رسائی کے لنکس

logo-print

بریگزٹ: برطانیہ کی خاتون وزیر بطور احتجاج مستعفی


امبر رڈ۔ (فائل فوٹو)

برطانیہ کی خاتون وزیر برائے ورک اینڈ پینشن امبر رڈ نے بریگزٹ پر وزیر اعظم بورس جانسن کی پالیسیوں پر احتجاج کرتے ہوئے استعفی دے دیا ہے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ ہر صورت ڈیل یا بغیر ڈیل 31 اکتوبر کو یورپی یونین سے الگ ہو جائیں گے۔

برطانوی وزیر اعظم کی اس پالیسی سے ان کی اپنی پارٹی کے اراکین نے اختلاف کیا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ برطانوی پارلیمنٹ میں اکثریت سے محروم ہو گئے تھے۔

بورس جانسن نے بریگزٹ سے متعلق ان کے منصوبے کی مخالفت کرنے والے 21 اراکین کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مستعفی ہونے والی خاتون وزیر امبر رڈ کا کہنا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم کے اقدامات سے لگتا ہے کہ وہ بغیر معاہدے کے یورپی یونین سے الگ ہونا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کنزرویٹو پارٹی کے ان 21 مخلص اراکین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر مستعفی ہو رہی ہیں جو اصولوں پر ڈٹے رہے۔

برطانوی وزیر اعظم بریگزٹ کے معاملے پر شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ (فائل فوٹو)
برطانوی وزیر اعظم بریگزٹ کے معاملے پر شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ (فائل فوٹو)

امبر رڈ نے 2016 میں ہونے والے ریفرنڈم میں یورپی یونین کے ساتھ رہنے کے لیے ووٹ دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل کے پوتے سمیت دیگر اراکین کو پارٹی سے نکالنا جمہوریت اور اخلاقی روایات پر حملہ ہے۔

اس سے قبل برطانوی وزیر اعظم کے سگے بھائی جو جانسن بھی ان کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے معاون وزیر تجارت اور پارلیمان کی رکنیت سے مستعفی ہو گئے تھے۔

خیال رہے کہ تین سال قبل ریفرنڈم کے ذریعے برطانیہ کے یورپی یونین کے انخلا کا معاملہ تاحال التوا کا شکار ہے۔ ریفرنڈم کے فوری بعد اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون مستعفی ہو گئے تھے۔ جب کہ سابق وزیر اعظم تھریسا مے نے تین مرتبہ مجوزہ معاہدہ برطانوی پارلیمان میں پیش کیا جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔ اس معاملے پر تھریسا مے کو بھی مستعفی ہونا پڑا تھا۔

بریگزٹ کے معاملے پر برطانیہ میں وقتاً فوقتاً احتجاج بھی ہوتا رہا ہے۔ (فائل فوٹو)
بریگزٹ کے معاملے پر برطانیہ میں وقتاً فوقتاً احتجاج بھی ہوتا رہا ہے۔ (فائل فوٹو)

برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کی حتمی تاریخ 31 اکتوبر مقرر کی گئی ہے۔ اپوزیشن اراکین برطانوی وزیر اعظم پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اس معاہدے میں مزید تین ماہ کی توسیع کے لیے کوششیں کریں۔

وزیر اعظم بورس جانسن نے 15 اکتوبر کو ملک میں نئے انتخابات کروانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا ہے۔ اس ضمن میں بورس جانسن نے غیر رسمی انتخابی مہم بھی شروع کر دی ہے۔

حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت لیبر پارٹی واضح کر چکی ہے کہ وہ نئے انتخابات کے حق میں نہیں اور وہ یقین دہانی چاہتے ہیں کہ 31 اکتوبر کو برطانیہ معاہدے کے بغیر یورپی یونین سے انخلا نہیں کرے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG