رسائی کے لنکس

شدت پسندی کے خلاف لڑائی، ساتھ ہی ’جہاد یونیورسٹی‘ کو سرکاری رقوم کی فراہمی


دارالعلوم حقانیہ (فائل)

پاکستان کی نام نہاد ’جہاد یونیورسٹی‘ کے سربراہ وہ شخص ہیں جو اپنے آپ کو ’’بابائے طالبان‘‘ کہلواتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ دنیا کے زیادہ تر بدنام دہشت گرد اُسی تعلیمی ادارے کے فارغ التحصیل ہیں۔

افغان سرحد سے ملحق کشیدگی کے شکار صوبہٴ خیبر پختون خواہ کی حکومت کی جانب سے ادارے کو لاکھوں ڈالر کی امداد ملتی ہے، حالانکہ وفاقی حکومت شدت پسندی سے نبردآزما ہونے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

’دارالعلوم حقانیہ‘ کا دینی مدرسہ، جو شمال مغربی پاکستان میں اکوڑا خٹک کے مقام پر واقع ہے، قدامت پسند اسلام کی تعلیمات اور افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسندوں کی ایک نسل کو تعلیم دینے کا شہرہ رکھتی ہے، جو پاکستانی طالبان کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔

حقانیہ کے وسیع و عریض کیمپس میں سفید ٹوپیاں پہنے داڑھی والے تقریباً 3000 نوجوان مرد تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جو خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت، پشاور سے تقریباً 50کلومیٹر پر واقع ہے، جو مقام اسلام آباد کے قومی دارالحکومت کے مغرب میں 90 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یوں، یہ ادارہ دنیا میں اسلامی تعلیم کے سب سے بڑے تعلیمی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ ’ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی‘ کے نمائندے، فرود بزحان نے اپنے رپورٹ میں بتایا ہے کہ جیسا کہ تعلیم سے وابستہ کسی اسلامی ادارے سے توقع کی جاتی ہے یہاں طالب علم قرآن حفظ کرتے ہیں، شریعہ کے قانون اور پیغمبر اسلام کی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں۔

لیکن، مدرسے کی تعلیمات کی جڑیں سنی دیوبندی تحریک سے جا کر ملتی ہیں، جو بھارت میں 19 صدی کے اواخر میں برطانوی سامراج کے خلاف منظر عام پر آئی۔ یہ تحریک وابستہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ پُرتشدد جہاد میں حصہ لیں، جس کے نتیجے میں مدرسے کو بُری شہرت حاصل ہے۔

بیلفاسٹ میں واقع ’کوئینز یونیورسٹی‘ میں افغانستان اور پاکستان سے متعلق ماہر، مائیکل سیمپل نے کہا ہے کہ ’’فیکلٹی، طالب علم اور مدرسے سے فارغ التحصیل افراد کا متعدد شدت پسند گروپوں سے قریبی تعلق ہے‘‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’شاید افغان طالبان کے اس سے سب سے زیادہ روابط ہیں، جو باقاعدہ طور پر نوجوان گریجوئیٹس کی بھرتی کرتے ہیں‘‘۔

مائیکل سیمپل نے کہا کہ ’’یہ کوئی خاص مخفی سرگرمی نہیں ہے۔ ’بلو چپ‘ کے انداز میں بھرتی کی جاتی ہے، جس کے لیے کمپنیاں ’گریجوئیٹ بھرتیوں کے میلے‘ منعقد کرتی ہیں‘‘۔

پُرتشدد کارروائیوں کی تاریخ

مدرسے کے بدنام ترین فارغ التحصیل افراد میں افغان طالبان کے طویل عرصے تک سربراہ رہنے والا، ملا محمد عمر شامل ہے، جو 2015ء میں پاکستان میں ہلاک ہوا؛ اور جلال الدین حقانی، جو پاکستان میں قائم حقانی نیٹ ورک کے سربراہ ہیں، جو افغان طالبان کا اتحادی ہے۔

عاصم عمر، القاعدہ کے جنوبی ایشیا کے دھڑے کے سربراہ ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُنھوں نے ’دارالعلوم حقانیہ‘ سے تعلیم حاصل کی ہے۔ پاکستان کے روزنامہ ’ڈان‘ نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ سنہ 2007 میں سابق پاکستانی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کےدو مشتبہ قاتلوں کا تعلق بھی اِسی مدرسے سے تھا۔ حقانیہ نے اِس دعوے کی تردید کی ہے۔

مدرسے کے سربراہ، سمیع الحق ہیں، جنھوں نے گذشتہ ہفتے پاکستان کی سینیٹ کی رکنیت کے حصول کی ناکام کوشش کی۔ وہ ’دارالعلوم حقانیہ‘ کے افغان طالبان کے ساتھ روابط کو چھپاتے نہیں ہیں۔ اَسی برس کے دینی عالم ’’بابائے طالبان‘‘ کے لقب پر فخر کرتے ہیں۔ اُنھوں نے 2009ء میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اُن کے شاگردوں کو چاہیئے کہ وہ افغانستان میں امریکی افواج کے خلاف صف آرا ہوں۔ اُن کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ملا عمر ایک ’’فرشتہ‘‘ اور اُن کا فخریہ شاگرد تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مدرسے کی بنیاد سنہ 1947 میں اُن کے والد نے ڈالی، جس سال پاکستان نے برطانوی راج سے آزادی حاصل کی۔ ادارے نے دو جِلدوں پر مشتمل دستاویزات شائع کی ہیں، جن میں ’’افغان جہاد‘‘ میں اپنے کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ سنہ 1979 سے 1989ء تک، افغان سویت لڑائی کے دوران، مدرسے کو لاکھوں ڈالر کی رقوم میسر آئیں، جہاں سے لڑائی کے لیے ہزاروں عسکریت پسند تیار ہوئے۔ اُسی دور میں اس مدرسے نے شہرت حاصل کی اور اسلام نواز گروہوں کی بھرتی کا ایک زرخیز میدان بن کر نمودار ہوا۔

پاکستانی صحافی اور طالبان سے متعلق ماہر، رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا ہے کہ ’’اس مدرسے (مذہبی اسکول) کے متعدد طالب علم افغانستان اور پاکستان میں لڑ چکے ہیں؛ جب کہ دونوں افغان اور پاکستانی طالبان کے حلقوں میں بھی شامل رہے ہیں‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’ادارے کے تمام کے تمام طالب علم لڑنے کے لیے نہیں جاتے، لیکن اِن میں سے زیادہ بنیاد پرست شدت پسند گروہوں میں شامل ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ اِن گروپوں کے اعلیٰ راہنما تک بن جاتے ہیں‘‘۔

یوسف زئی نے کہا کہ ’دارالعلوم حقانیہ‘ دہشت گردوں کی تربیت گاہ نہیں ہے، لیکن یہاں سے تعلیم حاصل کرنے والے، نئے گریجوئیٹ طالب علموں کے لیے ایک مضبوط مثال کی مانند ہوتے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ مدرسہ اِس بیانیے کو بھی بڑھاوا دیتا ہے جو پاکستان میں نمایاں مثال بنتا ہے، وہ یہ کہ مغرب کی جانب سے اسلام پر حملہ کیا جا رہا ہے۔

لاکھوں روپے کی سرکاری امداد

کئی برسوں سے، پاکستان نے اُن دینی اسکولوں کے خلاف سخت کارروائی کا عہد کر رکھا ہے جو پُرتشدد انتہا پسندی کا درس دیتے ہیں اور داخلی اور بیرونی اسلام نواز شدت پسند گروپوں کو بھرتی کرنے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

لیکن، قدامت پسند مدارس، جیسا کہ ’دارالعلوم حقانیہ‘ کھلے عام کام کرتے ہیں، جب کہ اُنھیں سرکاری رقوم میسر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، فروری میں، صوبہٴ خیبر پختونخواہ کی حکومت نے مدرسے کو 25 لاکھ ڈالر فراہم کیے، تاکہ متنازع ادارے کو ’’قومی دھارے‘‘ میں لایا جا سکے۔ حزب مخالف کے سیاست داں، عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 2017ء میں بھی ’دارالعلوم حقانیہ‘ کو سرکاری فنڈ میں سے 27 لاکھ ڈالر کی امداد فراہم کی تھی۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ رقوم مدرسے کے کیمپس کو وسعت دینے اور اس کی تزئیں پر خرچ ہوں گی، ناکہ تعلیمات کو جدید کرنے یا تبدیل کرنے کے لیے استعمال ہوں گی۔

پاکستانی سیاست دانوں نے قدامت پسند ’پی ٹی آئی‘ کے اس فیصلے پر تنقید کی ہے، جس کے سخت گیر اسلامی سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

’پاکستان پیپلز پارٹی‘ کے سربراہ، بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ یہ ’’قابل شرم‘‘ بات ہے؛ جب کہ قوم پرست پارٹی، ’ولسی تحریک‘ کے صدر، سید عالم محسود نے کہا ہے کہ یہ ’’اقدام‘‘ ثابت کرتا ہے کہ حکومت ’’انتہاپسند عناصر کی حمایت کرتی ہے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG