رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: امیگریشن اصلاحات سے متعلق مجوزہ قوانین سینیٹ میں مسترد


بلوں کے تجویز اور تائید کنندہ امریکی سینیٹرز مجوزہ قوانین پر صحافیوں کو بریفنگ دے رہے ہیں۔

ان دونوں بِلز کے حق میں 100 رکنی سینیٹ میں صرف 39 ووٹ آئے جس پر وائٹ ہاؤس نے سخت برہمی ظاہر کی ہے۔

امریکی سینیٹ نے امیگریشن نظام میں اصلاحات سے متعلق وہ چاروں بِل مسترد کردیے ہیں جن پر ایوان میں رواں ہفتے بحث ہوتی رہی تھی۔

چاروں بِلز کا مقصد ان لاکھوں نوجوان تارکینِ وطن کو تحفظ فراہم کرنا تھا جو اپنے والدین کے ہمراہ غیر قانونی طریقے سے امریکہ آئے تھے اور جن کے امریکہ میں قیام کی اجازت پانچ مارچ کو ختم ہورہی ہے۔

جمعرات کی شب ہونے والی رائے شماری میں ایوان نے جن چار مجوزہ قوانین کو مسترد کیا ہے ان میں سے دو 16 ڈیموکریٹ اور ری پبلکن ارکان نے مشترکہ طور پر پیش کیے تھے۔

ان میں سے ایک مجوزہ قانون ان نوجوان تارکینِ وطن کو کئی برسوں پر مشتمل طریقۂ کار کے تحت امریکی شہریت دینے سے متعلق تھا جب کہ دوسرے میں صدر ٹرمپ کی جانب سے سے تجویز کردہ سخت بارڈر کنٹرول اور ان شہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے فنڈ مختص کرنے کی تجاویز شامل تھیں جو غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کارروائی میں وفاقی اداروں کے ساتھ تعاون سے انکار کریں۔

ان دونوں بِلز کے حق میں 100 رکنی سینیٹ میں صرف 39 ووٹ آئے جس پر وائٹ ہاؤس نے سخت برہمی ظاہر کی ہے۔

جمعرات کی شب جاری کیے جانے والے ایک بیان میں وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ سینیٹ کے ڈیموکریٹ ارکان نے نوجوان تارکینِ وطن کو شہریت دینے کی پیشکش صرف اس لیے مسترد کردی کیوں کہ مجوزہ قانون میں امریکی سرحدوں کی نگرانی سخت کرنے اور امیگریشن نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی بات بھی کی گئی تھی۔

امریکی حکام کے مطابق بچپن میں غیر قانونی راستے سے اپنے والدین کے ہمراہ امریکہ آنے والے نوجوان تارکینِ وطن کی تعداد لگ بھگ آٹھ لاکھ ہے جنہیں صدر اوباما کے دور میں منظور کیے جانے والے ایک قانون کے تحت امریکہ میں تعلیم اور روزگار کے حصول کی عارضی اجازت دی گئی تھی۔

تاہم صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال یہ قانون واپس لے لیا تھا اور اس کی منسوخی کے لیے پانچ مارچ کی تاریخ مقرر کی تھی۔ اگر اس سے قبل کانگریس نے کوئی نیا قانون منظور نہ کیا تو ان نوجوانوں کو امریکہ سے بے دخلی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG