رسائی کے لنکس

logo-print

نیویارک: اردو کانفرنس کا اختتام، عملی اقدام کرنے پر زور


ماہرین لسانیات ایک ایسی زبان پر کام کر رہے ہیں جس میں ہر زبان کے مشترکہ الفاظ شامل ہوں, نئی تشکیل پانے والی یہ زبان چند برسوں میں منظر عام پر آنے کی توقع ہے۔ اس بات کا انکشاف نیویارک یونیورسٹی میں جاری تین روزہ عالمی اردو کانفرنس کے دوران ایک مقالے میں کیا گیا

ماہرین لسانیات دنیا کی اہم ترین اور مقبول عام زبانوں کے اشتراک سے ایک نئی زبان کی تشکیل پر کام کر رہے ہیں، تاکہ عوامی سطح پر ابلاغ میں حائل خلیج کو ختم کرکے دنیا میں امن و امان کی سلامتی کو یقینی بنایا جاسکے۔

اس بات کا انکشاف نیویارک یونیورسٹی میں جاری سہ روزہ عالمی اردو کانفرنس کے دوران، کولمبیا یونیورسٹی نیویارک میں جدید زبانوں کے شعبہ کے پروفیسر فرن پریشل نے اپنے مقالے میں کیا۔

پروفیسر فرن پریشل کا کہنا تھا کہ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کے درمیان تنازعات میں بڑا عمل دخل ایک دوسرے کو نہ سمجھنا ہے۔ اور عوامی سطح پر قومیں ایک دوسرے کی زبان اور ثقافت کو سمجھے بغیر قریب نہیں آسکتیں۔ اس لئے ماہرین لسانیات ایک ایسی زبان پر کام کر رہے ہیں جس میں ہر زبان کے مشترکہ الفاظ شامل ہوں, نئی تشکیل پانے والی یہ زبان چند برسوں میں منظر عام پر آنے کی توقع ہے۔

کانفرنس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے ماہرین لسانیات اور اردو زبان کے دانشوروں نے مقالات پیش کئے اور دنیا بھر میں اردو زبان کی اہمیت اور اس کی ترقی کے لئے کئے گئے کاموں پر روشنی ڈالی۔

مشی گن یونیورسٹی میں ساؤتھ ایشن لیٹریچر ڈپارٹمنٹ کے پروفیسر سئین پوو نے اردو شاعری میں کمپیوٹر کے استعمال کے موضوع پر مقابلہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ دنیا بھر میں ترقی یافتہ قومیں تمام بڑی زبانوں کی کوڈنگ اور ڈی کوڈنگ کر رہی ہیں، تاکہ وہ مختلف ممالک کے باشندوں کی سوچ کا حقیقی تجزیہ کر سکیں۔

نیویارک یونیورسٹی میں شعبہ جنوبی ایشیا کی سربراہ اور پروگرام کی رابطہ کار گبیریلا نے اردو کے فروغ کے لئے میری لینڈ یونیورسٹی کے مالی تعاون سے جاری پروگرام ’اسٹار ٹاک‘ ‘کے بارے میں بتایا کہ اس کا مقصد اردو کمیونٹی کو متحرک کرنا ہے اس مقصد کے لئے امریکہ میں رائج اس زبان کا انتخاب کیا گیا ہے جو مروجہ معیار پر پوری اترتی ہو۔

کانفرنس میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے دانشوروں نے اردو شاعری اور ادب کا تحقیقی جائزہ پیش کیا اور بتایا کہ اردو ہندی کی اہمیت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ تقریبا تمام ہی امریکی یونیورسٹیوں نے جنوبی ایشیاء پر الگ شعبہ قائم کر لیا ہے، جہاں اردو ہندی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ تاہم، ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو اور ہندی میں موجود فرق کو سمجھا جائے اور اس پر الگ تحقیق کی جائے۔

تین روزہ کانفرنس کے اختتام پر، اردو زبان کی اہمیت کا اعتراف کیا گیا اور اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ یہ کانفرنس ہر سال نیویارک یونیورسٹی میں منعقد کی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG