رسائی کے لنکس

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل ارکان کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟


فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ نے بدھ کو سلامتی کونسل کے لیے چار غیر مستقل ارکان کو منتخب کیا ہے جن میں بھارت، میکسیکو، آئرلینڈ اور ناروے شامل ہیں۔ مطلوبہ اکثریت نہ ملنے پر پانچویں غیر مستقل رکن کا انتخاب نہیں ہو سکا جس کے لیے دوبارہ ووٹنگ ہو گی۔

امریکہ، برطانیہ، روس، چین اور فرانس سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہیں جب کہ سلامتی کونسل کے 10 غیر مستقل اراکین ہوتے ہیں جن میں سے پانچ کا انتخاب ہر سال دو سال کی مدت کے لیے کیا جاتا ہے۔

غیر مستقل نشستوں کو دنیا کے پانچ علاقائی گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں پانچ غیر مستقل ممالک افریقہ اور ایشیا کی ریاستوں سے، ایک یورپین یونین سے جب کہ دو، دو ملک لاطینی امریکہ اور مغربی یورپ سمیت دیگر ریاستوں سے منتخب ہوتے ہیں۔

سلامتی کونسل کا رکن منتخب ہونے کے لیے امیدوار ملکوں کو کاسٹ کیے گئے ووٹوں میں سے دو تہائی ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر جنرل اسمبلی کے تمام 193 رکن ممالک ووٹ دیں تو کونسل کا رکن منتخب ہونے کے لیے 128 ملکوں کی حمایت ضروری ہو گی۔ انتخابات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہوتے ہیں جب کہ خفیہ رائے شماری سے غیر مستقل ارکان کا انتخاب ہوتا ہے۔

اجلاس میں چار ارکان منتخب کر لیے گئے جب کہ افریقہ کی مختص ایک نشست کے لیے جبوتی اور کینیا دونوں میں سے کوئی بھی ملک دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کر سکا۔

بھارت ایشیا پیسیفک کی نشست سے بلامقابلہ منتخب ہوا ہے جب کہ اس وقت ایشیا پیسیفک کی نشست انڈونیشیا کے پاس ہے جو رواں برس دسمبر میں خالی ہو گی۔

دو برس کی مدت پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہونے والا رکن ملک فوراً دوبارہ انتخاب لڑنے کا اہل نہیں ہوتا ہے۔

پاکستان 2024 میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی نشست کے لیے انتخاب میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتا ہے جس کے لیے اس کی لابنگ جاری ہے۔

اس سے قبل پاکستان سات بار کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہو چکا ہے۔ آخری مرتبہ پاکستان 13-2012 میں منتخب ہوا تھا۔ پہلی مرتبہ پاکستان کا انتخاب 53-1952 میں کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 69-1968، 77-1976، 84-1983، 94-1993 اور پھر 04-2003 میں پاکستان سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا تھا۔

بھارت ایک بار پھر 17 جون کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا ہے اسے 184 رکن ممالک کی حمایت حاصل رہی۔

نیو یارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھارت سمیت میکسیکو، آئرلینڈ اور ناروے کو خفیہ رائے شماری کے ذریعے دو سال کے لیے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب کیا ہے۔

البتہ کینیڈا کو اس انتخاب میں ناروے اور آئرلینڈ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جو کہ مغربی ممالک کی نشست حاصل کرنا چاہتا تھا۔

افریقی ممالک کی نشست پر کوئی امیدوار بھی مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کرسکا جس کے بعد اس نشست پر دوبارہ انتخاب ہوگا۔

افریقہ کی نشست کے لیے جبوتی اور کینیا امیدوار تھے تاہم جبوتی کو 78 جب کہ کینیا کو 113 ووٹ مل سکے۔

سلامتی کونسل کیا ہے ؟

سلامتی کونسل اقوامِ متحدہ کے چھ کلیدی اداروں میں سب سے اہم ادارہ ہے جس کے قیام کا بنیادی مقصد بین الاقوامی امن اور دنیا بھر کی اقوام کے مابین تنازعات کے سیاسی حل کو یقینی بنانا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، روس، چین اور فرانس سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہیں۔

سلامتی کونسل کو یہ اختیارات حاصل ہیں کہ وہ دنیا بھر میں بد امنی کے شکار ممالک میں امن مشن بھجوانے سمیت کسی بھی ملک پر پابندیاں عائد کرسکتی ہے۔ یہ عالمی ادارہ فوجی کارروائی کے لیے قراردادیں منظور کرنے کا بھی اختیار رکھتا ہے۔

جموں و کشمیر کے تنازع سمیت دنیا کے کئی دیگر ملکوں کے مابین تنازعات بھی سیکیورٹی کونسل کے ایجنڈے میں ہیں۔

بھارت جنوری 2021 سے دسمبر 2022 تک سلامتی کونسل میں غیر مستقل رکن کے طور پر موجود ہو گا۔ خیال رہے کہ چین سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین میں شامل ہے جسے ویٹو کا اختیار حاصل ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان اور چین نے بھارت کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پر حمایت کی تھی اور اسی وجہ سے بھارت بلامقابلہ ایشیا پیسفک سے منتخب ہوا ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی چند روز قبل یہ کہا تھا کہ بھارت سات مرتبہ پہلے بھی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن رہ چکا ہے اور اس کے دوبارہ ممبر بننے سے کوئی قیامت نہیں آئے گی۔

شاہ محمود قریشی کے بقول بھارت بطور سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کے کشمیر کے مسئلے پر زیادہ اثر انداز نہیں ہوسکے گا۔

بھارت ایک عرصے سے سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کے لیے اقوام متحدہ میں لابنگ کر رہا ہے جس کے لیے اسے سلامتی کونسل کے بعض مستقل اراکین کی حمایت بھی حاصل ہے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا کے کہ بھارت سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے حصول کی اپنی کوششوں میں اپنے حالیہ بلامقابلہ انتخاب سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

پاکستان کی حمایت اور پھر مخالفت

پاکستان نے بھارت کے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے منتخب ہونے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کے چارٹر کی خلاف ورزی کرنے والے ملک کا غیر مستقل رکن منتخب ہونا بنیادی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر ممالک کے انتخاب پر انہیں مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت سلامتی کونسل کے چارٹر اور قراردادوں کی صریح خلاف ورزی کرتا آ رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر میں کشمیریوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنا سیکیورٹی کونسل کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

دفترِ خارجہ کے مطابق جموں و کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کی تفصیلی رپورٹ موجود ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG