رسائی کے لنکس

logo-print

کیلی فورنیا: دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج مقدمہ خارج


حامد حیات، فائل فوٹو

کیلی فورنیا کے شہر سیکریمنٹو میں جمعے کو وکلائے استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ وہ حامد حیات کے خلاف الزامات کی مزید پیروی کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

حامد حیات کے خلاف القاعدہ کے مبینہ سلیپر سیل سے منسلک ہونے کا الزام تھا، اور وہ گزشتہ 14 برسوں سے قید میں تھے۔ ایک سال قبل کیلی فورنیا کی ایک عدالت نے ان کو دی جانے والی سزا مسترد کر دی تھی۔

گیارہ ستمبر 2001ء کے امریکہ پر دہشت گرد حملوں کے بعد یہ مقدمہ خاصی شہرت اختیار کر گیا تھا۔

ان پر دہشت گردوں کو مادی اعانت فراہم کرنے اور ایف بی آئی کے ایجنٹوں سے دروغ گوئی کا الزام تھا۔ ان پر یہ بھی الزام تھا کہ انھوں نے پاکستان میں ایک دہشت گرد کیمپ میں تربیت حاصل کی تھی اور امریکہ کے خلاف حملے کی منصوبہ بندی میں شریک تھے، جن الزامات پر انھیں 2006 میں قید کی سزا دی گئی تھی۔

گزشتہ اگست میں نظرثانی کی ایک اپیل پر جج نے فیصلہ دیا تھا کہ حامد حیات بے گناہ ہے، جسے مقدمے میں صفائی کا مناسب موقعہ فراہم نہیں کیا گیا۔

وکلائے استغاثہ کو فیصلے کے خلاف اپیل یا دوبارہ مقدمہ چلائے جانے کا اختیار حاصل تھا، لیکن انھوں نے جمعے کو عدالت میں ایک مختصر تحریک پیش کی جس میں استدعا کی گئی کہ وہ کیس کو خارج کرنے کے حق میں ہیں۔

حامد حیات پاکستانی نژاد ہیں۔ وہ کیلی فورنیا کی وسطی وادی میں زراعت سے وابستہ تھے۔ نصف سزا کاٹنے کے بعد انھیں گزشتہ اگست میں رہا کیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG