رسائی کے لنکس

logo-print

ڈرون بین الاقوامی فضائی حدود میں پرواز کر رہا تھا: امریکہ


ایران نے ایک امریکی ڈرون مار گرایا ہے، جس واقعے کے بارے میں ایرانی اہلکاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ایرانی علاقے میں پرواز کر رہا تھا۔ لیکن، امریکی حکام نے بتایا ہے کہ یہ بین الاقوامی فضائی حدود میں پرواز کر رہا تھا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان، کپتان بِل اربن نے جمعرات کو بتایا کہ ڈرون کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے ایرانی میزائل سے گرایا گیا، اور یہ ڈرون امریکی بحریہ کا سمندری علاقے پر جاسوس طیارہ تھا جو آبنائے ہرمز پر بین الاقوامی فضائی حدود پر پرواز کر رہا تھا۔

ترجمان نے اسے ’’بغیر کسی اشتعال کے، نگرانی پر مامور ایک امریکی اثاثے پر حملہ‘‘ قرار دیا ہے۔

ترجمان نے کہا ہے کہ بغیر پائلٹ کا یہ طیارہ بحری اور ساحلی علاقوں سے متعلق خفیہ معلومات اکٹھی کرنے، نگرانی اور جاسوسی کے مشن پر مامور رہتا ہے۔

ادھر، ایرانی دعوے کے مطابق، یہ ڈرون نیم فوجی پاسدارانِ انقلاب کے محافظوں نے آبنائے ہرمز کے قریب، ملک کے جنوبی صوبہ ہرمزگان کی فضائی حدود میں مار گرایا۔

امریکی فوج نے کہا ہے کہ ایران نے گذشتہ ہفتے ایک امریکی ڈرون مار گرانے کی کوشش کی تھی اور جب سے خطے میں آئل ٹینکروں پر حملے ہوئے ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ ان حملوں کا الزام ایران پر دیتا ہے، جب کہ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے یہ حملے نہیں کیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG