رسائی کے لنکس

ڈینئل پرل کیس: کیا ملزمان عدالتی حکم کے باوجود رہا ہو سکیں گے؟


فائل فوٹو

امریکہ کے محکمۂ خارجہ نے کراچی میں 2002 میں قتل ہونے والے امریکی صحافی ڈینئل پرل کیس میں گرفتار ملزمان کی رہائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ایک بیان میں کہا ہے کہ اسے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے دہشت گردوں کی رہائی سے متعلق دیے گئے حکم پر تشویش ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ کو یہ یقین دلایا گیا تھا کہ یہ ملزمان رہا ہونے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ تاہم امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ کیس اب بھی چل رہا ہے اور وہ اس کیس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

تاہم دوسری جانب ملزمان کے وکلا کا دعویٰ ہے کہ حکومت کے پاس اب ان کی رہائی روکنے کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔

امریکی اخبار 'وال سٹریٹ جنرل' سے وابستہ صحافی ڈینئل پرل کے قتل کیس میں نظر بند رہنے والے ملزمان کے وکیل بیرسٹر محمود اے شیخ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے شیڈول چار کے تحت نظر بندی کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور ان کی نظر بندی کی کوئی جائز وجہ دکھائی نہیں دیتی۔

'آئین کسی بھی شخص کو بلاجواز گرفتار رکھنے کی اجازت نہیں دیتا'

بیرسٹر محمود اے شیخ کا کہنا تھا کہ پاکستان کا آئین کسی شخص کو بلاجواز حراست میں رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ بلکہ آئین اس بات کا بھی حکم دیتا ہے کہ اگر کسی شخص کو طویل عرصے تک نظر بند رکھنا ہے تو تین ماہ کے اندر اندر حکومت کو ایک نظر ثانی بورڈ سے رجوع کرنا ہو گا۔ جس میں صوبائی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، تین موجودہ یا ریٹائرڈ ججز کو نامزد کریں گے اور ان سے رائے حاصل کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے اس پر بھی عمل درآمد نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح عدالت میں حکومت نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ افراد ملک دشمن ہیں، لیکن حکومت عدالت میں اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکی۔ ان کے مؤکل پاکستانی شہری ہیں۔ جن کے خلاف سوائے ڈینئل پرل کیس میں ملوث ہونے کے ایک الزام کے علاوہ کوئی اور الزام نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس الزام میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے انہیں سزا سنائی تھی۔ مگر ہائی کورٹ نے چار میں سے تین افراد کو ان الزامات سے عدم شواہد کی بنا پر بری کر دیا ہے۔ جب کہ ایک ملزم کو اغوا کے کیس میں سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ جو وہ بہت پہلے ہی پوری کر چکا ہے۔

ان کے بقول یہی وجہ ہے کہ عدالت نے ملزمان کو نظر بند رکھنے کے تمام سرکاری احکامات کو غیر قانونی اور غیر مؤثر قرار دے دیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ عدالت نے ملزمان کو کسی بھی طرح ہراساں کرنے سے روک دیا ہے۔

'حکومت کے پاس راستے اب بھی موجود ہیں'

دوسری جانب بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس ملزمان کو جیل میں رکھنے کے لیے مزید کئی راستے اب بھی موجود ہیں۔

ان کے بقول ان میں سے ایک ملزمان کی کسٹڈی ایک صوبے کی جیل سے دوسرے صوبے کی جیل منتقل کرنا بھی شامل ہے۔

ڈینئل پرل کس اسٹوری پر کام کر رہے تھے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:56 0:00

فوجداری مقدمات کے مشہور وکیل بیرسٹر خواجہ نوید احمد نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ان افراد کو رہا کرنے سے بچنے کے لیے حکومت انہیں صوبہ سندھ کی جیل سے کسی دوسرے صوبے کی جیل منتقل کر سکتی ہے۔ وہاں کی صوبائی حکومت ایک بار پھر نقصِ امن کی دفعات کے تحت ان کی گرفتاری جاری رکھ سکتی ہے۔

ان کے بقول اگرچہ اس کا مقصد عدالتی احکامات کی تعمیل سے بچنا ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار سندھ تک ہے، اس لیے حکومت کے پاس یہ راستہ موجود ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اگر حکومت واقعی ان افراد کو رہا کرنا نہیں چاہتی تو ممکن ہے کہ وہ انہیں کسی اور مقدمے میں اب گرفتار کر لے۔

اس سوال پر کہ کیا ایسی گرفتاری اتنے سال جیل میں رہنے کے بعد بھی ممکن ہو سکتی ہے اور کیا اس پر ملزمان کے انسانی حقوق متاثر نہیں ہوں گے، تو ان کا کہنا تھا کہ بد قسمتی سے پاکستان میں اکثر ملزمان کو گرفتار رکھنے کے لیے ایسے حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔

عدالتی فیصلے کے باوجود ملزمان کی فوری رہائی ممکن ہے؟

دوسری جانب حکام نے ملزمان کی فوری رہائی کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔

سندھ حکومت کے پراسیکیوٹر جنرل بیرسٹر فیض شاہ نے وائس آف امریکہ کے سوال پر مختصر جواب دیتے ہوئے بتایا کہ ڈینئل پرل کیس میں ملزمان کی رہائی کے خلاف سپریم کورٹ میں جاری اپیل کی شنوائی تک ملزمان کو جیل ہی میں رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایسا سپریم کورٹ کے اس کے متعلق اکتوبر میں دیے گئے ایک حکم کے تحت ممکن ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ ان ملزمان کو اس وقت تک جیل میں قید رکھا جائے گا جب تک سپریم کورٹ ان ملزمان کی رہائی کے خلاف سندھ حکومت کی اپیل پر فیصلہ سنا نہیں دیتی۔

ان ملزمان میں سے احمد عمر شیخ پاکستانی نژاد برطانوی شہری تھے۔ جو لندن اسکول آف اکنامکس سے تعلیم یافتہ تھے۔ (فائل فوٹو)
ان ملزمان میں سے احمد عمر شیخ پاکستانی نژاد برطانوی شہری تھے۔ جو لندن اسکول آف اکنامکس سے تعلیم یافتہ تھے۔ (فائل فوٹو)

واضح رہے کہ سندھ حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے رواں سال دیے گئے اُس فیصلے کو چیلنج کر ر کھا ہے۔ جس میں ڈینئل پرل کیس میں ملوث چاروں ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ان میں سے تین کے خلاف کوئی ثبوت نہیں مل سکے۔ جب کہ ایک کو اغوا کے کیس میں سزا پوری کرنے کے بعد رہا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ میں اس اپیل کی مزید سماعت پانچ جنوری کو ہو گی۔

واضح رہے کہ جمعرات کو سندھ ہائی کورٹ نے ڈینئل پرل قتل کیس میں گرفتار ملزمان کی نظر بندی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

کیس میں گرفتار افراد میں احمد عمر شیخ، فہد نسیم، محمد عادل شیخ اور سلمان ثاقب شامل ہیں۔ جن میں سے تین کراچی سینٹرل جیل اور سلمان ثاقب سکھر جیل میں قید ہے۔

ان ملزمان میں سے احمد عمر شیخ پاکستانی نژاد برطانوی شہری تھے۔ جو لندن اسکول آف اکنامکس سے تعلیم یافتہ تھے۔ جب کہ فہد نسیم، سلمان ثاقب اور عادل شیخ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر ڈینئل پرل کی وہ تصاویر اپ لوڈ کی تھیں، جس میں وہ زنجیروں میں بندھے ہوئے تھے۔

دوسری جانب امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس مشکل کی گھڑی میں ڈینئل پرل کے خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG