رسائی کے لنکس

logo-print

ایوانِ نمائندگان میں صدر کو ایران پر حملے سے روکنے کی قرارداد منظور


امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ (فائل فوٹو)

امریکی ایوانِ نمائندگان نے بدھ کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیارات میں کمی کرتے ہوئے انہیں ایران پر حملے سے روکنے کی قرارداد حتمی طور پر منظور کر لی ہے۔

یہ قرارداد تقریباً ایک ماہ قبل امریکی سینیٹ سے بھی منظور ہو چکی ہے۔ سینیٹ میں صدر ٹرمپ کی اپنی جماعت ری پبلکن پارٹی کی اکثریت ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق بدھ کو ڈیمو کریٹک اکثریتی ایوان یعنی ایوانِ نمائندگان نے بھی اس قرارداد کے حق میں 227 ووٹ دے کر اسے منظور کر لیا ہے جب کہ مخالفت میں 186 ووٹ دیے گئے۔

مذکورہ قرارداد کے تحت ایوانِ نمائندگان کی منظوری کے بغیر امریکی صدر ایران پر فوجی حملہ نہیں کر سکتے۔ البتہ صدر ٹرمپ کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ اس قرارداد کو ویٹو کر سکتے ہیں۔

ڈیموکریٹ پارٹی کے سینیٹر ٹم کین نے یہ قرارداد ایوان میں پیش کی تھی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ اگر صدر ٹرمپ طویل جنگوں کو روکنے کے اپنے وعدے پر سنجیدگی سے قائم ہیں تو وہ اس قرارداد پر دستخط کر کے اسے قانون بنا دیں گے۔

اگر قرارداد قانون بن جاتی ہے تو امریکی صدور کو ایران پر حملے کا اختیار صرف اس صورت میں حاصل ہو گا اگر ایران کی طرف سے کوئی فوری خطرہ موجود ہو۔

خیال رہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان میں اس قرارداد پر ووٹنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب رائے شماری سے کچھ ہی دیر قبل عراق میں امریکہ کے فوجی اڈے پر راکٹ فائر کیے گئے تھے۔ حملے میں ایک امریکی فوجی اور ایک برطانوی فوجی سمیت تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ اسی طرز کا ایک حملہ گزشتہ سال دسمبر میں بھی ہوا تھا جس میں ایک امریکی کانٹریکٹر ہلاک ہوا تھا۔ جس کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ امریکہ نے حملے کا الزام ایران نواز عراقی شیعہ ملیشیا پر لگایا تھا۔

اس واقعے کے کچھ ہی دن بعد تین جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سب سے طاقتور جنرل اور قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی پر اس وقت ڈرون حملے کا حکم دیا تھا جب وہ عراق میں موجود تھے۔ بغداد ایئر پورٹ کے نزدیک امریکی ڈرون حملے میں قاسم سلیمانی ہلاک ہو گئے تھے۔

کانگریس میں منظور ہونے والی قراردادوں کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ یہ یقین دہانی چاہتے ہیں کہ کسی بھی جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہو جو امریکی آئین میں بھی کہا گیا ہے۔

کانگریس کے ایک ڈیمو کریٹ رکن اسٹینی ہوئیر نے کہا کہ دنیا میں ایسے بہت سے ممالک ہیں جہاں فیصلے کا اختیار صرف ایک شخص کے پاس ہوتا ہے۔ لیکن انہیں آمر کہا جاتا ہے۔ ہمارے آباؤ اجداد یہ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی آمر امریکہ کا نظامِ حکومت چلائے۔

دوسری جانب قرارداد پر ری پبلکن رکن مائیک میکال نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس قرارداد کی جگہ قاسم سلیمانی کی ہلاکت کو سراہنے کی قرارداد پیش کی جانی چاہیے تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے دشمن بھی یہ بحث دیکھ رہے ہوں گے۔ انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ آپ اگر امریکیوں کو قتل کریں گے تو آپ کو اس کی قیمت چکانی ہو گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG