رسائی کے لنکس

logo-print

اقوام متحدہ کی پچہترویں سالگرہ، آئندہ کے چیلنج اور امکانات؟


سال 1945ء میں سان فرانسیسکو میں اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی گئی۔ اس پہلے اجلاس میں 50 ملک شامل تھے۔

اقوام متحدہ کے قیام کو پچہتر سال پورے ہوگئے ہیں۔ اور اس طویل عرصے میں آج کی دنیا پر نگاہ ڈالیں تو وہ اُس وقت کے مقابلے میں، جب عالمی ادارے کا قیام عمل میں آیا تھا، اب کتنی بدل چکی ہے؟

یہ 1945ء کی بات ہے جب سان فرانسیسکو، کیلی فورنیا میں جون کے مہینے میں اقوام متحدہ کے منشور پر دستخط کئے گئے تھے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اس عالمی ادارے کے قیام کا مقصد اس جنگ کے دوران پیش آنے والے ہولناک مظالم اور انسانی مصائب سے بچنا اور ایک ایسا ڈھانچہ ترتیب دینا تھا، جس سے بین الاقوامی تنازعات کو پرامن طور پر حل کیا جاسکے۔

تاہم، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوترس اس جانب توجہ دلاتے ہیں کہ ایسے میں جب عالمی ادارہ اپنی پچہترویں سالگرہ منا رہا ہے، پورا کرہ ارض شورش اور مختلف النوع مسائل سے دوچار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کووڈ نائٹین سے لے کر ماحولیات کا مسئلہ ہو یا نسلی انصاف یا بڑھتی ہوئی عدم مساوات کا معاملہ ہو، ہماری آج کی دنیا میں ایک انتشار کی کیفیت ہے۔ ہمارے لئے مشترکہ چیلنج یہ ہے کہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم سنجیدہ اقدامات کریں۔

اقوام متحدہ میں وائس آف امریکہ کی نامہ نگار، مارگریٹ بشیر نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی بڑی بانی قوتیں مثلاً برطانیہ، چین، روس اور امریکہ بظاہر اقوام متحدہ کے ایک بنیادی اصول یعنی کثیر فریقی تصور سے ہٹتی جارہی ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں دیکھنے میں آرہی ہے جب چھوٹے ممالک کثیر الجہتی کے اصول کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ آج کے بہت سے مسائل کثیر جہتی کے اصول کی بنیاد پر ہی حل کیے جاسکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ اور عالمی صحت جیسے معاملات جو آج ہمیں درپیش ہیں، وہ صرف بین الاقوامی تعاون سے ہی حل کئے جا سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ آج کی دنیا میں کثیر جہتی کے اصول کا مزید پختہ ہونا وقت کی ضرورت ہے۔

اقوام متحده نے اپنے قیام کے بعد سے بتدریج اپنا دائرہ وسیع کیا ہے اور اس میں امن فوج اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیوں سے تنوع پیدا کیا ہے۔ اس وقت عالمی ادارہ 83 ملکوں میں آٹھ کروڑ ستر لاکھ لوگوں کو خوراک مہیا کر رہا ہے، جبکہ دنیا میں بچوں کی نصف آبادی کو ٹیکے لگانے کی سہولت مہیا کی جا رہی ہے اور 13 ملکوں میں تقریبا ایک لاکھ امن فوج متعین کی گئی ہے۔

دوسری جانب ناقدین کہتے ہیں کہ عالمی ادارہ ایک اور جنگ عظیم سے اجتناب میں مدد دے رہا ہے، اسے دنیا کے ہر حصے میں تنازعات کو حل کرنے میں بے حد تگ و دو کا سامنا رہا ہے اور بہت سے تنازعات اپنی جگہ موجود ہیں۔

اقوام متحدہ میں امریکہ کے سابق سفیر جون بولٹن کا کہنا ہے کہ گو کہ انسانی ہمدردی کا کام کرنے والی ایجنسیوں نے بہت اچھی کارکردگی دکھائی ہے، لیکن سیاسی سطح پر عالمی ادارے نے توقع کے مطابق کارگزاری کا مظاہرہ نہیں کیا۔

ماہرین کے مطابق ایک اور سنگین مسئلہ جو منہ کھولے کھڑا ہے وہ آنے والے عشروں میں موسمیاتی تبدیلی کا ہے۔ تجزیہ کار موجودہ کووڈ نانٹین کے مسئلے کی جانب بھی توجہ دلاتے ہیں۔ ادارے کے لئے ایک اور بڑا چیلنج اس کے طاقتور ارکان کے درمیان توازن اور تعاون جاری رکھنے کا ہے۔

بعض عہدیداروں کی نگاہ میں چین کا عروج اور اس کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ بھی دوسرے رکن ملکوں کے لئے تشویش کا سبب بن رہا ہے۔ ایک اور اہم مسئلہ اقوام متحدہ کے لئے مالی مشکلات کا ہے جو ماہرین کے خیال میں امن، سیکورٹی اور عالمی صحت جیسے شعبوں کے لئے سنگین نتائج کا پیش خیمہ ہوسکتی ہیں۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی تناظر میں اقوام متحدہ کو اپنے اصولوں کی سربلندی کے لئے تمام 193 ارکان کے درمیان مفاہمت، اور اتحاد کے علاوہ سیاسی عزم کی بھی ضرورت ہوگی، اور عالمی ادارے کے ایوانوں میں محض بیان بازی اور تقریروں سے مقصد کا حصول ایک سراب ہی ثابت ہوگا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG