رسائی کے لنکس

ڈینئل پرل قتل کیس: امریکہ احمد عمر سعید شیخ پر مقدمہ چلانے کے لیے تیار


فائل فوٹو

پاکستان میں امریکی صحافی ڈینئل پرل کے قتل کیس میں گرفتار ملزم کے حوالے سے ​امریکہ کے محکمۂ انصاف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ احمد عمر سعید شیخ کو تحویل میں لینے اور اُن کے خلاف امریکہ میں مقدمہ چلانے کے لیے تیار ہے۔

امریکہ کے قائم مقام اٹارنی جنرل جیفری اے روزن نے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ پاکستان میں حکام نے سپریم کورٹ میں احمد عمر سعید شیخ اور اس کے ساتھیوں کی رہائی کے خلاف اپیل دائر کر کے انہیں جیل ہی میں رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

قائم مقام اٹارنی جنرل نے احمد عمر سعید شیخ کی رہائی کے حکم کو چیلنج کرنے پر پاکستانی حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ملزمان کو جواب دہ بنایا جا سکے گا۔ اگر یہ کوشش کامیاب نہیں ہوتی۔ تو امریکہ احمد عمر سعید شیخ کو تحویل میں لینے اور اس کے خلاف مقدمہ اپنی سر زمین پر چلانے کے لیے تیار ہے۔

قائم مقام اٹارنی جنرل کے مطابق احمد عمر سعید شیخ کو ڈینئل پرل کے اغوا اور قتل میں کردار پر انصاف کے کٹہرے سے بچنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

کیا احمد عمر سعید شیخ کو امریکہ منتقل کرکے مقدمہ چلایا جا سکتا ہے؟

امریکہ کی اس پیش کش پر اگرچہ ابھی پاکستان کے حکام کا کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔ لیکن ماہرینِ قانون اس پر شکوک و شبہات ظاہر کر رہے ہیں۔

پاکستان کی سپریم کورٹ کے سینئر وکیل شوکت حیات ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ اگر کسی ملک کا پاکستان سے تحویلِ ملزمان کا معاہدہ موجود ہے تو جس ملک کو کوئی ملزم مطلوب ہے، وہ دوسرے ملک کو اس کے جرم میں ملوث ہونے سے متعلق مواد بھیجے گا۔ اور ملزم کو حوالے کرنے سے متعلق درخواست کرے گا۔

ان کے مطابق اس مواد کا مشاہدہ اس ملک کی کوئی عدالت کرے گی اور یہ دیکھے گی کہ ثبوت ٹھیک ہیں اور اس قدر ہیں کہ ملزم کو دوسرے ملک کے حوالے کیا جائے تو ہی اس عمل کی اجازت دی جائے گی۔

ڈینئل پرل کس اسٹوری پر کام کر رہے تھے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:56 0:00

لیکن پاکستان کا آئین اور قوانین امریکہ سے تحویل ملزمان کے کسی معاہدے کی عدم موجودگی میں ان کی منتقلی کی اجازت نہیں دیتا۔

شوکت حیات ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 13 کسی بھی ملزم کے خلاف ایک ہی الزام پر دو بار مقدمہ چلانے اور سزا دینے سے بھی روکتا ہے۔ جب کہ یہ عمل بنیادی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہو گی۔

شوکت حیات ایڈووکیٹ کے مطابق ڈینئل پرل کیس میں ملزمان پہلے ہی 18 سال سے جیل میں ہیں۔ اور ان میں سے ایک ہی ملزم کے خلاف الزام ثابت ہوا۔ جب کہ باقی تین ملزمان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ملزمان کو دوبارہ ٹرائل کے لیے امریکہ کے حوالے کیا جاتا ہے تو اس سے افراتفری ہو سکتی ہے۔ ایسے تو امریکہ افغانستان، ویت نام اور عراق جیسے ممالک میں مارے گئے فوجیوں اور شہریوں کے ملزمان کے ٹرائل کے لیے امریکہ کی تحویل میں دینے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ اور ایسے ہی دوسرے ممالک بھی ایسے ہی مطالبات کر سکتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ کوئی بہتر توجیہہ نہیں ہو سکتی۔

ڈینئل پرل کیس: ملزمان کی عدم رہائی پر توہینِ عدالت کی درخواست دائر​

امریکی صحافی ڈینئل پرل قتل کیس میں سندھ ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود ملزمان کی عدم رہائی پر جیل انتظامیہ کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے 24 دسمبر کو جاری کیے گئے واضح احکامات کے باوجود بھی ڈینئل پرل کیس میں 18 سال سے قید ملزمان کو رہا نہیں کیا گیا۔ ان میں سے ایک ملزم احمد عمر سعید شیخ کو عدالت نے اغوا کا جرم ثابت ہونے پر سات سال قید، جب کہ دیگر تین ملزمان کو عدم ثبوت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

ملزمان کے وکیل ندیم آذر ایڈووکیٹ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حکومت اور جیل انتظامیہ کی جانب سے عدالتی احکامات کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے قوانین کو بھی ملحوظِ خاطر نہیں رکھا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس اب ملزمان کو مزید قید رکھنے کا کوئی راستہ نہیں ہے اور اب ان کی رہائی یقینی ہے۔ کیوں کہ ان پر اس کے علاوہ مزید کوئی کیس یا الزام نہیں ہے۔

دوسری جانب صوبائی حکومت کے پراسیکیوٹر جنرل بیرسٹر فیض شاہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا تھا کہ ڈینئل پرل کیس میں ملزمان کی رہائی کے خلاف سپریم کورٹ میں جاری اپیل کی شنوائی تک ملزمان کو جیل ہی میں رکھا جائے گا۔

صوبائی حکومت اس حوالے سے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا حوالہ دیتی ہے جس میں ملزمان کو جیل ہی میں رکھنے کا حکم دیا تھا۔

ایک جانب سندھ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس فیصلے کے تحت ملزمان کو اس وقت تک جیل میں قید رکھا جائے گا جب تک سپریم کورٹ ان ملزمان کی رہائی کے خلاف سندھ حکومت کی اپیل پر فیصلہ سنا نہیں دیتی۔ تو دوسری جانب ملزمان کے وکلا کا مؤقف ہے کہ یہ حکم صرف ایک سماعت سے دوسری سماعت کے لیے عبوری طور پر دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے دوبارہ ایسا کوئی حکم نہیں دیا۔ اس لیے اب اس حکم کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

سپریم کورٹ میں اس کیس میں سندھ حکومت کی اپیل کی سماعت پانچ جنوری کو چھٹیوں کے بعد دوبارہ سے شروع ہو رہی ہے۔

کیس کا پس منظر کیا ہے؟

امریکہ کے اخبار 'وال اسٹریٹ جرنل'سے وابستہ صحافی ڈینئل پرل کو کراچی میں جنوری 2002 میں اغوا کیا گیا تھا جن کی لاش مئی 2002 میں برآمد ہوئی تھی۔

اس کیس میں پولیس نے چار ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ان میں سے تین ملزمان فہد نسیم، شیخ عادل اور سلمان ثاقب کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جب کہ مرکزی ملزم احمد عمر سعید شیخ کو قتل اور اغوا کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

چاروں ملزمان نے سندھ ہائی کورٹ میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ جب کہ استغاثہ کی جانب سے مجرموں کی سزاؤں میں اضافے کی درخواست دائر کی گئی تھی۔

تاہم اس کیس میں اپیل پر فیصلہ آنے میں 18 برس کا عرصہ لگ گیا کیوں کہ ملزمان کے وکلا نہ ہونے کی وجہ سے اپیلوں کی سماعت تقریباً 10 برس تک بغیر کارروائی کے ملتوی ہوتی رہی۔

سندھ ہائی کورٹ نے 4 فروری 2020 کو 18 سال بعد اپیل پر فیصلہ سنایا تھا جس میں عدالت نے مقدمے میں گرفتار تین ملزمان کو بری جب کہ مرکزی ملزم کی سزائے موت کو سات سال قید میں تبدیل کرنے کا حکم دیا تھا۔

ملزم احمد عمر سعید شیخ 18 برس سے جیل میں ہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG