رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کا امریکہ کے 2 فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ


ایران نے عراق میں بیلسٹک میزائلوں سے امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ (فائل فوٹو)

ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں عراق میں امریکہ کے دو فوجی اڈوں پر میزائل داغے ہیں۔ تاہم اس حملے میں ہونے والے نقصانات کی تفصیلات اب تک سامنے نہیں آئی ہیں۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ایران نے بدھ کی علی الصباح عراق میں امریکہ کے دو فوجی اڈوں عین الاسد اور اربیل میں امریکی تنصیب کو ایک درجن سے زائد بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب فورس نے تصدیق کی ہے کہ بدھ کی صبح کی جانے والی کارروائی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں کی گئی ہے۔

ایران کے حملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ایران نے عراق میں دو فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے لیکن سب ٹھیک ہے۔

اُن کے بقول، ایرانی حملے میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے اور اس حوالے سے وہ مکمل بیان بدھ کو جاری کریں گے۔

یاد رہے کہ امریکہ نے تین جنوری کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے میں ایرانی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور ایرانی ملیشیا کتائب حزب اللہ کے لیڈر مہدی المھندس کو نشانہ بنایا تھا۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جنرل سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا۔

ایران کے حملے کی اطلاع ملتے ہی امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو اور وزیرِ دفاع مارک ایسپر صدر کی رہائش گاہ وائٹ ہاؤس پہنچے۔ اس موقع پر ایرانی حملے کے بعد کی صورت حال پر مشاورت کی گئی۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ترجمان جوناتھن ہف مین نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران نے عین الاسد ایئر بیس اور اربیل میں ایک تنصیب پر حملہ کیا ہے۔ معاملے کو دیکھا جا رہا ہے اور صورت حال کو دیکھتے ہوئے جواب دیا جائے گا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ہم اپنے فوجیوں اور خطے میں اتحادیوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔

ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ ایران نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع میں کارروائی کی ہے۔ ہم کشیدگی یا جنگ نہیں چاہتے لیکن اگر جارحیت کی گئی تو بھرپور دفاع کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اسٹیفن گریشم کے مطابق ایران نے جس ایئر بیس کو نشانہ بنایا وہاں صدر ٹرمپ نے دسمبر 2018 میں دورہ کیا تھا۔

ترجمان کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایرانی حملے سے متعلق بریفنگ دی جا چکی ہے اور وہ تمام صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

اتحادی ممالک کا ردِعمل

عراق میں امریکہ کے اتحادی برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لیںڈ، عراق، پولینڈ، ڈنمارک، ناروے اور دیگر ملکوں کا کہنا ہے کہ ایرانی حملے میں ان کے فوجی محفوظ رہے ہیں۔

برطانوی وزیر خارجہ ڈومنک ریب نے ایرانی حملے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ اس طرح کے خطرناک اقدامات سے باز رہے اور فوری طور پر کشیدگی کا خاتمہ یقینی بنائے۔

عراق کی فوج نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ الاسد ایئر بیس اور اربیل میں بدھ کی صبح تقریباً پونے دو بجے ایران نے 22 میزائل داغے جن میں سے 17 میزائل الاسد ایئربیس کے قریب جب کہ پانچ اربیل میں اتحادی افواج کے ہیڈکوارٹر کے قریب گرے۔

عراقی فوج کے مطابق ان میزائل حملوں میں عراق کے کسی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔

پولینڈ کی وزارت دفاع سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بدھ کو ہونے والے حملے میں پولینڈ کا کوئی فوجی زخمی نہیں ہوا۔ ہم عراق میں پولش کمانڈر سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم اسکاٹ موریسن کا کہنا ہے کہ عراق میں ان کے ملک کے تمام فوجی اور سفارتی عملہ محفوظ ہے۔ عراق میں آسٹریلیا کے تقریباً 300 فوجی تعینات ہیں۔

نیوزی لینڈ کے قائم مقام وزیر اعظم ونسٹن پیٹر کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کے تمام فوجی محفوظ ہیں۔ ان کے بقول نیوزی لینڈ کے 50 فوجی عراق میں تعینات ہیں جن میں سے بیشتر کیمپ تاجی میں ہیں جو ایران کے میزائل حملوں کے نشانہ پر نہیں تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG