مقدمے میں کل 61 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا۔

ایبٹ آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کےحکم پر پہلے گرفتار ہونے والے 57 ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت ہری پور جیل کے احاطے میں کی تھی۔

عدالت نے سماعت مکمل ہونے کے بعد ایک ملزم کو سزائے موت، پانچ کو عمر قید اور 25 کو مختلف ادوار کی قید کی سزائیں سنائی تھیں۔

انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 26 ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا تھا۔ بعد ازاں پشاور ہائی کورٹ کے ابیٹ آباد بینچ نے 25 ملزمان کی قید کی سزائیں معاف کرتے ہوئے انہیں ذاتی مچلکوں کی بنیاد پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد بینچ کے فیصلے کے خلاف مشال خان کے والد اور خیبر پختونخوا کی حکومت نے پشاور ہائی کورٹ میں اپیل بھی دائر کی تھی لیکن ہائی کورٹ نے بھی گزشتہ سال اکتوبر میں دیے گئے فیصلے میں ملزمان کی رہائی کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

جمعرات کو فیصلہ سنائے جانے کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں مشال خان کے والد اقبال خان نے انسدادِ دہشت گردی عدالت کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ دو اہم ملزمان کو تو سزا ہو گئی ہے جب کہ دیگر دو ملزمان کی بریت کے خلاف وہ پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔

سزا یافتہ ملزمان کے وکلا اور اہلِ خانہ نے بھی جمعرات کو دیا جانے والا عدالتی فیصلہ پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG