رسائی کے لنکس

logo-print

ڈینئل پرل قتل کیس: سندھ حکومت نے سپریم کورٹ میں نظرِ ثانی درخواست دائر کر دی


فائل فوٹو

امریکہ کے صحافی ڈینئل پرل کے قتل کیس میں ملزمان کی رہائی سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف سندھ حکومت نے سپریم کورٹ میں نظرثانی اپیل دائر کر دی ہے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے جمعے کو دائر کی گئی نظرِ ثانی درخواست میں عدالتِ عظمیٰ سے فیصلے پر نظرِ ثانی کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست میں حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ متعلقہ حکام کی طرف سے دیے گئے بعض اہم ثبوتوں کو نظر انداز کیا گیا۔ ملزمان دہشت گردی کی سنگین واردات میں ملوث ہیں۔ لہذا عدالت اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے۔

سپریم کورٹ نے جمعرات کو ڈینئل پرل قتل کیس کے چاروں ملزمان احمد عمر شیخ، فہد نسیم، سلمان ثاقب اور محمد عادل کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم بینچ میں شامل ایک جج جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے ملزمان کو بری کرنے کے فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔

دوسری جانب​ امریکی وزیرخارجہ اینٹنی بلنکن نے جمعے کے روز پاکستان میں اپنے ہم منصب شاہ محمود قریشی سے فون پر اس بارے میں گفتگو کی کہ کس طرح سزا یافتہ دہشت گرد احمد عمر سعید شیخ اور دوسروں کو ایک امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا اور قتل کا ذمہ دار ٹہرانے کو یقینی بنایا جائے۔ بلنکن نے پاکستانی سپریم کورٹ کے فیصلے اور مذکورہ قیدیوں کی ممکنہ رہائی پر امریکی تشویش کا اعادہ کیا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے خطے کے امن اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور افغان امن عمل میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان جاری تعاون کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔

اس سے قبل امریکہ نے ڈینئل پرل قتل کیس کے ملزمان کی رہائی سے متعلق عدالتی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کیس کے مرکزی ملزم احمد عمر سعید شیخ کے خلاف اپنے ملک میں مقدمہ چلانے کے لیے تیار ہے۔

امریکہ کے محکمۂ خارجہ نے پاکستان کی حکومت سے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ اعلیٰ عدالت کے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے ایسے تمام قانونی راستے اختیار کرے گی جس سے انصاف کا حصول ممکن ہو۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے جمعرات کو ڈینئل پرل قتل کیس کے مرکزی ملزم احمد عمر شیخ اور دیگر ملزمان کی رہائی سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے تمام ملزمان کی فوری رہائی کا حکم دیا تھا۔

امریکہ کے محکمۂ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ احمد عمر سعید شیخ کو رہا کرنے ​کا فیصلہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں، کہیں بھی دہشت گردی کا شکار بننے والے افراد کی دل آزاری کا باعث ہے۔

بیان میں اس توقع کا اظہار کیا گیا ہے کہ پاکستان انصاف کو یقینی بنانے کے لیے تمام قانونی آپشنز کا جائزہ لے گا۔

​محکمۂ خارجہ نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ احمد عمر سعید شیخ امریکہ میں سال 2002 میں یرغمال بنانے اور یرغمال بنانے کی سازش کرنے کی فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے جس کے نتیجے میں وال اسٹریٹ جرنل کے صحافی ڈینئل پرل قتل ہوئے تھے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق 1994 میں بھارت میں ایک اور امریکی شہری کو اغوا کرنے کی فردِ جرم بھی عمر سعید شیخ پر ہے۔

​امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے جمعے کو اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ اُنہیں پاکستان کی اعلیٰ عدالت کے فیصلے پر شدید تحفظات ہیں اور ہم ڈینئل پرل کے خاندان کے لیے انصاف کے حصول اور دہشت گردوں کے احتساب کے لیے پرعزم ہیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے بیان کے مطابق واشنگٹن عمر شیخ کو جوابدہ ٹھہرانے کے پاکستان کے ماضی کے اقدامات کا معترف ہے اور اب بھی توقع رکھتا ہے کہ فیصلے پر نظر ثانی چاہے گا جیسا کہ اٹارنی جنرل نے اپنے بیان میں کہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے اٹارنی جنرل کے دفتر کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے جمعرات کے فیصلے کے بعد وفاقی حکومت سندھ کی صوبائی حکومت سے رابطے میں ہے۔

ترجمان کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی اپیل کے لیے وفاقی حکومت، سندھ حکومت کو مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے اور تمام قانونی آپشنز اختیار کیے جا رہے ہیں۔

کیا احمد عمر شیخ کو امریکہ منتقل کیا جا سکتا ہے؟​

امریکہ کے قائم مقام اٹارنی جنرل مونٹی ولکنسن نے اپنے ایک بیان میں ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ امریکہ احمد عمر شیخ کو اپنی تحویل میں لے کر اُن کے خلاف امریکہ میں زیرِ التوا الزامات کے تحت مقدمہ چلانے کے لیے تیار ہے۔

بین الاقوامی قانون کے ماہر احمر بلال صوفی کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ میں جو مقدمہ اور اس میں جو الزام احمد عمر شیخ پر ہے، اگر اس کے تحت یہ مقدمہ پاکستان کی سپریم کورٹ تک پہنچا تو پھر ملزم کو امریکہ منتقل کرنے کے معاملے کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

اُن کے بقول بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کی بعض قراردادوں کے مطابق دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے حکومتیں ایک دوسرے سے تعاون کر سکتی ہیں۔

احمر بلال صوفی کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان ہی اس بارے میں فیصلہ کرنے کی مجاز ہے کہ آیا کسی ملزم کو امریکہ کے حوالے کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

وزیر خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ "ہم پاکستان کے اٹارنی جنرل کے بیان سے بھی آگاہ ہیں جس میں انہوں نے عدالتی فیصلے کو تبدیل کرانے کے لیے نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے کا ارداہ رکھتے ہیں۔"

امریکہ کے محکمۂ انصاف نے گزشتہ برس دسمبر میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکہ احمد عمر شیخ کو تحویل میں لینے اور اُن کے خلاف امریکہ میں مقدمہ چلانے کے لیے تیار ہے۔

امریکہ کے قائم مقام اٹارنی جنرل جیفری اے روزن کا کہنا تھا کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ پاکستان میں حکام نے سپریم کورٹ میں احمد عمر شیخ اور اس کے ساتھیوں کی رہائی کے خلاف اپیل دائر کر کے اُنہیں جیل ہی میں رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

ڈینئل پرل قتل کیس کیا ہے؟

امریکہ کے اخبار 'وال اسٹریٹ جرنل' سے وابستہ صحافی ڈینئل پرل کو کراچی میں جنوری 2002 میں اغوا کیا گیا اور بعد ازاں انہیں قتل کر دیا گیا تھا۔

اس کیس میں پولیس نے چار ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ان میں سے تین ملزمان فہد نسیم، شیخ عادل اور سلمان ثاقب کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جب کہ مرکزی ملزم احمد عمر سعید شیخ کو قتل اور اغوا کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی۔

ڈینئل پرل کس اسٹوری پر کام کر رہے تھے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:56 0:00

چاروں ملزمان نے سندھ ہائی کورٹ میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی تھی جب کہ استغاثہ کی جانب سے مجرموں کی سزاؤں میں اضافے کی درخواست دائر کی گئی تھی۔

تاہم اس کیس میں اپیل پر فیصلہ آنے میں 18 برس کا عرصہ لگ گیا۔ کیوں کہ ملزمان کے وکلا نہ ہونے کی وجہ سے اپیلوں کی سماعت تقریباً 10 برس تک بغیر کارروائی کے ملتوی ہوتی رہی۔

سندھ ہائی کورٹ نے چار فروری 2020 کو 18 سال بعد اپیل پر فیصلہ سنایا تھا جس میں عدالت نے مقدمے میں گرفتار تین ملزمان کو بری جب کہ مرکزی ملزم کی سزائے موت کو سات سال قید میں تبدیل کرنے کا حکم دیا تھا۔

ملزم احمد عمر شیخ 18 برس سے جیل میں قید ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG